column in urdu Empathy, the True Essence of Humanity

احساس، انسانیت کی اصل پہچان. یاسر دانیال صابری
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں محض زندگی گزارنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے، مخلوقِ خدا سے محبت کرنے، ایک دوسرے کا احساس کرنے اور باہمی ہمدردی کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز بناتے ہیں اور اسی میں ایک مہذب معاشرے کی بنیاد پوشیدہ ہے۔احساس وہ دولت ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی۔ بہت سے خونی رشتے صرف نام کے رشتے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان میں خلوص، محبت اور احساس کا جذبہ موجود نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس بعض اوقات ایک مخلص دوست، جو دکھ سکھ میں ساتھ کھڑا ہو، ہمدردی کرے، عزت دے اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرے، وہ حقیقی بھائی سے بھی بڑھ کر ثابت ہوتا ہے۔ رشتوں کی مضبوطی خون سے نہیں بلکہ احساس، محبت اور وفاداری سے ہوتی ہے۔بدقسمتی سے موجودہ معاشرہ تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے سہولتیں تو پیدا کی ہیں، مگر انسانوں کے دلوں سے احساس اور ہمدردی کم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے صرف اپنے مفادات کے گرد گھوم رہے ہیں۔ انسان مشینوں کی رفتار تو اختیار کر رہا ہے، مگر انسانیت کی حرارت کھوتا جا رہا ہے۔جب کسی گھر سے احساس ختم ہو جائے تو وہ گھر سکون کا گہوارہ نہیں رہتا۔ میاں بیوی کے تعلقات میں محبت کی جگہ احسان جتانے کا رویہ آ جائے، ایک دوسرے کی قربانیوں کی قدر نہ رہے، تو رشتوں میں دراڑیں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح اولاد اگر والدین کی خدمت کو بوجھ سمجھے یا والدین اولاد کی محبت کو نظر انداز کریں تو خاندانی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔تعلیمی اداروں میں بھی یہی صورتِ حال دکھائی دیتی ہے۔ جو طالب علم محنت نہیں کرتا، سبق یاد نہیں کرتا یا ہوم ورک مکمل نہیں کرتا، وہ دراصل استاد پر احسان نہیں بلکہ اپنے مستقبل سے ناانصافی کر رہا ہوتا ہے۔ استاد کی محنت کا احترام کرنا اور علم حاصل کرنے میں سنجیدگی دکھانا ہی حقیقی شاگرد کی پہچان ہے۔
جب کسی ادارے سے احساس، دیانت داری اور خدمت کا جذبہ ختم ہو جائے تو وہاں صرف مفاد پرستی باقی رہ جاتی ہے۔ ایسے اداروں میں انصاف کمزور اور رشوت مضبوط ہو جاتی ہے۔ عوام کی خدمت کی جگہ ذاتی مفادات لے لیتے ہیں، اور پھر معاشرے میں بداعتمادی، ناانصافی اور بے چینی جنم لیتی ہے۔ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کے دکھ کا احساس نہ ہو، جہاں غریب، یتیم، بیمار اور بے سہارا افراد کو نظر انداز کر دیا جائے، وہ معاشرہ زندہ نہیں بلکہ اخلاقی اعتبار سے مردہ سمجھا جاتا ہے۔ انسانیت کی اصل روح محبت، ہمدردی، ایثار اور خدمت میں پوشیدہ ہے۔آج ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور معاشرے میں احساس، محبت، حسنِ اخلاق اور خدمت کے جذبے کو دوبارہ زندہ کریں۔ اگر ہر انسان اپنے حصے کی محبت، ہمدردی اور خیرخواہی دوسروں تک پہنچائے تو نہ صرف ہمارے رشتے مضبوط ہوں گے بلکہ ایک باوقار، پُرامن اور خوشحال معاشرہ بھی وجود میں آئے گا۔دولت، شہرت اور طاقت وقتی چیزیں ہیں، مگر احساس، محبت اور ہمدردی وہ سرمایہ ہیں جو انسان کو دنیا میں بھی عزت دیتے ہیں اور آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

از قلم سیدہ تسکین بخت ، آج وہ تو کل ہم . (ہم کب بیدار ہونگے؟

column in urdu Empathy, the True Essence of Humanity

50% LikesVS
50% Dislikes

احساس، انسانیت کی اصل پہچان. یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں