urdu news update The Soil's Debt

مٹی کا قرض. مشی خان وسیر
مٹی صرف مٹی نہیں ہوتی۔ یہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ یہ وہ پہلی سانس ہوتی ہے جو ہم نے آزاد فضا میں لی۔ یہ وہ خوشبو ہے جس میں لوری، دعا اور ترانہ تینوں شامل ہیں۔ جس دن ہم اپنی مٹی کا قرض بھول جاتے ہیں، اسی دن ہم اپنی پہچان بھی کھو دیتے ہیں۔

وطن کی محبت صرف 14 اگست کے نعروں اور جھنڈے لہرانے کا نام نہیں ہے۔ یہ عمل کا نام ہے۔ یہ کردار کا نام ہے۔ یہ اس عہد کا نام ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں وطن کو پہلی ترجیح دیں گے۔

مٹی کا سب سے پہلا قرض ایمانداری ہے۔ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کا ہر فرد اپنے حصے کا کام دیانت سے نہ کرے۔ استاد کلاس میں پوری محنت سے پڑھائے۔ ڈاکٹر مریض کو اپنا سمجھ کر دیکھے۔ تاجر ناپ تول میں کمی نہ کرے۔ سرکاری ملازم فائل کو رشوت کی نظر سے نہ دیکھے۔ ہم بجلی چوری کریں، ٹیکس چھپائیں، قطار توڑیں تو دراصل ہم اپنی ہی مٹی کے ساتھ بے وفائی کر رہے ہوتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بددیانتیاں ہی بڑے بڑے بحرانوں کو جنم دیتی ہیں۔

مٹی کا دوسرا قرض اتحاد ہے۔ وطن تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب اس کے لوگ ایک جان ہوں۔ زبان، صوبے اور فرقے کی دیواریں ہم نے خود کھڑی کی ہیں۔ لیکن دشمن ہماری اسی تقسیم کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ مشکل وقت میں ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ متاثرہ کون ہے اور کہاں کا ہے۔ سیلاب ہو یا غربت، ہمیں مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ یہ مٹی ہم سب کی سانجھی ہے۔

مٹی کا تیسرا قرض نوجوانوں کی تربیت ہے۔ کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ آج ہمارے نوجوان مایوس ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں روزگار کب ملے گا؟ ہمیں عزت کب ملے گی؟ مٹی کا قرض ہے کہ ہم ان کے ہاتھ میں کتاب دیں، انہیں ہنر سکھائیں، انہیں امید دیں۔ انہیں بتائیں کہ کامیابی شارٹ کٹ سے نہیں آتی، محنت سے آتی ہے۔ اگر ہم نے نوجوانوں کو نظر انداز کیا تو ہم اپنی آنے والی نسلوں سے غداری کے مرتکب ہوں گے۔

مٹی کا چوتھا قرض ماحول کی حفاظت ہے۔ یہ مٹی ہمیں اناج دیتی ہے، پانی دیتی ہے، ہوا دیتی ہے۔ بدلے میں وہ ہم سے صرف تھوڑی سی حفاظت مانگتی ہے۔ ایک پودا لگانا، نلکا بند کرنا، کچرا کوڑے دان میں پھینکنا… یہ سب بھی وطن کی خدمت ہے۔ ترقی کا مطلب فطرت کو اجاڑنا نہیں ہوتا۔

اور سب سے بڑھ کر مٹی کا قرض سچ بولنا ہے۔ آج قلم اور سوشل میڈیا سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انہیں نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہ کریں۔ تنقید کریں لیکن تعمیری کریں۔ مقصد وطن کو گرانا نہیں، وطن کو سنوارنا ہے۔

وطن ہم سے قربانی مانگتا ہے۔ کبھی خون کی، کبھی وقت کی، کبھی آسائش کی۔ لیکن سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ ہم اپنی “میں” کو چھوڑ کر “ہم” بن جائیں۔ ہمیں تقریروں سے زیادہ کردار کی ضرورت ہے۔ شکایتوں سے زیادہ حل کی ضرورت ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنی مٹی سے وفا کی، دنیا نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔ اور جنہوں نے مٹی بیچ دی، وہ خود بھی بک گئیں۔

آئیے آج عہد کریں۔ ہر صبح اٹھ کر خود سے پوچھیں کہ آج میں نے اپنی مٹی کے لیے کیا؟ اگر جواب میں کوئی بھلائی ہے، کوئی امید ہے، کوئی سچ ہے تو سمجھیں آپ نے اپنے قرض کی ایک قسط ادا کر دی۔

بے وفا قومیں زندہ نہیں رہتیں، اور وفادار قوموں کو مٹایا نہیں جا سکتا۔
پاکستان زندہ باد

urdu news update The Soil’s Debt

50% LikesVS
50% Dislikes

مٹی کا قرض. مشی خان وسیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں