Beauty of Traditional Balti Shawls and Caps 2

بلتی شالیں اور ٹوپیاں . آمینہ یونس ،بلتستانی
ثقافت کسی بھی قوم کی تاریخ، روایات اور طرزِ زندگی کا آئینہ ہوتی ہے۔ ہر علاقے کی ثقافت اپنے اندر صدیوں پر محیط ہنر، محنت اور تہذیب کو سموئے ہوتی ہے۔ بلتستان بھی اپنی خوبصورت روایات، دستکاری اور خواتین کے بے مثال ہنر کی بدولت منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اس شناخت کی ایک اہم وجہ یہاں کی خواتین کی وہ محنت ہے جو سخت سردی سے بچنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے ۔بلاشبہ اس فن میں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ صرف محنت طلب ہی نہیں بلکہ وقت طلب کام بھی ہے۔ بلتستان کی سخت سردی سے تو سب واقف ہیں، مگر پرانے زمانے میں یہاں کے لوگ اسی سردی سے بچنے کے لیے بھیڑ کی اون سے شالیں اور ٹوپیاں تیار کرتے تھے۔ مردوں اور خواتین کی شال ایک جیسی ہوتی ہے، جسے بلتی زبان میں( قعار کہتے ہیں، جبکہ ٹوپی کو نتنگ کہا جاتا ہے۔) یہ کام کتنا محنت طلب ہے اور شالیں کیسے تیار کی جاتی ہیں؟ آئیے، آپ کو بھی ساتھ لے چلتے ہیں تاکہ آپ بھی دیکھ سکیں کہ بلتی شالیں کیسے بنائی جاتی ہیں۔ اس کام میں بکری کی اون استعمال نہیں ہوتی، کیونکہ اس سے قالین بنائے جاتے ہیں۔ اس کی تفصیل پھر کبھی بیان کریں گے، آج صرف شالوں اور ٹوپیوں کی بات کرتے ہیں تاکہ آپ بھی بلتی خواتین کے ہنر اور محنت سے آگاہ ہو سکیں۔ بلتستان میں لوگ بھیڑ، بکری، گائیں، مرغیاں، یعنی ہر قسم کے جانور پالتے ہیں اور ان سے مختلف فوائد حاصل کرتے ہیں۔ آج ذکر صرف بھیڑ کا کروں گی۔ سال میں دو مرتبہ بھیڑ کی اون اتاری جاتی ہے۔ بھیڑ دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک کالے اور دوسرے سفید۔ پھر اس اون کو پانی سے اچھی طرح دھویا جاتا ہے۔ دھونے کے بعد اسے ریت پر پھیلا کر خشک کیا جاتا ہے۔ خشک ہونے کے بعد چونکہ اون بہت زیادہ الجھی ہوئی ہوتی ہے، اس لیے اسے دو باریک لکڑیوں کی مدد سے سلجھایا جاتا ہے۔ گرمیوں میں یہ کام نہیں کیا جاتا، کیونکہ ہاتھوں کے پسینے کی وجہ سے اون چپک جاتی ہے۔ جب موسمِ خزاں شروع ہوتا ہے تو خواتین یہ کام شروع کرتی ہیں۔ پہلے اون کو اچھی طرح سلجھاتی ہیں، پھر اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے ٹوکری میں رکھتی ہیں۔ اس کے بعد لکڑی کے ایک مخصوص آلے ( پھنک )کی مدد سے دھاگا کاتا جاتا ہے۔ دھاگا بھی دو قسم کا بنایا جاتا ہے، ایک باریک اور دوسرا نسبتاً موٹا۔ جب دھاگا تیار ہو جاتا ہے تو اسے ایک اور مخصوص لکڑی کے آلے( جود پھنک )کی مدد سے مزید تیار کیا جاتا ہے۔ اس طرح تقریباً ایک سے دو کلو دھاگا تیار کرنے میں ایک سے دو مہینے لگ جاتے ہیں۔ پھر یہ دھاگا شال بنانے والے ماہر استاد کے پاس لے جایا جاتا ہے، جو اپنے لکڑی کے کھڈی نما آلے پر دو سے تین دن میں شال کے مختلف حصے تیار کر دیتا ہے۔ اور شال کے کناروں پر خواتین اپنی بعد ازاں پسند کے خواتین ان حصوں کو تین یا چار آپس میں سیتی رنگوں سے خوبصورت ڈیزائن بنواتے ہیں اور اسی اون سے شال اور ٹوپی کے علاوہ بلتی کرتا، جیکٹ اور کوٹ وغیرہ بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ کالے بھیڑ کی اون سے خواتین اپنے لیے ٹوپیاں بھی بناتی ہیں، جنہیں گوٹا وغیرہ لگا کر مزید خوبصورت بنایا جاتا ہے۔ یہ کام بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں، بلکہ اس کے لیے بھی مخصوص ہنرمند لوگ ہوتے ہیں۔ یہ شالیں اور ٹوپیاں جب کسی گاؤں یا علاقے میں کوئی مہمان یا معزز شخص آتا ہے تو ثقافتی تحفے کے طور پر اسے پہنائی جاتی ہیں۔ پہلے زمانے میں یہی شال اور ٹوپی بنائی عام تھی، مگر جدید دور میں یہ رواج بھی آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ خواتین کہتی ہیں کہ اتنی محنت کرنے کے بجائے بازار سے تیار شدہ شال خرید لینا آسان ہے۔ پہلے یہ ٹوپیاں شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی استعمال ہوتی تھیں۔ ان پر چاندی کے زیورات سجائے جاتے تھے، جو بہت دلکش نظر آتے تھے، اور اکثر لڑکیاں بھی ایسے زیورات کی خواہش رکھتی تھیں۔ مگر اب یہ خوبصورت ثقافت بھی آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم آج بھی کہیں کہیں یہ ہنر زندہ ہے۔ کچھ خواتین ضرورت کے تحت اور کچھ شوق سے یہ شالیں اور ٹوپیاں بناتی اور پہنتی ہیں۔ آج ان ہاتھ سے بنی ہوئی شالوں اور ٹوپیوں کی قیمت بھی بہت بڑھ چکی ہے۔” مگر انہیں بنانے والوں کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے”ہاتھوں سے بنی یہ شالیں اور ٹوپیاں صرف سردی سے بچانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ بلتستان کی ثقافت، خواتین کی محنت، صبر اور ہنر کی زندہ علامت ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ روایت اگرچہ مدھم پڑ رہی ہے، مگر جہاں کہیں بھی یہ ہنر زندہ ہے، وہاں بلتستان کی شناخت بھی زندہ ہے۔ اس ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اپنے آباؤ اجداد کی اس خوبصورت روایت سے واقف رہ سکیں۔

مونٹینیرنگ انسٹیٹیوٹ شگر گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم، راجہ ناصر علی خان مقپون صوبائی وزیر جنگلات و زراعت گلگت بلتستان

Beauty of Traditional Balti Shawls and Caps

50% LikesVS
50% Dislikes

بلتی شالیں اور ٹوپیاں . آمینہ یونس ،بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں