کھرمنگ میں چراگاہ کے تنازع پر خونریز تصادم، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی، احتجاج جاری
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!گلگت بلتستان کے ضلع کھرمنگ کے سرحدی علاقوں اولڈینگ اور ہرغسل میں چراگاہ کے تنازع نے ایک بار پھر خونریز رخ اختیار کر لیا، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ ذرائع کے مطابق کئی افراد زخمی ہوئے
زرائع کے مطابق گزشتہ چھ سات سال سے گاؤں ہرغسل کے چراگاہ بیجواٹ کے علاقے میں زمینی تنازع کے باعث ہرغسل اور اولڈینگ کے درمیان کشیدگی چلی آ رہی تھی۔ ماضی میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، تاہم مقامی عمائدین کی ثالثی کے بعد صلح کرا دی گئی تھی۔
مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز گاؤں اولڈینگ کے چند افراد علامہ جعفر علی دانش کے ہمراہ متنازعہ علاقے میں بکرا کوٹا تعمیر کر رہے تھے کہ اسی دوران گاؤں ہرغسل کے چند نوجوان بھی موقع پر پہنچ گئے۔ دونوں فریقوں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد جھگڑا شروع ہوا اور صورتحال فائرنگ تک جا پہنچی۔
علاقہ مکینوں نے ہرغسل کے رہائشی زاہد رضا اور شیر ولد حسین پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر 12 بور بندوق سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں اولڈینگ کے رہائشی محمد حسن، ، ممتاز حسین، احمد حسین ، خادم ، بشارت حسین ، یوسف ، سجاد اور منظور احمد سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال اولڈینگ منتقل کیا گیا، جہاں سے سات زخمیوں کو مزید علاج کے لیے طولتی روانہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اولڈینگ کے رہائشی موسمیان علی کاچوپا، احمد علی اور تلی تقی پا موقع پر جاں بحق ہوئے۔
سول ہسپتال طولتی کے ذرائع کے مطابق 10 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا، جن میں سے 2 شدید زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد سکردو ریفر کر دیا گیا، جبکہ مزید 4 زخمیوں کو بھی علاج کے لیے سکردو منتقل کیا گیا۔ 4 معمولی زخمیوں کو طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
متاثرہ زخمی کے مطابق وہ چراگاہ میں قیام گاہ کی تعمیر و مرمت کا کام کر رہے تھے کہ دوپہر کے کھانے کے بعد مسلح افراد آئے اور بغیر کسی بات چیت کے فائرنگ شروع کر دی۔ زخمی کے مطابق حملہ آوروں نے فائرنگ کے ساتھ پتھراؤ بھی کیا، جس کے باعث لوگ جان بچانے کے لیے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ متاثرہ کا کہنا تھا کہ اسے دو گولیاں لگیں جبکہ کئی افراد فائرنگ لگنے کے بعد موقع پر گر گئے۔
دوسری جانب اولڈینگ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان کے مزید زخمی افراد بھی متنازعہ علاقے میں موجود تھے، تاہم بروقت ریسکیو اور ایمبولینس کی سہولت نہ ہونے کے باعث انہیں ہسپتال منتقل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
واقعے کے بعد کمشنر بلتستان ڈویژن، آئی جی اور ڈی آئی جی موقع پر پہنچ گئے، جبکہ ایس ایس پی کھرمنگ بھی پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ روانہ ہوئے۔
ادھر متوفین کے لواحقین نے شاہراہ کارگل پر دھرنا دے رکھا ہے۔ لواحقین اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد احتجاج رات گئے تک جاری رہا۔ مظاہرین نے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا، ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور احتجاج کے دوران مختلف نعرے بھی لگائے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا۔
urdu news update Bloody Clash Over Grazing Land in Kharmang




