آج وہ تو کل ہم (ہم کب بیدار ہونگے؟ سیدہ تسکین بخت
آزاد کشمیر کی سرزمین ہمیشہ سے قربانی، حریت اور غیرت کی علامت رہی ہے۔ یہی وہ خطہ ہے جس کے باسی اپنے بنیادی حقوق، بہتر طرزِ زندگی اور انصاف کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ جب بھی کسی معاشرے میں عوام اپنے جائز مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ایک جمہوری ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ ان کی بات سنے، ان کے مسائل کا حل تلاش کرے اور اختلافِ رائے کو برداشت کرے۔ لیکن اگر کسی احتجاج کے دوران طاقت کا استعمال کیا جائے، لاٹھی چارج یا فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں، تو یہ صورتِ حال تشویش اور سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایسے مواقع پر ہمارا اجتماعی ضمیر اکثر خاموش دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا، جو معمولی سے معمولی واقعے پر طوفان برپا کر دیتا ہے، کئی اہم انسانی مسائل پر غیر معمولی خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ اگر کہیں لوگوں کے حقوق، جان و مال یا آزادیِ اظہار سے متعلق سنجیدہ خدشات پیدا ہوں تو ان پر بات ہونا، سوال اٹھانا اور حقائق جاننے کا مطالبہ کرنا ایک ذمہ دار معاشرے کی علامت ہے، نہ کہ کسی خاص سیاسی جماعت یا نظریے کی حمایت۔
خاموشی ہمیشہ غیر جانبداری نہیں ہوتی، بعض اوقات خاموشی ظلم یا ناانصافی کے احساس کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ جب کوئی شہری اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرتا ہے تو اس کی بات سننا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اختلافِ رائے کو طاقت کے بجائے مکالمے سے حل کرنا ہی پائیدار امن اور جمہوری اقدار کی بنیاد بنتا ہے۔
پاکستانی عوام کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ اگر آج ہم کسی دوسرے کے دکھ، تکلیف یا حقوق کی پامالی پر مکمل بے حسی اختیار کر لیتے ہیں تو کل یہی بے حسی ہمارے اپنے دروازے پر بھی دستک دے سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشرے اجتماعی ضمیر کی آواز کو دبا دیتے ہیں تو ناانصافی کا دائرہ محدود نہیں رہتا بلکہ رفتہ رفتہ ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اسی لیے ہر شہری کو انصاف، قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کے اصولوں کی حمایت کرنی چاہیے، خواہ متاثر ہونے والا کوئی بھی ہو۔
سوشل میڈیا کی طاقت صرف تفریح یا سیاسی بحث تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے عوامی مسائل اجاگر کرنے، مستند معلومات شیئر کرنے اور پرامن مکالمے کو فروغ دینے کے لیے بھی استعمال ہونا چاہیے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی لازم ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات، افواہوں یا اشتعال انگیز دعوؤں سے اجتناب کیا جائے اور ہر معاملے میں حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کی جائے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو زندہ رکھیں۔ اگر کہیں کسی شہری کے حقوق متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں تو ان کے بارے میں شفاف تحقیقات، قانون کے مطابق احتساب اور انصاف کا مطالبہ کیا جائے۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اختلاف رکھنے والوں کی بات بھی سنے، قانون کی حکمرانی پر یقین رکھے اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کا احترام کرے۔
آخر ہم کب تک خاموش رہیں گے؟ کب تک ہم صرف اس وقت آواز اٹھائیں گے جب مسئلہ ہمارے اپنے دروازے تک پہنچ جائے؟ ایک باشعور معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ ہر انسان کے حقِ انصاف، عزت اور آزادی کی حمایت کرے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ایک منصفانہ اور پرامن پاکستان میں زندگی گزاریں تو ہمیں آج ہی یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ہر قسم کی ناانصافی کے خلاف قانون، دلیل اور امن کے دائرے میں رہتے ہوئے آواز بلند کریں گے، کیونکہ ایک زندہ قوم کا ضمیر کبھی خاموش نہیں رہتا۔
شگر گلگت بلتستان میں ایڈونچر ٹورازم اور ماؤنٹینیرنگ کے فروغ کے لیے مجوزہ مونٹینیرنگ انسٹیٹیوٹ شگر کے قیام کی جانب اہم پیش رفت
column in urdu When Will We Wake Up




