برائڈ ٹو بی (Bride to be) طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
15 September,2026
حسبِ معمول ہم ہسپتال روڈ سے آگے کتپنا گرائن لیک کی طرف چہل قدمی کر رہے تھے کہ نظر پڑی، دو جگہوں پر جوان لڑکیاں ہاتھوں میں کیک لیے جمع تھیں۔
ان کے باریک، رنگ برنگے ملبوسات یقیناً دیکھنے والوں کی توجّہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ خیر، ہم آگے بڑھے تو ایک اور گروہ سے سامنا ہوا۔ یہ شاید ایک اور ٹولی تھی جو یہاں “برائڈ ٹو بی” (Bride to be) پارٹی منانے آئی تھی۔ میں نے اپنے دوست سے پوچھا: “بھئی! یہ کیسی رسم چلی ہے؟ جہاں خواتین ہزاروں کی تعداد میں بازاروں، میدانوں اور جھیلوں کے کناروں پر طرح طرح کی پارٹیاں منانے لگی ہیں؟ سچ کہوں تو میں یہ سب پہلی دفعہ دیکھ رہا ہوں۔” دوست نے مسکرا کر جواب دیا: “ارے سر ! آپ کو اپنی کتابوں اور کمرے کی چار دیواری سے فرصت ملے تو کچھ دیکھ پائیں گے نا!”
“یہ رسم پہلے انڈین ڈراموں میں ہوتی تھی، پھر وہاں سے پاکستانی ڈراموں میں منتقل ہوئی۔ اس کے بعد ہماری لڑکیوں نے سوچا کہ وہ کیوں پیچھے رہیں؟ چنانچہ پہلے یہ سلسلہ گھروں اور محلے کی سطح سے شروع ہوا، پھر بڑے ہوٹلوں تک پہنچا اور اب ان میدانوں اور کھلی جگہوں پر بھی جاری ہے۔”
میں نے معصومیت سے سوال کیا: “کیا مرد حضرات بھی ایسا کچھ کرتے ہیں؟ مطلب… ‘گروم ٹو بی’ (Groom to be) یا شوہر ٹو بی وغیرہ؟”
وہ زور سے ہنس پڑے اور بولے: “کیا طہٰ صاحب! یہ شوہر ٹو بی کیا ہوتا ہے؟ آپ بھی عجیب باتیں کرتے ہیں!”
میں نے تعجب سے دوبارہ پوچھا: “یار! میرے کہنے کا مطلب تھا کہ کیا لڑکے اور ان کے دوست اس قسم کی رسومات انجام نہیں دیتے؟”
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا: “ارے سر! لڑکے اس معاملے میں بڑے کنجوس ہوتے ہیں، وہ یہ خرچے کہاں کریں گے! بس اگر کوئی بہت قریبی دوست ہو تو واٹس ایپ سٹیٹس پر مبارکباد دے دیتے ہیں، ورنہ بڑی مشکل سے دوست کے ‘الحمد للہ’ والے سٹیٹس پر ایک عدد ‘مبارک ہو’ لکھ کر فرض پورا کر لیتے ہیں۔”
میں نے پوچھا: “اس سب پر کتنا خرچ آ جاتا ہوگا؟”
وہ ہنس کر بولے: “کل ہی ہمارے ہوٹل میں کچھ سہیلیوں کا گروہ صرف فوٹوگرافی کرنے آیا تھا۔ کچھ خاص کھایا پیایا بھی نہیں، لیکن آپس کی بات ہے،47 ہزار کا بل ادا کر کے گئیں!”
یار، اتنی تو میری سیلری بھی نہیں بنتی ۔ وہ ہنس کر کہا ، اسی لیے مرد ، گروم ٹو بی، نہیں مناتے ۔
ہاہاہا ۔
“اچھا! اور بتاؤ، اس ‘برائڈ ٹو بی’ میں اور کیا کیا ہوتا ہے؟”
دوست نے جواب دیا: “ارے سر! پوری فلم بنتی ہے۔ پروفیشنل کیمرہ مین ہوتا ہے، شوٹنگ ہوتی ہے، اور دوستوں کے ساتھ کھلے بالوں کے ساتھ سیلفیاں لی جاتی ہیں۔ پھر ان تمام تصاویر اور ویڈیوز کو فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کر کے خوشیاں بانٹی جاتی ہیں۔”
ہم کچھ پل کے لیے رکے اور میں نے سنجیدگی سے کہا:
“بھئی! ہمارا دین اور اسلامی اقدار کہاں گئے؟ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ آنے والی نسل کی تربیت شادی سے بھی پہلے، یعنی نکاح کے بعد انسان کے اپنے کردار اور عمل سے شروع ہو جاتی ہے۔ آپ کا ہر فعل آنے والی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ سادے الفاظ میں، ایک بچے کی روحانی پرورش انسان کے اپنے اعمال سے جڑی ہوتی ہے۔” دوست نے ڈھیلے انداز میں مسکرا کر کہا: “ارے سر! چھوڑیے نا، اتنا کون سوچتا ہے؟ دو دن کی زندگی ہے، کھل کر جینے دیں۔ اب اس عمر میں وہ جو بھی کرتے ہیں، سوچ سمجھ کر ہی کرتے ہوں گے۔ ہم اور آپ کیا کہہ سکتے ہیں!” میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا: “ہاں… بات تو صحیح ہے، چلیں دین کو بھلا دیتے ہیں ، چلیں آگے بڑھتے ہیں ۔
تحریر سمجھ گئے تو آگے شیئر ضرور کریں۔
Bride-to-Be




