My Dream for the Future

عنوان: میں کیا بننا چاہتا ہوں؟ محمد دلاور بلتستانی
انسان کی زندگی میں سب سے مشکل لمحہ وہ نہیں ہوتا جب وہ ناکام ہوتا ہے، سب سے مشکل لمحہ وہ ہوتا ہے جب اسے خود نہیں پتہ ہوتا کہ وہ کامیاب کس چیز میں ہونا چاہتا ہے۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ جواب میں ہم ہنستے تھے، کندھے اچکاتے تھے۔ پھر بڑے ہو گئے۔ اب وہی سوال ہمیں راتوں کو سونے نہیں دیتا کیونکہ پہلے اسکول، پھر کالج اور اب یونیو رسٹی سے فارغ ہو کر بھی جاب لیس بیٹھے ہوئے ہیں۔
بظاہر یہ 5 لفظ ہیں، لیکن ان میں پوری زندگی بند ہے۔ یہ سوال آپ کو ہجوم سے الگ کرتا ہے۔ یہ آپ کو سمت دیتا ہے۔ جس دن آپ نے اس کا جواب کاغذ پر لکھ دیا، اسی دن سے آپ کی زندگی نے ایک رخ اختیار کر لیا۔ ورنہ کیا ہوتا ہے؟ ہم دوسروں کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ فلاں ڈاکٹر بن گیا تو میں بھی بن جاؤں۔ فلاں یوٹیوبر کامیاب ہے تو میں بھی کیمرہ اٹھا لوں۔ نتیجہ کیا ملتا ہے، آدھے راستے میں تھک کر بیٹھ جاتے ہیں، کیونکہ وہ خواب ہمارا تھا ہی نہیں۔
نفسیات کہتی ہے کہ جو چیز لکھی نہ جائے وہ صرف خواہش رہتی ہے اور جو لکھی جائے وہ عہد بن جاتی ہے۔ والدین کو چاہیے اپنے بچوں کو ایک خالی کاغذ تھما دیں اور ان سے کہیں جو تم بننا چاہتے ہو وہ بے خوف ہو کر لکھیں۔ مثلآ: میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں لوگوں کی جان بچانے کے لیے، میں انجینئر بننا چاہتا ہوں اپنے ملک کی عمارتیں بنانے کے لیے، میں استاد بننا چاہتا ہوں نسلوں کو سنوارنے کے لیے، میں یوٹیوبر بننا چاہتا ہوں اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے، میں کانٹینٹ رائٹر بننا چاہتا ہوں، الفاظ سے دنیا بدلنے کے لیے، میں گرافک ڈیزائنر بننا چاہتا ہوں خیالوں کو رنگ دینے کے لیے، میں ویڈیو ایڈیٹر بننا چاہتا ہوں کہانیوں کو حرکت دینے کے لیے، میں فری لانسر بننا چاہتا ہوں اپنی محنت سے اپنی قسمت لکھنے کے لیے، میں سافٹ ویئر ڈویلپر بننا چاہتا ہوں مسئلوں کا حل کوڈ میں ڈھونڈنے کے لیے، میں جرنلسٹ بننا چاہتا ہوں سچ کو قلم سے بولنے کے لیے، میں مصنف بننا چاہتا ہوں اپنے تجربے کو کتاب بنانے کے لیے، میں مصور بننا چاہتا ہوں خاموشی کو تصویر بنانے کے لیے، میں بزنس مین بننا چاہتا ہوں روزگار پیدا کرنے کے لیے، میں لیڈر بننا چاہتا ہوں لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے، میں وکیل بننا چاہتا ہوں مظلوم کی آواز بننے کے لیے، میں پائلٹ بننا چاہتا ہوں آسمانوں کو چھونے کے لیے، میں فوٹوگرافر بننا چاہتا ہوں لمحوں کو امر کرنے کے لیے، میں کھلاڑی بننا چاہتا ہوں ملک کا پرچم بلند کرنے کے لیے، میں عالم بننا چاہتا ہوں دین کی روشنی پھیلانے کے لیے، میں سوشل ورکر بننا چاہتا ہوں معاشرے کے زخم بھرنے کے لیے، ایسی اور بھی مثالیں دیں، فہرست ختم نہیں ہوگی۔ دنیا میں ہر شعبہ عزت کا ہے۔ شرط صرف ایک ہے، وہ آپ کا اپنا ہو۔
سب سے بڑا بہانہ یہ ہے کہ ہمارے پاس مواقع نہیں ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس ارادہ نہیں ہے۔
آج انٹرنیٹ کے دور میں ڈاکٹر آن لائن مریض دیکھتا ہے، استاد آن لائن پڑھاتا ہے۔ ڈیزائنر گھر بیٹھے دنیا بھر کے کلائنٹ سے کام لیتا ہے۔ مصنف اپنی کتاب خود شائع کرتا ہے۔ یوٹیوبر موبائل سے لاکھوں دلوں تک پہنچتا ہے۔
کمی وسائل کی نہیں، فیصلے کی ہے۔
تحریر محظ پڑھ کر بند کر دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔
اپنا خواب ایک جملے میں لکھیں کہ میں _ بننا چاہتا ہوں، اس کے نیچے لکھیں میں یہ کیوں بننا چاہتا ہوں۔ وجہ مضبوط ہوگی تو راستہ خود نکلے گا۔
لکھیں کہ میں آج اس کے لیے کیا ایک چھوٹا کام کر سکتا ہوں، 15 منٹ کا کام، روز 15 منٹ، ایک سال میں یہی مہارت بن جاتی ہے۔ زندگی آپ کو بار بار گرائے گی۔ لوگ کہیں گے کہ تم سے نہیں ہوگا، یہ فیلڈ مشکل ہے، یہاں سفارش چلتی ہے۔ سنیں سب کی، کریں من کی۔ یاد رکھیں آپ کی سب سے بڑی ہار تب جیت بن جاتی ہے جب آپ کا ارادہ زندہ ہو۔ جس دن آپ نے فیصلہ کر لیا کہ میں یہ بنوں گا، اسی دن سے کائنات آپ کے لیے دروازے کھولنا شروع کر دیتی ہے۔
آپ جو بننا چاہتے ہیں کسی کاغذ پر لکھ دیں، آج اور اسی وقت کیونکہ جو لوگ اپنا مقصد خود نہیں لکھتے، دنیا ان کے لیے مقصد لکھ دیتی ہے۔ اور وہ اکثر دوسروں کی غلامی ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین

شگر گلگت بلتستان میں ایڈونچر ٹورازم اور ماؤنٹینیرنگ کے فروغ کے لیے مجوزہ مونٹینیرنگ انسٹیٹیوٹ شگر کے قیام کی جانب اہم پیش رفت

شگر ایبروزی ہائر سیکنڈری اسکول شگر نے میٹرک امتحانات میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی
My Dream for the Future

50% LikesVS
50% Dislikes

میں کیا بننا چاہتا ہوں؟ محمد دلاور بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں