عنوان: یہ کہانی ہم سب کی ہے . ماہ نور کنول
یہ کالم کسی ایک شخص کے خلاف نہیں۔ یہ شکوہ کسی ایک طبقے سے نہیں۔ یہ تنقید کسی ایک ادارے پر نہیں۔ یہ بات ہم سب کے بارے میں ہے اور سب سے پہلے خود میرے اور آپ کے بارے میں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں سب زبان سے نیک ہیں مگر عمل سے لاپرواہ۔ جہاں ہر شخص کہتا ہے “اللہ سب جانتا ہے” مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اللہ سب دیکھ بھی رہا ہے۔ یہاں اگر کوئی گر جائے تو ہاتھ بڑھانے کے بجائے موبائل نکال لیا جاتا ہے۔ دکھ اب تماشہ ہے اور تکلیف ایک خبر۔
ہم کہتے ہیں: “مجھے کیا؟ میں کیوں بولوں؟ میرا کیا فائدہ؟” یہ تین جملے اس معاشرے کی بنیاد بن چکے ہیں۔ کوئی سچ بول دے اگر تو ہم کہتے ہیں “یہ منفی ہے” اگر کوئی خاموش رہ کر ٹوٹ جائے تو ہم کہتے ہیں “کمزور تھا” ہم نے سچ کو بدتمیزی سمجھ لیا اور بدتمیزی کو بہادری۔ یہاں سب کو انصاف چاہیے مگر انصاف دینا کوئی نہیں چاہتا۔ یہاں سب کو عزت چاہیے مگر عزت کرنا بوجھ لگتا ہے۔ ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں صرف مشکل میں۔ آسانی میں ہم خود کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: “اللہ بڑا غفور و رحیم ہے” اور پھر ہر ظلم کو اسی جملے کے پیچھے چھپا دیتے ہیں۔ یہ کیسا ایمان ہے جس کے بعد دل نرم نہیں ہوتا؟ یہ کیسی عبادت ہے جو انسان کو انسان نہیں بناتی؟ ہم نے دین کو نماز تک محدود کر دیا اور اخلاق کو غیر ضروری سمجھ لیا۔ ہم مسجد میں روتے ہیں اور باہر آ کر لوگوں کے دل توڑ دیتے ہیں۔ ہم بچوں کو دعا سکھاتے ہیں مگر برداشت نہیں۔ ہم انھیں قرآن پڑھاتے ہیں مگر سچ بولنے کی ہمت نہیں دیتے۔ پھر شکوہ کرتے ہیں کہ نسلیں بگڑ گئیں۔
سچ یہ ہے: نسلیں نہیں بگڑیں مثالیں ختم ہو گئیں۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ماں باپ تھک جاتے ہیں اور بچے تنہا ہو جاتے ہیں۔ جہاں عورت بولے تو کردار پر بات ہوتی ہے اور مرد بولے تو طاقت پر۔ جہاں رشتے نبھانے سے زیادہ توڑنے کے بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: “صبر کرو” مگر خود کسی کا صبر نہیں بنتے۔ ہم کہتے ہیں: “اللہ سب ٹھیک کر دے گا” مگر خود کچھ ٹھیک کرنے کو تیار نہیں۔ یہ شکوہ ہے کہ ہم نے ذمہ داری اللہ پر ڈال دی اور خود آزاد ہو گئے۔ حالانکہ اللہ نے ہمیں عقل دی، ضمیر دیا اور اختیار دیا۔ اللہ نے نہیں کہا تھا کہ سب کچھ دیکھتے رہو۔ اللہ نے کہا تھا عدل کرو، رحم کرو، سچ بولو لیکن ہم نے تماشہ دیکھنا آسان سمجھا۔ یاد رکھیں! جو معاشرہ دکھ پر ہنستا ہے، وہ کل خود چیخے گا اور جو قوم آئینہ توڑ دیتی ہے، وہ اپنا چہرہ کبھی نہیں دیکھ پاتی۔ یہ وقت شکوہ سننے کا نہیں، یہ وقت خود بدلنے کا ہے کیوں کہ اللہ کو مان لینا کافی نہیں، اللہ کے پسندیدہ بندے بننا پڑتا ہے۔ پسندیدہ بندے وہ ہوتے ہیں جو بولتے کم اور درست بولتے ہیں، جو روتے کم اور سنبھالتے زیادہ ہیں۔ ہم نے اگر اب بھی نہ سمجھا تو یاد رکھیں اللہ ہمیں چھوڑے گا نہیں مگر ہم اپنے انجام خود لکھیں گے۔ انجام خود کسی ایک دن میں نہیں لکھا جاتا۔ یہ روز کے چھوٹے فیصلوں سے بنتا ہے۔ یہ اس بات سے شروع ہوتا ہے کہ ہم روز صبح آنکھ کھول کر کیا سوچتے ہیں اور رات کو سوتے وقت کس بات پر مطمئن ہوتے ہیں۔ جب ہم سچ جانتے ہوئے خاموش رہتے ہیں، تو ہم اپنے انجام میں ایک سطر لکھ دیتے ہیں۔ جب ہم کسی کا حق کھا کر یہ کہہ دیتے ہیں “چلو کوئی بات نہیں” تو انجام کا ایک باب بند ہو جاتا ہے۔ ہم اپنے انجام اس دن لکھتے ہیں جب ہم کسی کو توڑ کر خود کو کامیاب سمجھ لیتے ہیں اور اس دن بھی جب ہم کسی کا ساتھ دینے کے بجائے تماشائی بن جاتے ہیں۔ انجام اس دن بھی لکھا جاتا ہے جب ہم اپنی سہولت کے لیے اپنے اصول بدل لیتے ہیں۔ اس دن بھی جب ہم سچ بولنے والے کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ مت سمجھیے کہ انجام صرف مرنے کے بعد سامنے آتا ہے۔ نہیں کچھ انجام ہم زندہ ہی بھگتتے ہیں۔ رشتوں کی ویرانی، دل کا خالی پن، عبادت کے بعد بھی بے سکونی یہ سب انجام کے ہی چھوٹے چھوٹے اعلان ہیں؛ لیکن خوشخبری یہ ہے کہ انجام بدلا بھی جا سکتا ہے۔ جس دن ہم یہ مان لیں کہ غلطی صرف دوسروں کی نہیں، ہمیں بھی ٹھیک ہونا ہے۔ اسی دن قلم کا رخ بدل جاتا ہے۔ جس دن ہم کسی کمزور کا ہاتھ تھام لیں، کسی سچ بولنے والے کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور کسی دکھتے دل پر ہنسنے کے بجائے خاموشی سے مرہم رکھ دیں اسی دن ہمارا انجام نرم ہو جاتا ہے۔ اللہ نے ہمیں مجبور نہیں کیا۔ اس نے ہمیں ذمہ دار بنایا ہے۔ اس نے کہا: “میں راستہ دکھا دوں گا” لیکن چلنا ہمیں خود ہے۔ ہم اگر چاہتے ہیں کہ انجام اچھا ہو، تو ہمیں آج بہتر انسان بننا ہوگا کیوں کہ اللہ وہی لکھتا ہے جو بندہ اپنے عمل سے چاہتا ہے۔ یاد رکھیں انجام شور سے نہیں بدلتا، انجام کردار سے بدلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کل ہمارا کیا ہوگا اس کا فیصلہ ہم آج کر رہے ہیں۔ قلم ہمارے ہاتھ میں ہے۔ سیاہی بھی موجود ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنے نام کے ساتھ رحمت لکھتے ہیں یا حسرت۔
column in urdu This Story Belongs to All of Us




