فریدہ خانم: جب غزل نے آواز کا روپ دھارا. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
اردو غزل کی تاریخ میں چند ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے صرف گایا نہیں بلکہ اپنے فن کے ذریعے شاعری کو نئی زندگی عطا کی۔ ان عظیم فنکاروں میں فریدہ خانم کا نام ایک درخشندہ ستارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں محض “ملکۂ غزل” کہنا بھی ان کے فن کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا کیونکہ ان کی آواز میں کلاسیکی موسیقی کی گہرائی، اردو شاعری کی لطافت اور انسانی جذبات کی ایسی سچائی موجود تھی جو سننے والے کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہے۔
فریدہ خانم کی پیدائش 5 جنوری 1929ء کو کلکتہ میں ہوئی۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آئیں اور لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ موسیقی سے ان کا تعلق محض شوق کا نہیں بلکہ ایک مضبوط کلاسیکی روایت کا حصہ تھا۔ انہوں نے استاد اشتیاق حسین خان اور استاد بکھو خان جیسے جید اساتذہ سے باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گائیکی میں کلاسیکی موسیقی کی پختگی اور غزل کی نزاکت ایک دوسرے میں اس طرح مدغم نظر آتی ہیں کہ دونوں کی الگ شناخت ممکن نہیں رہتی۔
پچاس کی دہائی میں ریڈیو پاکستان سے ان کے فنی سفر کا آغاز ہوا۔ بعدازاں پاکستان ٹیلی ویژن پر بھی ان کی آواز گونجنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ برصغیر کی مقبول ترین غزل گلوکارہ بن گئیں۔ انہوں نے اردو، پنجابی اور فارسی زبان میں متعدد لازوال غزلیں پیش کیں، مگر ان کی اصل شناخت اردو غزل کی وہ شائستہ اور باوقار روایت ہے جسے انہوں نے نئی بلندی عطا کی۔
فریدہ خانم کی گائیکی کا سب سے نمایاں وصف ان کی ادائیگی تھی۔ وہ ہر لفظ کو اس کے صحیح تلفظ، مفہوم اور جذبات کے ساتھ ادا کرتی تھیں۔ ان کی آواز میں نہ مصنوعی اتار چڑھاؤ تھا اور نہ ہی غیر ضروری نمائش بلکہ ٹھہراؤ، سادگی اور وقار ان کی پہچان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل سننے والا صرف دھن سے لطف اندوز نہیں ہوتا بلکہ شعر کے معنی بھی اس کے دل میں اترتے چلے جاتے ہیں۔
اگر فریدہ خانم کے فن کی پہچان ایک ہی غزل میں تلاش کی جائے تو بلا شبہ “آج جانے کی ضد نہ کرو” ان کا ایسا شاہکار ہے جس نے انہیں دنیا بھر میں امر کر دیا۔ فیاص ہاشمی کی اس غزل میں محبت، جدائی، التجا اور خاموش جذبات کا ایسا حسین امتزاج ملتا ہے کہ ہر دور کا سامع خود کو اس کیفیت کا حصہ محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ادبی اور موسیقی کی محفلوں میں جب اس غزل کی دھن چھیڑ دی جاتی ہے تو ماحول پر ایک سحر طاری ہو جاتا ہے۔
اسی طرح فیض احمد فیض کی شہرۂ آفاق نظم “مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ” کو فریدہ خانم نے ایسی تاثیر بخشی کہ اس میں موجود ذاتی محبت، سماجی دکھ اور انسانی درد ایک ہی آواز میں سمٹ آئے۔ ان کی پیشکش نے اس نظم کو صرف ادبی حلقوں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ عام لوگوں کے دلوں تک پہنچا دیا۔
مرزا غالب کی غزلیں “یہ نہ تھی ہماری قسمت” اور “دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت” بھی فریدہ خانم کی آواز میں نئی معنویت اختیار کر گئیں۔ غالب کے مشکل اور گہرے اشعار کو انہوں نے ایسی سادگی سے پیش کیا کہ کلاسیکی موسیقی سے ناواقف سامع بھی ان کے مفہوم اور حسن سے لطف اندوز ہو سکا۔ یہی ایک بڑے فنکار کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ مشکل فن کو عام انسان کے دل تک پہنچا دے۔
ناصر کاظمی کی غزل “وہ تو چلے گئے نظر سے” ہو یا ساغر صدیقی کی درد میں ڈوبی ہوئی شاعری “چلو اچھا ہوا تم بھول گئے”، فریدہ خانم نے ہر کلام میں اپنے احساسات اس انداز سے سموئے کہ سننے والا شاعر اور گلوکار کے درمیان فرق محسوس ہی نہیں کرتا۔ یوں لگتا ہے جیسے شاعر کی روح خود اپنی تخلیق بیان کر رہی ہو۔
موسیقار خلیل احمد کی خوبصورت دھن میں تسلیم فاضلی کا گیت “میں نے پیروں میں پائل تو باندھی نہیں، کیوں صدا آ رہی ہے چھنن چھنن” سامعین کے کانوں میں آج بھی رس گھولتا ہے۔
فریدہ خانم کے فن کا ایک اور اہم پہلو ان کی سادگی اور اصول پسندی تھی۔ انہوں نے فلمی دنیا کی چکاچوند سے خود کو دور رکھا اور زیادہ تر ریڈیو، ٹیلی ویژن اور ادب و موسیقی کی محفلوں ہی کو اپنا ذریعۂ اظہار بنایا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے فن میں ایک خاص وقار، خلوص اور روحانیت برقرار رہی۔ انہوں نے کبھی شہرت کے لیے اپنے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ فن کی عظمت کو مقدم رکھا۔
پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ حسنِ کارکردگی اور ہلالِ امتیاز جیسے اعلیٰ قومی اعزازات سے نوازا مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا سب سے بڑا اعزاز کروڑوں سامعین کی محبت ہے جو آج بھی ان کی آواز سنتے ہوئے ماضی کی حسین یادوں میں کھو جاتے ہیں۔ برصغیر کے موسیقی کے حلقوں میں انہیں یکساں احترام حاصل رہا اور ہندوستان کے نامور فنکار بھی ان کی گائیکی کے معترف رہے۔
آج، جب موسیقی کی دنیا میں تیز رفتار دھنیں، مصنوعی آوازیں اور وقتی شہرت عام ہو چکی ہے، فریدہ خانم کا فن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل موسیقی وہی ہے جو دل سے نکلے اور دل تک پہنچے۔ ان کی غزلیں محض نغمے نہیں بلکہ تہذیب، زبان، ادب اور کلاسیکی موسیقی کا ایسا قیمتی سرمایہ ہیں جو آنے والی نسلوں کو بھی فن کی اصل روح سے روشناس کراتا رہے گا۔
فریدہ خانم نے ثابت کیا کہ ایک سچی آواز وقت کی پابند نہیں ہوتی۔ وہ نسلوں کو عبور کرتی ہے، سرحدوں سے بلند ہو جاتی ہے اور دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کہیں “آج جانے کی ضد نہ کرو” کی پہلی لے ابھرتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ غزل آج بھی زندہ ہے اور اس کی روح کا نام فریدہ خانم ہے۔
When the Ghazal Found Its Voice




