مہنگائی ایک دلدل. بتول فاطمہ
ہمیں شاید یہ احساس ہی نہیں کہ مہنگائی صرف چیزوں کی قیمت بڑھنے کا نام نہیں۔ مہنگائی ایک دلدل ہے۔ ایسی دلدل جس میں انسان جتنا باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی اندر دھنس جاتا ہے۔
آج ایک عام آدمی کی سب سے بڑی خواہش کیا رہ گئی ہے؟ بس اتنی کہ گھر میں دو وقت کی روٹی عزت کے ساتھ آ جائے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے اچھا مستقبل چاہتا ہے، مگر موجودہ حالات اسے صرف آج کا چولہا جلانے کی فکر میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ہم عوام سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ٹیکس دیں، بجلی کے بل ادا کریں، پٹرول خریدیں، بچوں کو پڑھائیں، گھر چلائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، مگر ہم نے کبھی یہ سوچا کہ وہ یہ سب کرے گا کیسے؟
آمدنی کم ہے، اخراجات زیادہ ہیں اور روزگار کے دروازے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ نوجوان ہاتھ میں ڈگریاں لے کر سڑکوں پر پھرتے ہیں۔ کہیں ڈگری کو ناکافی قرار دیا جاتا ہے، کہیں تجربہ مانگا جاتا ہے۔ اگر ڈگری ہے تو تجربہ نہیں، اور اگر تجربہ حاصل کرنے کی کوشش کرو تو نوکری دینے والا کہتا ہے کہ عمر کم ہے یا قابلیت پوری نہیں۔
پھر یہی نوجوان اپنا ملک چھوڑنے کا سوچتا ہے۔
کچھ بہتر مستقبل کی امید میں بیرونِ ملک روانہ ہوتے ہیں۔ کوئی راستے میں جان کھو دیتا ہے، کوئی وہاں پہنچ کر بھی ذلت، تنہائی اور سخت محنت کا سامنا کرتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ وطن واپس آنے سے ڈرتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کی ڈگری شاید پھر کسی دفتر کی الماری میں پڑی فائل بن جائے گی۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے نوجوان پاکستان چھوڑ کیوں رہے ہیں؟
کیونکہ ان کی ضروریات بڑھ گئی ہیں، مگر آمدنی کے مواقع اسی رفتار سے نہیں بڑھے۔ ہم نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا نہیں کیے۔ ہم نے خواتین کے لیے گھر بیٹھے باعزت روزگار کے راستے نہیں بنائے۔ کتنی ہی پڑھی لکھی عورتیں اپنی صلاحیتیں لیے گھروں میں بیٹھی ہیں، مگر ان کے لیے ایسا نظام نہیں بنایا گیا جہاں وہ گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ معاشی طور پر بھی مضبوط ہو سکیں۔
ہم نے اپنے بزرگوں کے بارے میں بھی کتنی بار سوچا ہے؟ وہ لوگ جنہوں نے اپنی جوانی ملک اور خاندان کے لیے لگا دی، بڑھاپے میں ان کے لیے باعزت زندگی کے کتنے راستے موجود ہیں؟
ہمیں صرف ٹیکس بڑھانا یاد رہتا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھانا یاد رہتا ہے۔ بجلی کے بل بڑھانا یاد رہتا ہے۔ مگر کبھی یہ سوال نہیں کرتے کہ گھر کا وہ شخص جس کی آمدنی وہیں کھڑی ہے، وہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ کیسے چلے گا؟
یہی وہ دلدل ہے جس نے غریب کے قدم جکڑ لیے ہیں۔
کسی کے گھر میں بیٹی جوان ہو رہی ہے مگر باپ کے پاس شادی کے اخراجات نہیں۔ کسی گھر میں بچے فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم چھوڑ رہے ہیں۔ کوئی باپ قرض میں ڈوبا ہوا ہے اور کوئی ماں اپنے بچوں کے لیے اپنی خواہشات قربان کر رہی ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ بعض لوگ زندگی سے بھی مایوس ہو جاتے ہیں۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ انسان ہیں۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ ملک صرف ٹیکسوں سے نہیں، لوگوں کے سکون سے ترقی کرتا ہے۔ ایسا نظام چاہیے جہاں نوجوان کو روزگار ملے، عورت کو باعزت معاشی موقع ملے، بزرگ کو سہارا ملے، مزدور کو مناسب اجرت ملے اور عام آدمی کم از کم اپنے گھر کی دو وقت کی روٹی سکون سے کما سکے۔
ورنہ مہنگائی کی یہ دلدل صرف جیبیں خالی نہیں کرے گی، یہ امیدیں بھی نگل جائے گی۔
اور جس ملک کے نوجوانوں کی امید ختم ہو جائے، اس ملک کی ترقی کا خواب بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔
ہم پاکستان میں رہ کر گیس، پانی، بجلی، پٹرول، خوراک، حتیٰ کہ پہننے کے کپڑے تک ہر چیز اپنی جیب سے خرید رہے ہیں۔ ایسی کوئی بنیادی سہولت نہیں جو حکومت ہمیں مفت فراہم کر رہی ہو، مگر اس کے باوجود ہر طرف ٹیکس کا بوجھ بھی عوام ہی کے کندھوں پر ہے۔
یہ غریب عوام کے ساتھ زیادتی ہے، بلکہ ایک ایسا بوجھ ہے جس نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ اس ظلم سے باز آئیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ظلم کی کوئی گنجائش نہیں۔ اپنے فیصلوں سے عوام کو نہ دبائیں، بلکہ ایسے کام کریں کہ اللہ کے ہاں بھی عزت ہو اور عوام کے دلوں میں بھی
شگر گلگت بلتستان میں ایڈونچر ٹورازم اور ماؤنٹینیرنگ کے فروغ کے لیے مجوزہ مونٹینیرنگ انسٹیٹیوٹ شگر کے قیام کی جانب اہم پیش رفت
rap of Inflation




