True Courage 0

اصل بہادری . بتول فاطمہ
میرا المیہ یہ ہے کہ میں دنیا کو دل کی آنکھوں سے دیکھتی ہوں۔ یہ آنکھیں ظاہر کا میک اپ نہیں دیکھتیں، یہ تو باطن میں اتر جاتی ہیں، اور وہاں مجھے ہر انسان اپنی زندگی کا ہیرو نظر آتا ہے۔ ہر کوئی اپنی کہانی کا مرکزی کردار ہے، اپنی جنگ خود لڑ رہا ہے، اپنے میدان میں خود ہی سپہ سالار بھی ہے اور خود ہی لشکر بھی۔
وہ بچہ بھی، جو صبح سویرے روزی کی تلاش میں نکلتا ہے، مجھے ہیرو لگتا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں بستے کی جگہ بوجھ ہے، کندھوں پر بچپن کی جگہ ذمہ داری ہے۔ حالانکہ اس کا بچپن کچھ اور مانگتا تھا کھلونے، کتابیں، گلیوں میں شور، چھٹیوں کی خوشیاں مگر زندگی نے اس سے کچھ اور لکھوا لیا۔ پھر بھی وہ ہر صبح اٹھتا ہے، چلتا ہے، لڑتا ہے۔ کیا یہی ہیرو ہونا نہیں؟
اور پھر سوچتی ہوں اچھا انسان اور برا انسان، یہ دونوں خود بخود پیدا نہیں ہوتے۔ یہ معاشرہ گھڑتا ہے۔ کوئی ماں چور کو جنم نہیں دیتی، چور بعد میں بنتا ہے بھوک، محرومی، نا انصافی، اور موقعوں کی کمی اسے گھڑتی ہے۔ مگر معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ایک بار جو چور بن جائے، اس کی پوری نسل اسی نام سے پہچانی جاتی ہے۔ چور کی اولاد بھی چور کہلاتی ہے، چاہے اس نے کبھی کسی کا کچھ نہ چرایا ہو۔ ہم گناہ کو معاف نہیں کرتے، اور گناہ گار کی اولاد کو بھی سزا دیتے رہتے ہیں۔
کاش کوئی یہ سمجھ سکے کہ ہر بری راہ کے پیچھے کوئی نہ کوئی مجبوری چھپی ہوتی ہے، اور ہر معصوم چہرے کے پیچھے ایک خاموش جنگ۔ میں جب بھی کسی کو دیکھتی ہوں، چاہے وہ کوئی مزدور ہو، کوئی گناہ گار، یا کوئی بچہ روٹی کے لیے نکلا ہوا مجھے اس میں ایک ہیرو دکھتا ہے، کیونکہ وہ زندہ ہے، وہ لڑ رہا ہے، اور یہی شاید سب سے بڑی بہادری ہے۔

ایک درخت، ہزار نعمتیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

روزِ محشر اور میں (افسانہ) تحریر نگار : طہٰ علی تابش بلتستانی

True Courage

50% LikesVS
50% Dislikes

اصل بہادری . بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں