زرعی ترقی یا صحت کی قیمت؟ بتول فاطمہ
ہم جس دور میں زندہ ہیں، وہاں انسان نے اپنی سہولت کے لیے خوراک پیدا کرنے کے طریقے تو بدل دیے، مگر اس تبدیلی کی قیمت صرف زمین نے نہیں بلکہ انسانی جسم نے بھی ادا کرنا شروع کر دی ہے۔ زیادہ پیداوار، تیز رفتار کاشت، خوب صورت پھل، دیر تک محفوظ رہنے والی اشیا اور ہر موسم میں دستیاب خوراک بظاہر ترقی کی علامت محسوس ہوتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس ترقی کے پیچھے ہم نے کیا کھو دیا؟ کیا ہماری خوراک واقعی پہلے سے زیادہ محفوظ، صحت بخش اور قدرتی ہے، یا ہم نے ظاہری معیار کو اصل غذائیت پر ترجیح دے دی ہے؟
زراعت میں کھادوں، کیڑے مار ادویات اور مختلف کیمیائی طریقوں کا استعمال مکمل طور پر ایک ہی درجے کا مسئلہ نہیں۔ بعض زرعی ادویات فصلوں کو کیڑوں اور بیماریوں سے بچانے اور پیداوار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ان کا غیر ضروری یا غلط استعمال زمین، پانی، ماحول اور انسانی صحت کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا وجود نہیں بلکہ اس کا بے احتیاط استعمال ہے۔ جب پیداوار کا مقصد صرف زیادہ مقدار حاصل کرنا بن جائے اور مٹی کی صحت، فصلوں کا قدرتی توازن اور انسانی صحت پسِ پشت چلے جائیں تو زراعت اپنی بنیادی روح سے دور ہونے لگتی ہے۔
زمین محض فصل اگانے کی جگہ نہیں بلکہ ایک زندہ ماحولیاتی نظام ہے۔ مٹی میں موجود نامیاتی مادہ، خرد جاندار اور دیگر حیاتیاتی عوامل فصلوں کی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ مسلسل ایک ہی نوع کی فصل اگانا، نامیاتی مادے کی کمی، مٹی کا کٹاؤ اور کیمیائی اجزا کا غیر متوازن استعمال زمین کی زرخیزی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسی زمین وقتی طور پر زیادہ پیداوار دے بھی دے تو طویل مدت میں اس کی ساخت اور پیداواری صلاحیت متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف کھیت تک محدود نہیں رہتا۔ زمین، پانی، فصل، جانور اور انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں پانی آلودہ ہو، مٹی میں نقصان دہ مادے جمع ہوں یا زرعی کیمیکلز کا استعمال مقررہ اصولوں کے برخلاف ہو تو اس کے اثرات خوراک کے پورے سلسلے تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے خوراک کی حفاظت صرف باورچی خانے سے شروع نہیں ہوتی؛ اس کا تعلق بیج کے انتخاب، زمین کی تیاری، آب پاشی، فصل کی حفاظت، برداشت، ذخیرہ، ترسیل اور آخرکار صارف کی پلیٹ تک پھیلا ہوا ہے۔
مصنوعی یا انتہائی پراسیس شدہ خوراک کے معاملے میں بھی یہی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر پراسیس شدہ غذا نقصان دہ نہیں ہوتی اور ہر قدرتی غذا لازماً محفوظ نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ خوراک میں کیا شامل ہے، کس مقدار میں شامل ہے، اسے کس طرح تیار کیا گیا ہے اور انسان اسے کتنی مقدار اور کتنی کثرت سے استعمال کر رہا ہے۔ ایسی غذائیں جن میں ضرورت سے زیادہ نمک، شکر، غیر صحت بخش چکنائیاں یا کم غذائیت کے ساتھ زیادہ کیلوریز ہوں، اگر مسلسل خوراک کا حصہ بن جائیں تو مجموعی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
ہماری ایک بڑی غلطی یہ بھی ہے کہ بیماری کے علاج کو صحت کے تحفظ پر ترجیح دینے لگے ہیں۔ دوا طب کا ایک بنیادی اور ضروری حصہ ہے، لیکن دوا کا مقصد بیماری کا علاج یا اس کی علامات کو قابو کرنا ہے، صحت مند طرزِ زندگی کا متبادل بننا نہیں۔ جب خوراک، نیند، جسمانی سرگرمی، صفائی، ذہنی سکون اور متوازن طرزِ زندگی نظر انداز ہوں تو صرف ادویات پر انحصار انسان کو مکمل صحت نہیں دے سکتا۔ ہر بیماری کو خوراک یا طرزِ زندگی سے جوڑ دینا بھی درست نہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ متوازن غذا انسانی صحت کی بنیادی ضرورت ہے۔
آج بچوں اور بڑوں دونوں میں ایسی بیماریاں بڑھ رہی ہیں جن کا تعلق مختلف عوامل سے ہو سکتا ہے، جن میں خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی، ماحولیاتی آلودگی، موروثی عوامل اور طرزِ زندگی شامل ہیں۔ اس لیے انسانی جسم کے کمزور ہونے کی ذمہ داری کسی ایک چیز پر ڈال دینا سائنسی طور پر درست نہیں۔ البتہ یہ ضرور سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی روزمرہ خوراک اور ماحول کے بارے میں کتنے باشعور ہیں۔
حل خوف پیدا کرنے میں نہیں، شعور پیدا کرنے میں ہے۔ کسانوں کو محفوظ زرعی طریقوں، مٹی کی صحت، مناسب مقدار میں زرعی ادویات کے استعمال اور مربوط کیڑوں کے انتظام کے بارے میں مؤثر رہنمائی دی جانی چاہیے۔ صارفین کو بھی خوراک کے لیبل پڑھنے، متوازن غذا اختیار کرنے، پھل اور سبزیاں مناسب طریقے سے دھونے اور غیر ضروری طور پر انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں پر انحصار کم کرنے کی عادت اپنانا ہوگی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ خوراک، پانی، زرعی ادویات اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے مؤثر نگرانی اور واضح معیارات نافذ کریں۔
اصل ترقی وہ نہیں جس میں زمین زیادہ سے زیادہ پیداوار دینے پر مجبور ہو جائے اور انسان زیادہ سے زیادہ دواؤں کا محتاج ہوتا چلا جائے۔ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں زمین کی زرخیزی محفوظ رہے، کسان کی محنت باوقار ہو، خوراک محفوظ اور غذائیت سے بھرپور ہو، پانی صاف ہو اور انسان کو صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اپنے بنیادی وسائل سے محروم نہ ہونا پڑے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زمین صرف آج کی فصل نہیں دیتی، وہ آنے والی نسلوں کی خوراک بھی سنبھالے ہوئے ہے۔ اگر ہم نے مٹی کو صرف پیداوار کی مشین سمجھ لیا تو ایک دن فصلیں شاید باقی رہیں، مگر ان کے پیچھے موجود صحت مند زمین کا نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔ اور اگر خوراک کو صرف پیٹ بھرنے کی چیز سمجھ لیا تو جسم زندہ رہ سکتا ہے، مگر صحت کا معیار مسلسل گرتا جا سکتا ہے۔
لہٰذا سوال یہ نہیں کہ جدید زراعت یا جدید خوراک کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنی ترقی کو کس حد تک ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ ہمیں ایسی زراعت، ایسی خوراک اور ایسے طرزِ زندگی کی طرف بڑھنا ہوگا جس میں سہولت کے ساتھ صحت، پیداوار کے ساتھ زمین کی حفاظت اور صنعت کے ساتھ انسانی زندگی کا احترام بھی موجود ہو۔ کیونکہ آخرکار ہماری خوراک زمین سے آتی ہے، اور زمین کی صحت کسی نہ کسی صورت ہماری اپنی صحت بن کر ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہے۔
تخلیق کار انٹرنیشنل. 348 پروگرامز کی تاریخی کارکردگی . 1 سال 9 ماہ کے منفرد ادبی سفر کی شاندار روداد
بڑھتا ہوا جنسی استحصال اور ہماری ذمہ داریاں. آمینہ یونس، بلتستانی
Agricultural Development




