urdu column climate-change-gilgit-baltistan-glaciers-danger

موسمیاتی تبدیلی اور گلگت بلتستان کے گلیشیئرز: ایک بڑھتا ہوا خطرہ. شاہ حسین شکور بلتستانی
آج کل موسم کا درجۂ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے اثرات پورے پاکستان میں محسوس کیے جا رہے ہیں، تاہمگلگت بلتستان سے راولپنڈی نئے ٹرانسپورٹ کرایوں کا اعلان، 24 جون 2026 سے نافذ”> گلگت بلتستان جیسے پہاڑی اور برفانی خطے بھی اب اس تبدیلی سے محفوظ نہیں رہے۔
چند دہائیاں قبل گلگت بلتستان اپنی ٹھنڈی آب و ہوا، سرسبز وادیوں، برف پوش پہاڑوں اور خوبصورت قدرتی مناظر کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی پہلی پسند تھا۔ لیکن آج صورتحال بدل چکی ہے۔ بہت سے سیاحوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے درجۂ حرارت میں پہلے جیسا واضح فرق محسوس نہیں ہوتا۔ یہ ایک خطرناک اشارہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہمارے ماحول کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔
اس تبدیلی کی بڑی وجوہات میں بے دریغ جنگلات کی کٹائی، شجرکاری میں کمی، آلودگی میں اضافہ اور ماحول دوست طرزِ زندگی سے دوری شامل ہیں۔ درخت کم ہونے سے ماحول کا قدرتی توازن بگڑتا ہے، درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے اور گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلیں بنتی ہیں، اچانک سیلاب آتے ہیں، سڑکیں، پل اور زرعی زمینیں تباہ ہوتی ہیں جبکہ مقامی آبادی کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کو فوری، مؤثر اور طویل المدتی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جنگلات کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، غیر قانونی درختوں کی کٹائی روکی جائے، گلیشیئرز اور گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی کی جائے، خطرناک علاقوں میں حفاظتی بند، مضبوط پل اور جدید وارننگ سسٹم قائم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شجرکاری مہمات کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے، ماحول دوست توانائی کو فروغ دیا جائے اور عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنے کے لیے مؤثر مہمات چلائی جائیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

یہ صرف حکومت یا کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا بھی فرض ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے، ماحول کو آلودگی سے بچائے اور قدرتی وسائل کی حفاظت کرے۔ اگر آج ہم نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ گرم، غیر محفوظ اور قدرتی آفات سے بھرپور ماحول ملے گا۔

قدرت کا تحفظ ہی ہماری بقا کی ضمانت ہے۔ آج اٹھایا گیا ایک درست قدم آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

بلائنڈ لیک (جرباژھو) میں ڈوبنے والے دو نوجوانوں کو بروقت سیاح ڈاکٹر نے انتہائی مہارت سے سی پی ار دینے کی وجہ سے زندگی بچ گئے نامعلوم سیاح‌ڈاکٹر کا شکرگزار ہیں‌ اہل علاقہ
urdu column climate-change-gilgit-baltistan-glaciers-danger

50% LikesVS
50% Dislikes

موسمیاتی تبدیلی اور گلگت بلتستان کے گلیشیئرز: ایک بڑھتا ہوا خطرہ. شاہ حسین شکور بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں