Kashmir Exploitation Day

“یومِ استحصالِ کشمیر” عظمیٰ شیخ
دنیا کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف کیلنڈر کی تاریخ نہیں رہتے بلکہ ایک قوم کے احساسات، دکھوں، امیدوں اور جدوجہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ 5 اگست بھی ایسا ہی ایک دن ہے جسے پاکستان میں یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا، مسئلۂ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ پائیدار امن انصاف، مکالمے اور انسانی حقوق کے احترام سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔
کشمیر اپنی خوب صورت وادیوں، بلند پہاڑوں اور قدرتی حسن کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، مگر اس خطے کی تاریخ سیاسی کشمکش اور مشکلات سے بھی عبارت ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ ایک اہم بین الاقوامی مسئلہ بن کر سامنے آیا۔ اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مختلف قراردادیں منظور کیں، جن میں قرارداد نمبر 47 (1948ء) بھی شامل ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ مسئلۂ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور پُرامن مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔
5 اگست 2019ء کو بھارت کی حکومت نے آئین کی دفعات 370 اور 35 اے سے متعلق تبدیلیاں نافذ کیں، جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی۔ پاکستان نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا اور اسی مناسبت سے یومِ استحصالِ کشمیر منانے کا اعلان کیا، تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے اور عالمی برادری کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔
اسلام ہمیں ہمیشہ عدل، انصاف اور مظلوم کی مدد کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
“اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔”
(سورۃ المائدہ: 2)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور ہر معاملے میں انصاف اور بھلائی کو ترجیح دینی چاہیے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ تعلیم ہمیں انسانیت، اخوت اور ہمدردی کا راستہ دکھاتی ہے۔
بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
“کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔”
یہ الفاظ کشمیر کی جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال نے بھی اہلِ کشمیر کے عزم اور خودداری کو اپنی شاعری میں اجاگر کیا۔ ان کا یہ شعر آج بھی حوصلے اور امید کا پیغام دیتا ہے:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یومِ استحصالِ کشمیر ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ قومی مسائل کو جذبات کے ساتھ ساتھ علم، تحقیق اور شعور کے ذریعے سمجھنا چاہیے۔ ایک ذمہ دار قوم وہی ہوتی ہے جو امن، انصاف اور انسانی اقدار کو فروغ دیتی ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے سرکاری بیانات کے مطابق پاکستان مسئلۂ کشمیر کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی اصولوں اور پُرامن سفارتی ذرائع کی حمایت کرتا ہے۔
14 اگست، یومِ آزادیِ پاکستان بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے جس کی حفاظت اتحاد، محنت، قربانی اور ذمہ داری سے کی جاتی ہے۔ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہمیں امن، ترقی اور امید کا پیغام دیتا ہے۔ ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور متحد پاکستان ہی دنیا میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے وطن سے محبت کریں، علم حاصل کریں، قانون کی پاسداری کریں اور دنیا کے تمام انسانوں کے لیے امن و انصاف کی دعا کریں۔ نفرت کے بجائے محبت، تصادم کے بجائے مکالمہ اور ناامیدی کے بجائے امید کا راستہ اختیار کرنا ہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، ترقی اور استحکام عطا فرمائے، کشمیر سمیت دنیا بھر کے انسانوں کو امن و انصاف نصیب کرے اور ہمیں حق، سچ اور انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

از قلم سیدہ تسکین بخت آج وہ تو کل ہم (ہم کب بیدار ہونگے؟

احساس، انسانیت کی اصل پہچان. یاسر دانیال صابری

Kashmir Exploitation Day

50% LikesVS
50% Dislikes

“یومِ استحصالِ کشمیر” عظمیٰ شیخ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں