کھیلتے بچے، روشن مستقبل. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے مگر یہ مستقبل صرف اچھی تعلیم سے نہیں بلکہ صحت مند جسم، مضبوط کردار اور متوازن شخصیت سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کھیل اپنی حقیقی اہمیت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی کھیلوں کو اکثر محض تفریح یا وقت گزاری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ ترقی یافتہ اقوام انہیں قوم سازی، صحت عامہ اور انسانی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بنیادی وسیلہ تصور کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کھیلوں کو فروغ دیا جاتا ہے وہاں نہ صرف عالمی معیار کے کھلاڑی پیدا ہوتے ہیں بلکہ ایک صحت مند، پُراعتماد اور ذمہ دار نسل بھی پروان چڑھتی ہے۔
بچپن زندگی کا وہ دور ہے جب انسان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی نشوونما تیزی سے ہوتی ہے۔ کھیل اس نشوونما کو متوازن بناتے ہیں۔ میدان میں دوڑنے والا بچہ صرف جسمانی قوت حاصل نہیں کرتا بلکہ نظم و ضبط، وقت کی پابندی، برداشت، ٹیم ورک، قائدانہ صلاحیت اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی سیکھتا ہے۔ ہار اسے صبر اور خود احتسابی کا درس دیتی ہے جبکہ جیت عاجزی اور مزید محنت کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی کامیاب انسان اور مہذب معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔
بدقسمتی سے جدید طرزِ زندگی نے بچوں کے معمولات میں بڑی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ موبائل فون، ویڈیو گیمز، سوشل میڈیا اور مسلسل اسکرین کے استعمال نے کھیل کے میدانوں کی جگہ گھروں کے کمروں کو دے دی ہے۔ نتیجتاً بچوں میں جسمانی سرگرمی کم، موٹاپا، کمزور بینائی، ذہنی دباؤ، بے چینی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ ماہرینِ صحت بارہا اس امر پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کے لیے روزانہ جسمانی سرگرمی نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی توازن اور بہتر تعلیمی کارکردگی کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو بچے باقاعدگی سے کھیلتے ہیں، ان میں خود اعتمادی، توجہ اور فیصلہ سازی کی صلاحیت نسبتاً بہتر دیکھی گئی ہے۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی کھیلوں کو وہ مقام حاصل نہیں جو ہونا چاہیے۔ بیشتر اسکولوں میں تمام توجہ امتحانی نتائج پر مرکوز رہتی ہے جبکہ کھیلوں کے اوقات محدود یا رسمی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ بعض اداروں میں مناسب میدان، تربیت یافتہ کوچ یا کھیلوں کا ضروری سامان بھی موجود نہیں۔ اس صورتِ حال میں طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت کی تعمیر متاثر ہوتی ہے کیونکہ تعلیم کا مقصد صرف اچھے نمبروں کا حصول نہیں بلکہ ایک متوازن اور ذمہ دار انسان کی تشکیل بھی ہے۔
والدین کا کردار بھی اس سلسلے میں نہایت اہم ہے۔ بہت سے والدین اس خوف سے بچوں کو کھیلنے نہیں دیتے کہ کہیں ان کی پڑھائی متاثر نہ ہو حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مناسب وقت تک کھیلنے والا بچہ زیادہ توجہ، بہتر ذہنی تازگی اور مثبت رویے کے ساتھ اپنی تعلیمی ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ ضروری یہ ہے کہ تعلیم اور کھیل کے درمیان متوازن نظام قائم کیا جائے تاکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کریں، نہ کہ ایک دوسرے کی نفی۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ محلوں اور شہروں میں کھیلوں کے میدان محفوظ رکھے، نوجوانوں کے لیے معیاری سہولیات فراہم کرے، اسکولوں کی سطح سے ٹیلنٹ کی تلاش کا مؤثر نظام قائم کرے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی سرپرستی کرے۔ اسی طرح نجی شعبے، سماجی اداروں اور مقامی برادریوں کو بھی کھیلوں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جب کھیل عام ہوں گے تو صحت مند معاشرہ تشکیل پائے گا، جرائم اور منفی سرگرمیوں میں کمی آئے گی اور نوجوان اپنی توانائیاں مثبت سمت میں صرف کریں گے۔
پاکستان نے ماضی میں ہاکی، کرکٹ، اسکواش اور دیگر کھیلوں میں عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے نوجوان صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب ماحول، تربیت، وسائل اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر آج ہم بچوں کے لیے کھیل کے میدان آباد کریں گے تو کل یہی بچے ملک کا نام روشن کریں گے۔
یہ حقیقت کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ صحت مند، بااعتماد اور باکردار نسل ہی کسی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ کھیل اسی سرمایہ کی آبیاری کرتے ہیں۔ اس لیے اگر ہم ایک مضبوط، خوش حال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں بچوں کے ہاتھوں میں صرف کتاب ہی نہیں بلکہ گیند، بیٹ، ہاکی، فٹ بال اور دیگر کھیلوں کا سامان بھی دینا ہوگا۔ میدانوں میں گونجتی بچوں کی ہنسی دراصل ایک روشن، پُرامن اور مضبوط مستقبل کی نوید ہوتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ کھیلتے بچے ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
شگر ، اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں پر اہم اجلاس
column in urdu playing-children-bright-future




