urdu column Who Is Accountable

آخر کون ذمہ دار؟؟ تنویر حسین
کبھی کبھی ایک حادثہ محض حادثہ نہیں ہوتا، بلکہ پورے معاشرے کا آئینہ بن جاتا ہے۔ وہ ہمارے نظامِ حکومت، معاشرتی ترجیحات اور اجتماعی ضمیر پر ایسے سوالات ثبت کر جاتا ہے جن کا جواب صرف عدالتی فیصلوں سے نہیں، بلکہ ریاستی پالیسیوں اور قومی شعور سے دیا جاتا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

کاہنہ میں ایک گھریلو ٹیوشن سینٹر کی چھت گری، تو چند معصوم جانیں ملبے تلے دب گئیں۔ یہ خبر اخبارات کی سرخی ضرور بنی، مگر اس سے کہیں بڑا سوال پسِ منظر میں دب گیا: آخر ایک غریب ماں یا استاد کو اپنے کچے گھر کو درسگاہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟

حادثے کے فوراً بعد یہ مطالبہ سامنے آیا کہ گھروں میں چلنے والے ٹیوشن سینٹرز پر پابندی لگائی جائے، سخت قوانین نافذ کیے جائیں اور ذمہ داروں کو کڑی سزائیں دی جائیں۔ قانون یقیناً اپنا راستہ اختیار کرے، اور اگر کسی کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہو تو وہ جواب دہ بھی ہو۔ لیکن کیا انصاف صرف اتنا ہی ہے کہ ایک غریب خاتون کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے؟ یا پھر انصاف یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ ان حالات کا بھی محاسبہ کیا جائے جنہوں نے اس خاتون کو اپنے مختصر سے گھر میں درجنوں بچوں کو پڑھانے پر مجبور کیا؟

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کے طول و عرض میں ہزاروں گھروں میں شام ہوتے ہی تعلیم کی چھوٹی چھوٹی محفلیں سج جاتی ہیں۔ کہیں ایک ماں قرآنِ کریم اور ابتدائی جماعتوں کے بچے پڑھا رہی ہوتی ہے، کہیں کوئی ریٹائرڈ استاد معمولی معاوضے پر غریب بچوں کو سبق دیتا ہے، اور کہیں کوئی طالبِ علم اپنی تعلیم کا خرچ پورا کرنے کے لیے ٹیوشن پڑھا رہا ہوتا ہے۔ یہ کوئی غیر قانونی صنعت نہیں، بلکہ ریاستی تعلیمی کمزوریوں اور غربت سے جنم لینے والا متبادل نظام ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اکثر نتائج کو سزا دیتے ہیں، مگر اسباب کو چھیڑنے سے گریز کرتے ہیں۔

قرآنِ مجید انسانوں کے درمیان معاشی انصاف کو محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ دینی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾

ترجمہ: “اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق تھا۔”(سورۃ الذاریات، 51:19)

یہ آیت ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی دعوت دیتی ہے جہاں محروم کو خیرات کا محتاج نہیں بلکہ حق دار سمجھا جائے۔ اگر ایک باپ دن بھر دھوپ میں ریڑھی لگا کر بھی اپنے بچے کی معیاری تعلیم کا خرچ برداشت نہ کر سکے، تو یہ صرف اس کی ذاتی محرومی نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

قرآنِ کریم حکمرانوں اور ذمہ دارانِ ریاست کو عدل کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾

ترجمہ: “بے شک اللہ انصاف، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور زیادتی سے منع فرماتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔”(سورۃ النحل، 16:90)

عدل کا تقاضا صرف مجرم تلاش کرنا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا بھی ہے جہاں جرم یا مجبوری جنم ہی نہ لے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

ترجمہ: “تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔”(صحیح البخاری: 893، صحیح مسلم: 1829)

یہ حدیث صرف گھر کے سربراہ کے لیے نہیں، بلکہ حکمرانوں، وزیروں، انتظامیہ اور ہر صاحبِ اختیار کے لیے آئینہ ہے۔ اقتدار صرف اختیار کا نام نہیں، جواب دہی کا نام بھی ہے۔

آج اگر کوئی غریب ماں اپنے دو کمروں کے مکان میں تیس یا چالیس بچوں کو بٹھانے پر مجبور ہے تو اس سے پہلے ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ ریاست نے اس بستی کو کیا دیا؟ کیا وہاں ایسا سرکاری سکول موجود ہے جس پر والدین اعتماد کر سکیں؟ کیا وہاں محفوظ کمیونٹی ٹیوشن سینٹر موجود ہیں؟ کیا اس بچے کے لیے مفت ٹرانسپورٹ، معیاری تعلیم اور بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں؟ اگر ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر صرف ایک غریب عورت کو موردِ الزام ٹھہرا دینا انصاف نہیں، بلکہ کمزور کو آسان ہدف بنا لینا ہے۔

کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی بلند و بالا عمارتیں، شاہانہ دفاتر، لمبے پروٹوکول یا مہنگی گاڑیاں نہیں ہوتیں۔ ریاست کی اصل طاقت اس کی رعایا ہوتی ہے، اور رعایا میں بھی سب سے پہلے وہ غریب، مجبور اور کمزور لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے اسلام نے حکمرانوں کو جواب دہ بنایا ہے۔
اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو حضرت عمر بن خطابؓ کا دورِ حکومت عدل، احساسِ ذمہ داری اور عوامی خدمت کی روشن مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ رات کی تاریکی میں مدینہ کی گلیوں میں گشت کرنا، بیواؤں، یتیموں اور مسکینوں کے حالات معلوم کرنا اور ان کے گھروں تک راشن پہنچانا کسی تشہیری مہم کا حصہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسے حکمران کی عملی زندگی تھی جو خود کو عوام کا خادم سمجھتا تھا۔
ایک مرتبہ حضرت عمرؓفاروق نے رات کے وقت ایک خیمے سے بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ قریب جا کر معلوم ہوا کہ کئی دنوں سے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں۔ ماں بچوں کو بہلانے کے لیے ہانڈی میں صرف پانی گرم کر رہی تھی تاکہ وہ انتظار کرتے کرتے سو جائیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓفاروق فوراً بیت المال گئے، اپنے کندھے پر آٹے اور گھی کی بوری اٹھائی اور خود اس گھر تک لے گئے۔ ان کے خادم نے عرض کیا کہ یہ بوجھ مجھے اٹھانے دیجیے۔ حضرت عمرؓفاروق نے فرمایا:
“کیا قیامت کے دن بھی تم میرا بوجھ اٹھاؤ گے؟”
یہی وہ احساسِ جواب دہی تھا جس نے ایک معمولی سی جھونپڑی کے چراغ کو بھی خلیفۂ وقت کی نیند سے زیادہ اہم بنا دیا تھا۔
حضرت عمرؓ فاروق سے ایک مشہور قول بھی منسوب ہے:
“اگر دریائے فرات کے کنارے ایک جانور بھی بھوک یا پیاس سے ہلاک ہو جائے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں عمر سے سوال کرے گا۔”

