Rising Sexual Exploitation 0

بڑھتا ہوا جنسی استحصال اور ہماری ذمہ داریاں. آمینہ یونس، بلتستانی
دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ٹیکنالوجی نے ترقی کی بہت سی منازل طے کی ہیں اور انسانی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ جہاں اس جدید دور نے انسان کو بہت سی سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں کچھ نقصانات اور نئے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ اس دور نے جہاں انسان کو ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور کیا ہے، وہیں کچھ ایسے مسائل بھی نمایاں ہو رہے ہیں جو پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ انہی میں بچوں اور خواتین کا بڑھتا ہوا جنسی استحصال بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پہلے زمانے میں بھی ایسے واقعات یقیناً پیش آتے ہوں گے، مگر آج کل کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات زیادہ سننے اور سامنے آنے لگے ہیں۔ دس بارہ سال کے بچوں سے لے کر چند ماہ کی بچی بھی اس شر سے محفوظ نہیں رہے۔ یہ صورتِ حال ہمارے لیے ایک بڑا سوال ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس کے سدباب کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟ یہاں صرف ماں باپ یا رشتہ دار قصوروار نہیں، بلکہ پورا معاشرہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ مسئلہ کسی ایک گھر، طبقے یا علاقے تک محدود نہیں رہا۔ ہمیں مل کر اس کی وجوہات تلاش کرنا ہوں گی۔ یہی بچے اور یہی معاشرہ پہلے بھی موجود تھا، تو پھر آج اس مسئلے کی کچھ نئی شکلیں کیوں سامنے آ رہی ہیں؟ کیا بچوں کی کم عمری میں موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی، نامناسب مواد اور آن لائن رابطے اس خطرے کو بڑھا رہے ہیں؟ کیا ہماری تربیت، نگرانی اور معاشرتی رویوں میں کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم کسی ایک چیز کو اس جرم کی واحد وجہ قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ جنسی استحصال کے اسباب کئی طرح کے ہو سکتے ہیں۔ خدارا! اگر یہ مسئلہ اربابِ اختیار کے اختیار میں ہے، یا معاشرے کے کسی بھی فرد کے دائرۂ اختیار میں ہے، تو اس کے سدباب کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ والدین کو آگاہی دی جائے، بچوں کو اپنی حفاظت کے بنیادی طریقے سکھائے جائیں، تعلیمی اداروں میں محفوظ ماحول بنایا جائے، قانون پر مؤثر عمل درآمد ہو اور بچوں کے لیے شکایت اور مدد کے محفوظ راستے آسان بنائے جائیں۔ اب اعتبار کے لحاظ سے دنیا کھوکھلی ہوتی جا رہی ہے۔ شاید وہ زمانہ قریب آ رہا ہے جب ہر شخص دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے پر مجبور ہوگا۔ کیونکہ جب گود میں پڑے بچے بھی محفوظ نہ ہوں تو سوال پر سوال جنم لیتے ہیں۔ مگر صرف سوال اٹھانا کافی نہیں، ہمیں اس مسئلے کی وجوہات سمجھنے اور اس کے سدباب کے لیے اجتماعی طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کی حفاظت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ یہ انسانیت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے کہ معصوم اور قیمتی جانیں ہوس کے پجاریوں سے محفوظ رہیں اور ہر بچے کو خوف کے بغیر جینے، بڑھنے اور اپنے خواب دیکھنے کا حق ملے۔

نمازِ جمعہ اور واجبِ عینی کا تقابل. شبیر حسین کمال

Rising Sexual Exploitation

50% LikesVS
50% Dislikes

بڑھتا ہوا جنسی استحصال اور ہماری ذمہ داریاں. آمینہ یونس، بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں