گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی اسباب اثرات اور ممکنہ تدارک . اعجاز شگری
گلگت بلتستان جو کبھی برف گلیشیئرز اور معتدل موسمی توازن کی وجہ سے اپنی قدرتی خوبصورتی اور جغرافیائی انفرادیت کے لیے پہچانا جاتا تھا گزشتہ چند برسوں سے شدید اور غیر معمولی موسمی تبدیلیوں کی زد میں ہے پہلے یہاں سردیوں میں مناسب مقدار میں برف باری ہوتی تھی جو گلیشیئرز کی افزائش اور قدرتی آبی ذخائر کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتی تھی جبکہ گرمیوں میں نسبتا ہلکی پھلکی بارشیں موسم کے توازن کو برقرار رکھتی تھیں مگر اب صورت حال بدل چکی ہے برف باری میں نمایاں کمی اور گرمیوں میں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت نے گلیشیئرز کے تیز رفتار پگھلاؤ کو جنم دیا ہے جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سیلاب سڑکوں کی بندش اور ماحولیاتی عدم توازن جیسے سنگین مسائل سامنے آ رہے ہیں
اس اچانک اور غیر معمولی موسمی تبدیلی کے کئی ممکنہ اسباب ہیں سب سے نمایاں سبب سیاحتی دباؤ میں غیر معمولی اضافہ ہے ہر سال بڑی تعداد میں سیاح خصوصا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے ساتھ گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں ان گاڑیوں سے خارج ہونے والی کاربن گیسیں ماحول کی آلودگی میں اضافہ کرتی ہیں جو بالواسطہ طور پر موسمی تبدیلی کو مزید شدید بناتی ہیں اسی طرح کوہ پیمائی اور مہم جوئی کے لیے آنے والے بعض غیر مقامی افراد اور سیاحوں کے لیے واضح منظم اور سخت پالیسی کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے نیپال جیسے ممالک میں کوہ پیماؤں کے لیے ضابطے صفائی کوڑا کرکٹ واپس لے جانے اور ماحولیاتی ذمہ داری کے باقاعدہ اصول موجود ہیں لیکن گلگت بلتستان میں اس نوعیت کا مؤثر نظام ابھی تک تشکیل نہیں دیا جا سکا.بندہ ناچیز نے سابق وزیر سیاحت اور سیکرٹری سیاحت کو ایک پالیسی بنا کے بیھجا بھی تھا مگر اس پر ایک فیصد عمل درآمد نہیں ہوئی اس کے نتیجے میں بلند پہاڑوں اور گلیشیائی علاقوں میں کچرے کے ڈھیر قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن دونوں کو متاثر کر رہے ہیں
ایک اور اہم پہلو مقامی زرعی نظام میں مشینی طریقوں کا بڑھتا ہوا استعمال ہے ماضی میں مقامی لوگ کھیتی باڑی روایتی سادہ اور قدرتی انداز میں کرتے تھے فصلوں کی کاشت کٹائی تھریشنگ گھاس جمع کرنے اور اناج کو گودام تک پہنچانے کے عمل میں فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پائی جاتی تھی مگر اب بھاری مشینری کے استعمال نے نہ صرف ماحول پر دباؤ بڑھایا ہے بلکہ زمین کی قدرتی ساخت اور مقامی طرز حیات کو بھی متاثر کیا ہے اگر ان عوامل پر باقاعدہ غور کیا جائے اور ایک متوازن حکمت عملی کے تحت چند برسوں کے لیے ان پر قابو پایا جائے تو گلگت بلتستان کے ماحول کو کسی حد تک اس کی اصل فطری حالت میں واپس لایا جا سکتا ہے
جس بے دردی سے گلگت بلتستان میں ٹمبر مافیا سرگرم ہے اس نے گزشتہ دس برسوں میں جنگلات کا بڑا حصہ کاٹ کر بیچ ڈالا ہے ایک دہائی پہلے یہ علاقے سرسبز گھنے اور وسیع جنگلات سے پہچانے جاتے تھے مگر آج ان کی بڑی حد تک کٹائی نے ماحولیاتی توازن کو شدید نقصان پہنچا دیا ہے
یہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت ماہرین ماحولیات مقامی انتظامیہ اور عوام مشترکہ طور پر سنجیدہ اقدامات کریں سیاحت کے لیے واضح ماحولیاتی پالیسی گاڑیوں کے اخراج پر کنٹرول کوہ پیمائی کے ضوابط کچرے کے مؤثر انتظام شجر کاری اور روایتی زرعی طریقوں کے تحفظ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں بصورت دیگر گلگت بلتستان کا نازک ماحولیاتی نظام مزید بگاڑ کا شکار ہوتا رہے گا اور اس کی قیمت صرف پہاڑ گلیشیئرز اور زمین ہی نہیں بلکہ یہاں کے باسی بھی چکاتے رہیں گے
شگر کے ٹو بیس کیمپ سے سکردو تک چار روز میں دوڑ، ایشین چیمپئن جمال سیڈ نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
column in urdu Climate Change in Gilgit-Baltistan




