Burqa and the Male Gaze

برقع پوشی اور مرد کی نگاہ . محمد اسامہ مہر(ملتان )

کسی سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں۔ ہر ایک کو اختلاف کا حق حاصل ہے، لیکن بات تہذیب کے دائرے میں اور حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ اختلاف رائے کا مطلب دشمنی نہیں ہوتا۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ پردہ صرف برقع کا نام ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ دنیا کا کوئی بھی لباس اگر نیت کے ساتھ پہنا جائے تو پردہ کر سکتا ہے۔ لباس خود ننگا نہیں ہوتا۔ اگر نیت خود کو ڈھانپنے کی ہو تو کوئی بھی لباس جسم کی حفاظت کر سکتا ہے۔ اور اگر نیت ہی نہ ہو تو قیمتی برقع بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔ جس طرح تلوار کا استعمال قاتل اور محافظ دونوں کر سکتے ہیں، اسی طرح لباس کا استعمال بھی نیت پر منحصر ہے۔ اصل مسئلہ چیزوں میں نہیں، استعمال کرنے والے کے ذہن میں ہے۔ اچھا کرنا یا برا کرنا ہر انسان کی اپنی چوائس ہے۔ کہاں لکھا ہے کہ اللہ نے صرف برقع کو ہی پردہ قرار دیا ہے؟ دین نے پردے کا حکم دیا ہے، مخصوص لباس کا نام نہیں لیا۔ قرآن میں “خمار” اور “جلباب” کا ذکر ہے جس کا مقصد ستر ڈھانپنا ہے۔ اس لیے کسی ایک چیز پر شدت پسندی کرنا دین کا مزاج نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سارا بوجھ عورت پر ڈال دیا گیا ہے۔ لیکچر بھی اسی کو دیے جاتے ہیں۔ بازار میں، سوشل میڈیا پر، گھر میں… ہر جگہ عورت کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ حالانکہ قرآن نے سب سے پہلے مرد کو حکم دیا: “مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں”۔ اس کے بعد عورتوں کا ذکر آیا۔
اس کا مطلب صاف ہے کہ اصلاح کا آغاز مرد سے ہونا چاہیے۔ اگر مرد حضرات ایک دوسرے کو یہ نصیحت کریں کہ اپنی نگاہ کی حفاظت کرو، دوسرے کی عزت کو حرمت دو، تو آدھے مسائل خود حل ہو جائیں گے۔ اسلام میں دوسرے کی چار دیواری کی حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔ زنا کے قریب جانے سے منع کیا گیا ہے۔ نکاح کو آسان اور بے حیائی کو مشکل کہا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے “تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو”۔ آج ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ جس ملک میں کروڑوں لوگ ایک غیر اخلاقی ویڈیو دیکھتے ہیں، لائکس اور شیئرز کی دوڑ لگاتے ہیں، وہاں ہم دوسروں پر فتوے لگا رہے ہیں۔ ہم نے سوشل میڈیا کو گناہ کا بازار بنا دیا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد نہیں کہ تنہائی میں بھی اللہ دیکھ رہا ہے۔ تنہائی کی آزمائش ہجوم سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ میں کوئی مذہبی ٹھیکیدار نہیں ہوں۔ میں ایک عام قاریِ قرآن و حدیث ہوں۔ لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ دین کا مزاج اعتدال ہے، انتہا پسندی نہیں۔ دین آسانی کا نام ہے۔ جب ہم دین کو صرف لباس تک محدود کر دیں گے تو صدق، امانت، انصاف، رحم… یہ سب کہاں جائیں گے؟
تاریخ گواہ ہے کہ کربلا میں سب سے زیادہ ظلم ان لوگوں نے کیا جو کلمہ پڑھتے تھے۔ انہوں نے اہلِ بیت کی باپردہ خواتین کی چادریں تک کھینچ لیں۔ تو مسئلہ صرف کپڑے کا نہیں تھا، سوچ اور کردار کا تھا۔ آج بھی اگر ہم اہلِ بیت سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں ان جیسا کردار اپنانا ہوگا۔ حضرت علی کی غیرت، حضرت زینب کی حیا، حضرت عباس کی وفا… یہ سب ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔ با حیا مرد بنیں گے تو معاشرہ خود با حیا ہو جائے گا۔
سب سے بڑی بے حیائی یہ ہے کہ حیا کو صرف عورت سے جوڑ دیا جائے۔ مرد اپنا کردار سنبھالے، عورت اپنا۔ دونوں کو اللہ کو جواب دینا ہے۔ اگر آپ کی نگاہ سے کسی عورت کو بے چینی ہو، خوف آئے، تو آپ کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ کسی کو محفوظ ماحول دینا بھی عبادت ہے۔ اور سب سے خوبصورت لباس؟ وہ لباسِ تقویٰ ہے۔ قرآن کہتا ہے یہی بہترین لباس ہے۔ گھر ہو، بازار ہو، تنہائی ہو، ہر جگہ انسان کا کردار ہی اس کا اصل لباس ہے۔ مہنگا برقع بھی اگر تکبر کے ساتھ پہنا جائے تو بے وقعت ہے، اور سادہ لباس بھی اگر تقویٰ کے ساتھ ہو تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اگر ہم اپنے بیٹوں، بھائیوں اور دوستوں کی تربیت کرنے میں ناکام ہیں تو قصور صرف عورت کا نہیں۔ ہم بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔ جس ملک میں بچوں کی حفاظت اجتماعی سطح پر نہ ہو، وہاں بڑوں کو سوچنا چاہیے۔ تربیت صرف نصیحت سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔ دوسروں کی بیٹیوں، بہنوں کی تکلیف پر اگر ہمیں نیند آ جاتی ہے تو یہ ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے۔ آخر میں بس یہی کہوں گا: لیکچر دینے سے پہلے عمل کریں۔ تنقید سے پہلے اصلاح کریں۔ انگلی دوسرے پر اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں دیکھیں۔ کیونکہ اللہ کے ہاں حساب دونوں کا ہوگا۔

منسوب چراغوں سے اور طرفدار ہوا کے
تم لوگ منافق ہو اور منافق بھی انتہا کے

شگر ایبروزی ہائر سیکنڈری اسکول شگر نے میٹرک امتحانات میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی

شگر گلگت بلتستان میں ایڈونچر ٹورازم اور ماؤنٹینیرنگ کے فروغ کے لیے مجوزہ مونٹینیرنگ انسٹیٹیوٹ شگر کے قیام کی جانب اہم پیش رفت

گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی اسباب اثرات اور ممکنہ تدارک . اعجاز شگری
Burqa and the Male Gaze

50% LikesVS
50% Dislikes

برقع پوشی اور مرد کی نگاہ . محمد اسامہ مہر(ملتان )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں