خوفِ خلق سے یقینِ حق تک. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
زندگی ایک مسافر کے مانند ہے جو صحراؤں، جنگلوں اور دشوار گزار راستوں سے گزرتا ہوا اپنی منزل کی تلاش میں رہتا ہے۔ راستے میں اسے کئی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ راستہ بند ہے، کوئی اس کی صلاحیتوں کا مذاق اڑاتا ہے، کوئی اس کے خوابوں کو دیوانگی قرار دیتا ہے اور کوئی اسے ناکامی کا آئینہ دکھاتا ہے۔ اگر وہ مسافر ہر آواز کو اپنی قسمت کا فیصلہ سمجھ لے تو شاید کبھی منزل تک نہ پہنچ سکے لیکن اگر اس کی نظریں صرف اس روشن ستارے پر ہوں جو ہر اندھیری رات میں سمت دکھاتا ہے، تو وہ بھٹکنے کے باوجود منزل پالیتا ہے۔ بندۂ مومن کے لیے وہ روشن ستارہ صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذات ہے۔
افسوس کہ آج کا انسان اپنے رب کی آواز سے زیادہ لوگوں کی آواز سننے لگا ہے۔ کسی کی تعریف اس کے حوصلے کو آسمان تک پہنچا دیتی ہے اور کسی کی تنقید اسے زمین بوس کر دیتی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ کسی انسان کے ہاتھ میں ہمارا رزق ہے، نہ عزت، نہ نصیب اور نہ جنت۔ یہ سب اختیارات صرف اس ذات کے پاس ہیں جس نے فرمایا:
“اور زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔”
جب رزق کا ذمہ اللہ نے لیا، عزت و ذلت کا اختیار اللہ کے پاس ہے، زندگی اور موت کا مالک بھی وہی ہے، تو پھر مخلوق کے چند جملے ہمارے یقین کو کیوں متزلزل کر دیں؟
تمثیل کے طور پر ایک دریا کو دیکھیے۔ پہاڑ اس کا راستہ روکتے ہیں، چٹانیں اس سے ٹکراتی ہیں مگر دریا نہ رکتا ہے، نہ واپس لوٹتا ہے۔ وہ اپنا راستہ بناتا ہوا آخرکار سمندر سے جا ملتا ہے۔ مومن بھی اسی دریا کے مانند ہوتا ہے۔ دنیا کی تلخیاں، لوگوں کی باتیں، ناکامیاں اور آزمائشیں اس کی رفتار کو سست تو کر سکتی ہیں مگر اس کے یقین کو ختم نہیں کر سکتیں کیونکہ اس کا دل اس رب سے وابستہ ہوتا ہے جو “کن” کہہ کر ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ظاہری اسباب ختم ہو چکے تھے مگر یقین باقی تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آگ کو حکم ہوا:
“اے آگ! ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔”
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کا لشکر مگر اللہ پر بھروسے نے سمندر کو راستہ بنا دیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینکا گیا، غلام بنا کر بیچا گیا، قید خانے میں ڈال دیا گیا لیکن لوگوں کے فیصلے اللہ کے فیصلے پر غالب نہ آسکے اور وہی قیدی مصر کا خزانچی بنا دیا گیا۔ یہ واقعات محض اساطیر الاولین نہیں بلکہ ایمان کی زندہ تفسیریں ہیں کہ جب اللہ کسی بندے کے لیے خیر کا فیصلہ کر دے تو دنیا کی کوئی طاقت اس خیر کو روک نہیں سکتی۔
بدقسمتی سے آج کا نوجوان اپنی حیثیت کا تعین سوشل میڈیا کے تبصروں، لائکس اور دوسروں کی رائے سے کرنے لگا ہے۔ ایک منفی جملہ اس کے خواب توڑ دیتا ہے اور ایک ناکامی اسے مایوسی کی گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے۔ حالانکہ قرآن مومن کو ناامیدی کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔”
ناامیدی دراصل شیطان کا ہتھیار ہے جبکہ امید مؤمن کی پہچان ہے۔ شیطان انسان کو اس کی کمزوریاں یاد دلاتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت، مغفرت اور مدد کا وعدہ فرماتا ہے۔ اسی لیے اہلِ دل فرماتے ہیں کہ جب دنیا کے تمام دروازے بند ہو جائیں تو توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور جب زمین کے سہارے ٹوٹ جائیں تو آسمان کا رب اپنے بندے کے قریب ہو جاتا ہے۔
حقیقی توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں بلکہ اپنی پوری کوشش کرنا، جائز اسباب اختیار کرنا اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دینا ہے۔ کسان بیج بوتا ہے، زمین تیار کرتا ہے، پانی دیتا ہے مگر بارش برسانا اس کے اختیار میں نہیں۔ اسی طرح انسان محنت کرتا ہے، دعا کرتا ہے، صبر کرتا ہے مگر کامیابی کا پھل اللہ کے حکم سے ہی ملتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دل کو سکون نصیب ہوتا ہے کیونکہ بندہ جان لیتا ہے کہ میرا رب میرے لیے وہی فیصلہ کرے گا جس میں میری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔
اولیائے کرام نے ہمیشہ یہی سبق دیا کہ جو شخص مخلوق کی رضا کے پیچھے بھاگتا ہے وہ کبھی مطمئن نہیں رہتا اور جو خالق کی رضا پا لیتا ہے، دنیا کی ناراضگیاں بھی اسے بے چین نہیں کرتیں۔ دل کا سکون مال سے نہیں، شہرت سے نہیں، لوگوں کی تعریف سے نہیں بلکہ ذکرِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:
“خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔”
اس لیے اگر کوئی آپ کی صلاحیتوں کو کم تر سمجھے، آپ کے خوابوں پر ہنسے یا آپ کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کرے تو یاد رکھیے کہ وہ نہ آپ کا مالک ہے، نہ رازق، نہ مقدر لکھنے والا اور نہ آخرت کا فیصلہ کرنے والا۔ آپ کا معاملہ اس رب کے ہاتھ میں ہے جو بند دروازوں میں راستے پیدا کرتا ہے، بنجر زمین سے بہار نکالتا ہے، آنسوؤں کو دعاؤں میں اور دعاؤں کو تقدیر میں بدل دیتا ہے۔
زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ یہ نہیں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ اللہ آپ کے بارے میں کیا جانتا ہے۔ اگر دل اخلاص سے آباد ہو، پیشانی سجدوں سے روشن ہو، زبان ذکرِ الٰہی سے تر ہو اور امید صرف ربِ کریم سے وابستہ ہو تو دنیا کی کوئی مایوسی انسان کو شکست نہیں دے سکتی۔
آئیے، اپنے دلوں سے لوگوں کے خوف کو نکال کر اللہ پر یقین کو زندہ کریں کیونکہ جو شخص رب کو اپنا سہارا بنا لیتا ہے، اس کے لیے ناممکن راستے بھی آسان ہو جاتے ہیں، ٹوٹے ہوئے خواب بھی حقیقت بن جاتے ہیں اور تاریک راتیں بھی طلوعِ سحر کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔ یہی توکل ایمان کی روح، بندگی کا حسن اور کامیاب زندگی کا سب سے روشن راز ہے۔
column in urdu from-fear-of-people-to-faith-in-god