قرآنِ مجید بھی اسی جواب دہی کی یاد دہانی کراتا ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾
ترجمہ: “بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔”
(سورۃ النساء: 4، آیت: 58)
حکومت ایک امانت ہے، وزارت ایک امانت ہے، بجٹ ایک امانت ہے، اور سب سے بڑھ کر عوام کی جان و مال اور ان کے بچوں کا مستقبل بھی ایک امانت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»
ترجمہ: “جس شخص کو اللہ کسی رعیت کا نگہبان بنائے اور وہ ان کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے مر جائے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔”
(صحیح البخاری: 7150، صحیح مسلم: 142)
یہ حدیث صرف حکمرانوں ہی نہیں بلکہ ہر صاحبِ اختیار کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے۔
آج اگر کسی غریب کی بیٹی غیر محفوظ عمارت میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنی جان گنوا دیتی ہے، تو سوال صرف اس عمارت کے مالک سے نہیں، بلکہ اس پورے نظام سے بھی ہے جس نے اس بچی کو محفوظ متبادل فراہم نہیں کیا۔
کیا ریاست کی ذمہ داری صرف مقدمات درج کرنا ہے؟
کیا حکومت کی ذمہ داری صرف افسوس کے بیانات جاری کرنا ہے؟
کیا چند سو روپے ماہانہ لینے والی بیوہ یا غریب خاتون ہی اس سانحے کی اصل مجرم ہے، یا وہ معاشی نظام بھی کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے جس نے اسے اس مقام تک پہنچایا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن سے نظریں چرانا آسان ہے، مگر تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔
غربت کبھی کسی قوم کا مقدر نہیں ہوتی، بلکہ اکثر اوقات یہ حکومتی ترجیحات، معاشی ناانصافی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب ریاست اپنے کمزور طبقے کو تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پھر غریب اپنے وسائل سے متبادل راستے تلاش کرتا ہے۔ کوئی اپنے گھر میں چھوٹی سی دکان کھول لیتا ہے، کوئی سلائی مشین چلا کر بچوں کا پیٹ پالتا ہے، اور کوئی اپنے دو کمروں کے مکان کو بچوں کی درسگاہ بنا دیتا ہے۔
یہ لوگ مجرم نہیں، حالات کے مارے ہوئے لوگ ہیں۔
قرآنِ مجید ہمیں بار بار کمزور اور محروم طبقات کا خیال رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾
اور ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
﴿وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ﴾
یہ آیات صرف یتیموں کے حقوق کی بات نہیں کرتیں بلکہ یہ ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتی ہیں جہاں کمزور کے حقوق کو ریاست اور معاشرہ اپنی ذمہ داری سمجھیں، نہ کہ اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھائیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ الماعون میں ان لوگوں کی سخت مذمت فرمائی ہے جو ضرورت مندوں سے بے اعتنائی برتتے ہیں:
﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ۝ فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ ۝ وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ﴾
ترجمہ:
“کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔”
(سورۃ الماعون: 107، آیات 1 تا 3)
یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ ایک اسلامی معاشرہ صرف عبادات سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ کمزوروں کی خبرگیری، انصاف اور معاشرتی ذمہ داری بھی دین کا بنیادی تقاضا ہے۔
آج اگر ایک باپ اپنے بچے کی تین سو یا پانچ سو روپے ماہانہ فیس ادا کرنے کے لیے دن بھر ریڑھی لگاتا ہے، تو وہ دراصل اپنے بچے کے بہتر مستقبل کی قیمت ادا کر رہا ہوتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کا بیٹا بھی اسی کی طرح مشقت کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے کے ہاتھ میں اوزار نہیں، قلم ہو؛ اس کے سامنے ورکشاپ نہیں، کتاب ہو؛ اس کی قسمت مزدوری نہیں، تعلیم سے سنورے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ریاست بھی یہی چاہتی ہے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ہر غریب بستی میں محفوظ سرکاری سکول کیوں نہیں؟ ہر یونین کونسل میں کمیونٹی لرننگ سینٹر کیوں نہیں؟ سرکاری سکولوں میں اساتذہ، فرنیچر، بیت الخلا، بجلی، پینے کا پانی اور بنیادی سہولیات کیوں نہیں؟ ایک غریب ماں اپنے گھر کو کلاس روم بنانے پر کیوں مجبور ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف تقریروں، پریس کانفرنسوں اور تعزیتی بیانات سے نہیں دیا جا سکتا۔
آج بھی وقت ہے کہ حکمران حضرت عمر بن خطابؓ کے طرزِ حکمرانی سے سبق سیکھیں۔ اقتدار کا مطلب صرف اختیار نہیں، جواب دہی بھی ہے۔ بیت المال صرف خزانہ نہیں، عوام کی امانت ہے۔ بجٹ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ قوم کے بچوں کے مستقبل کا عہد نامہ ہے۔
اگر آج بھی حکمرانوں کی ترجیحات نہیں بدلیں تو کل کوئی اور چھت گرے گی، کوئی اور ماں اپنے لختِ جگر کا جنازہ اٹھائے گی، کوئی اور باپ اپنے خواب ملبے سے نکالنے کی کوشش کرے گا، اور ہم پھر چند دن افسوس کر کے اگلے سانحے کا انتظار کرنے لگیں گے۔
ریاستیں نعروں سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔ قومیں محلات سے نہیں، سکولوں سے بنتی ہیں۔ اور حکومتیں اپنی تقریروں سے نہیں، بلکہ اس بات سے پہچانی جاتی ہیں کہ ان کے دور میں غریب کے بچے کتنے محفوظ، تعلیم یافتہ اور باوقار زندگی گزار رہے ہیں۔
کاہنہ کی گری ہوئی چھت ہمیں پکار پکار کر ایک ہی سوال پوچھ رہی ہے:
“کیا ہم غربت کو جرم قرار دیں گے، یا غربت کے اسباب ختم کریں گے؟”
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ…
چھتیں صرف اینٹوں اور سریے کی کمی سے نہیں گرتیں، بلکہ اس وقت گرتی ہیں جب ریاست کی ترجیحات کمزور پڑ جائیں، جب اقتدار عوام کے درد سے بے خبر ہو جائے، اور جب غریب کی آہ ایوانوں تک پہنچنا بند ہو جائے۔
اگر اس سانحے سے بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو تاریخ ایک اور حادثہ ضرور لکھے گی، مگر اس بار ملبے کے نیچے صرف بچے نہیں ہوں گے، بلکہ ہماری اجتماعی ذمہ داری، ہماری انسانیت اور ہماری حکمرانی کا اخلاقی جواز بھی دفن ہو چکا ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

آخر کون ذمہ دار؟؟ تنویر حسین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں