سبز پاکستان، خوشحال پاکستان . سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
قوموں کی ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ شاہراہوں اور جدید صنعتوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے بھی دیکھی جاتی ہے کہ انہوں نے اپنی زمین کو کتنا زندہ رکھا ہے۔ جہاں درختوں کی چھاؤں باقی رہتی ہے، وہاں تہذیبیں بھی سانس لیتی ہیں۔ جہاں سبزہ مٹنے لگتا ہے، وہاں صرف جنگلات نہیں، انسانی سکون، معاشی استحکام اور آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اسی لیے یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ سبز پاکستان ہی خوشحال پاکستان کی بنیاد ہے۔
فطرت کا اپنا ایک خاموش نظام ہے۔ پہاڑ بادلوں کو آواز دیتے ہیں، بادل بارش بن کر زمین کو سیراب کرتے ہیں، زمین درختوں کو جنم دیتی ہے اور درخت انسان کو زندگی بخشتے ہیں۔ اس سلسلۂ حیات کی ایک کڑی بھی کمزور پڑ جائے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ انسان نے جب اس قدرتی توازن کو نظر انداز کیا تو موسموں نے اپنا مزاج بدل لیا۔ کہیں سیلاب نے بستیاں نگل لیں، کہیں خشک سالی نے کھیت ویران کر دیے، کہیں گرمی کی شدت نے زندگی کو دشوار بنا دیا۔ فطرت انتقام نہیں لیتی، وہ صرف اپنے قوانین کے مطابق جواب دیتی ہے۔
پاکستان ان خوش نصیب ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں برف پوش پہاڑ، زرخیز میدان، وسیع صحرا، دریا، ساحل اور متنوع موسم موجود ہیں۔ مگر یہ قدرتی دولت اسی وقت نعمت بنتی ہے جب اس کی حفاظت کی جائے۔ افسوس کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، آلودگی اور ماحولیاتی بے احتیاطی نے اس حسن کو دھندلا دیا ہے۔ ہر کٹا ہوا درخت دراصل آنے والی نسل کے حصے کی ایک سانس کم کر دیتا ہے۔
درخت کسی بھی ملک کی معیشت میں خاموش مگر بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ زرعی پیداوار بہتر ہوتی ہے، زمین کی زرخیزی برقرار رہتی ہے، بارشوں کے نظام کو استحکام ملتا ہے، سیلاب اور مٹی کے کٹاؤ کے خطرات کم ہوتے ہیں، پھل، لکڑی، شہد اور جڑی بوٹیوں کی صورت میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں جبکہ سرسبز علاقے سیاحت کو فروغ دیتے ہیں۔ یوں شجر کاری صرف ماحول کی خدمت نہیں بلکہ قومی معیشت میں سرمایہ کاری بھی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ہمارے دور کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اس کے اثرات زیادہ شدت سے محسوس کر رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ نسبتاً کم ہے۔ شدید گرمی کی لہریں، بے وقت بارشیں، گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار اور پانی کی قلت ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ اب ماحول کا تحفظ کوئی اختیاری کام نہیں بلکہ قومی بقا کا تقاضا ہے۔
اسلامی تعلیمات بھی انسان کو زمین کا مالک نہیں بلکہ امین قرار دیتی ہیں۔ امانت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان زمین کو پہلے سے بہتر حالت میں اگلی نسل کے حوالے کرے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے درخت لگانے کی ترغیب دے کر دراصل ایک ایسا تصورِ تعمیر دیا جس میں انسان اپنی ذات سے آگے بڑھ کر معاشرے اور مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے۔ یہی وہ فکر ہے جو ایک ذمہ دار قوم کی پہچان بنتی ہے۔
تاہم خوشحالی صرف حکومتی منصوبوں سے نہیں آتی بلکہ اجتماعی شعور سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہر شہری یہ سمجھ لے کہ صفائی، پانی کا تحفظ اور شجر کاری بھی حب الوطنی کی عملی صورتیں ہیں، تو بہت سے مسائل خود بخود کم ہونے لگیں گے۔ اسکولوں میں ایک طالب علم، ایک درخت کی روایت، مساجد اور مدارس میں شجر کاری کی مہم، دیہات اور شہروں میں مقامی انواع کے درختوں کی حفاظت، اور سڑکوں، نہروں اور خالی زمینوں کو سبز پٹیوں میں تبدیل کرنا ایسے اقدامات ہیں جو دور رس نتائج دے سکتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شجر کاری صرف پودے لگا دینے کا نام نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ پودا تناور درخت بن کر نسلوں کو سایہ دینے لگے۔ اس مقصد کے لیے نگہداشت، پانی، مناسب منصوبہ بندی اور مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والی اقسام کا انتخاب ضروری ہے۔ ایک زندہ درخت، سو سو رسمی تقریبات سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے قدرتی وسائل کی حفاظت کی، انہوں نے معاشی استحکام بھی حاصل کیا اور سماجی سکون بھی تاہم جنہوں نے فطرت کو محض استعمال کی چیز سمجھا، وہاں آلودگی، بیماری، پانی کی قلت اور موسمی بحران مستقل مسائل بن گئے۔ پاکستان کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اپنی سرسبز زمین، دریاؤں، پہاڑوں اور جنگلات کو قومی طاقت میں تبدیل کرے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم درخت کو صرف ایک پودا نہ سمجھیں بلکہ اسے قومی ترقی کا ساتھی، ماحول کا محافظ اور آنے والی نسلوں کا حق تصور کریں۔ جب ہر شہری اپنے حصے کا ایک درخت لگائے گا، اس کی حفاظت کرے گا اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے گا، تو پاکستان کی فضائیں صاف ہوں گی، زمین زرخیز ہوگی، معیشت مضبوط ہوگی اور زندگی زیادہ پُرسکون ہوگی۔
حقیقت یہی ہے کہ خوشحالی کی راہ صرف صنعتوں اور منصوبوں سے نہیں گزرتی، اس کا ایک راستہ درختوں کی چھاؤں سے بھی ہو کر جاتا ہے۔ جس دن ہم اس حقیقت کو اجتماعی شعور کا حصہ بنا لیں گے، اس دن “سبز پاکستان، خوشحال پاکستان” محض ایک نعرہ نہیں رہے گا بلکہ ایک زندہ حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہوگا۔
عنوان: میں کیا بننا چاہتا ہوں؟ محمد دلاور بلتستانی
Green Pakistan: The Path to National Prosperity




