Holy Prophet Muhammad 0

رحلتِ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ. شبیر حسین کمال
رحلتِ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم سانحہ ہے جس نے پوری امتِ مسلمہ کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی، رحمت للعالمین اور انسانیت کے سب سے عظیم رہبر تھے۔ آپ ﷺ کی آمد سے جہالت کے اندھیرے چھٹے، توحید کا پیغام عام ہوا اور انسان کو عزت، اخلاق، عدل اور انسانیت کا درس ملا۔
رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی پوری زندگی اللہ کی رضا اور دینِ خدا کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔ مکہ کی سختیاں برداشت کیں، طائف کے مصائب سہے، ہجرت کی، جنگوں میں مشکلات برداشت کیں اور ہر موقع پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ آپ ﷺ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس کی بنیاد ایمان، اخوت، عدل اور تقویٰ پر تھی۔
رسولِ خدا ﷺ کی رحلت سے پہلے آپ ﷺ کی طبیعت ناساز رہنے لگی۔ بیماری کے باوجود آپ ﷺ امت کی فکر میں مبتلا رہے۔ آپ ﷺ نے نماز کی پابندی، حقوق العباد، تقویٰ اور اہلِ بیتؑ سے محبت کی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ کی زندگی کا آخری حصہ بھی امت کی ہدایت اور خیر خواہی میں گزرا۔رسولِ اکرم ﷺ کی شخصیت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت تھی۔ قرآن کریم نے آپ ﷺ کو رحمۃً للعالمین قرار دیا۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عفو و درگزر کا معاملہ کیا، یتیموں، مسکینوں، غلاموں اور کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔رسولِ خدا ﷺ کی سب سے بڑی میراث قرآنِ کریم اور آپ ﷺ کی تعلیمات ہیں۔ آپ ﷺ نے امت کو اللہ کی کتاب سے وابستہ رہنے اور اپنے اہلِ بیتؑ سے محبت رکھنے کی تاکید فرمائی۔ اہلِ بیتؑ سے محبت دراصل رسولِ خدا ﷺ سے محبت کا حصہ ہے، کیونکہ یہی وہ پاکیزہ گھرانہ ہے جس نے دین کی حفاظت اور رسولِ خدا ﷺ کی تعلیمات کو آگے پہنچانے میں عظیم کردار ادا کیا۔جب رسولِ خدا ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو مدینہ منورہ غم میں ڈوب گیا۔ صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتؑ پر قیامت جیسا غم تھا۔ خصوصاً حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے یہ صدمہ ناقابلِ تصور تھا۔ جس باپ نے انہیں ہمیشہ محبت، شفقت اور عزت دی، وہ باپ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ بیٹی کے لیے باپ کی جدائی ویسے ہی بہت بڑا غم ہے، لیکن حضرت فاطمہؑ کے لیے یہ غم اس لیے بھی عظیم تھا کہ وہ رسولِ خدا ﷺ کی سب سے محبوب بیٹیوں میں سے تھیں اور اپنے والدِ گرامی سے بے حد محبت کرتی تھیں۔
رسولِ خدا ﷺ کی رحلت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور ہر انسان کو ایک دن اپنے رب کی طرف واپس جانا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق گزارے، نماز قائم کرے، سچ بولے، ظلم سے بچے، والدین کا احترام کرے، لوگوں کے حقوق ادا کرے اور اہلِ بیتؑ سے محبت کو اپنے دل کا حصہ بنائے۔
آج اگر ہم رسولِ خدا ﷺ سے حقیقی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں اپنانا ہوگا۔ صرف زبان سے درود و سلام پڑھنا کافی نہیں، بلکہ ہمارے اخلاق، معاملات، عبادات اور کردار میں بھی رسولِ خدا ﷺ کی تعلیمات نظر آنی چاہئیں۔
رحلتِ رسولِ خدا ﷺ کا دن ہمیں غم کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ قرآنِ کریم کو سمجھیں گے، رسولِ خدا ﷺ کی سیرت پر عمل کریں گے، اہلِ بیتؑ کی محبت کو مضبوط کریں گے اور معاشرے میں محبت، عدل، اخوت اور انسانیت کو فروغ دیں گے۔پروردگارِ عالم ہمیں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت، آپ ﷺ کی شفاعت اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں اہلِ بیتِ اطہارؑ کی محبت و ولایت پر ثابت قدم رکھے۔
اللّٰهم صلِّ على محمدٍ وآلِ محمد۔
یا رسولَ اللہ ﷺ! آپ کی رحلت امت کے لیے ایسا غم ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ آج بھی کروڑوں دل آپ ﷺ کی یاد میں محبت سے جھکتے ہیں اور آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔
السلام علیک یا رسولَ اللہ ﷺ، السلام علیک یا حبیبَ اللہ ﷺ۔

The Passing of the Holy Prophet Muhammad ﷺ.

اصل بہادری . بتول فاطمہ

ایک درخت، ہزار نعمتیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

100% LikesVS
0% Dislikes

رحلتِ رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ. شبیر حسین کمال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں