Day of Judgment 0

روزِ محشر اور میں (افسانہ) تحریر نگار : طہٰ علی تابش بلتستانی
جب قبر میں میری آنکھ کھلی تو دو خوفناک فرشتے مجھے گھسیٹتے ہوئے عالمِ برزخ کی طرف لے جا رہے تھے۔ میں نے وہاں بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہا۔ میرا ایک بہترین دوست، اسسٹنٹ کمشنر صاحب بھی وہاں موجود تھا۔ میں نے اس سے التجا کی: ” یار دنیا میں تو میری ہر اچھائی اور برائی پر پردہ رکھ دیتے تھے، اب مجھے ان خوفناک چہروں سے چھٹکارا دلوا دو۔” اس نے نم آنکھوں کے ساتھ اپنا جلا ہوا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور کہا: “دوست ! یہ گرم لوہے کی زنجیروں کے نشانات ہیں۔ یہاں مجھے ملک کا وزیر اعظم بھی نہیں بچا پایا۔” میں نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو میرے ایک پولیس افسر دوست کو بھی دو خوفناک فرشتے گھسیٹتے ہوئے لا رہے تھے۔ میں نے حیرت سے پوچھا: “ساجد ! تم تو اس قدر چالاک تھے کہ دنیا میں تمہیں کوئی قانون پھنسا نہیں پایا، اب یہاں کیا ہوا ؟ کیوں یہ لوگ تمہیں تنگ کر رہے ہیں؟ کوئی اثر و رسوخ چلاؤ اور مجھے بھی ان سے آزاد کرواؤ۔” ساجد نے بے بسی سے کہا : ” یار! یہ جگہ بڑی عجیب ہے۔ یہاں ہر شخص واویلا کر رہا ہے، بچنا بہت مشکل ہے دوست! بس دعا کرو کہ کوئی نیکی کام آ جائے۔” آخر کار، ہمیں عالمِ برزخ کی اس خوفناک جگہ پر پہنچا دیا گیا جہاں ہمارے سارے جاننے والے دوست احباب پہلے ہی سے رو رہے تھے۔ دنیا میں ایک کال پر حاضر ہونے والے دوست یہاں آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے ساتھ کھڑے فرشتے سے ڈرتے ڈرتے پوچھا : “بھئی! کیا یہ قیامت کا سماں تو نہیں ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے سب کچھ ختم کر دیا ؟ ” اس نے ایک زور دار تھپڑ میرے منہ پر رسید کرتے ہوئے کہا: “ابے جاہل ! دنیا میں باقی کتابوں کے ساتھ کچھ پل قرآن اور احادیث کی کتابیں بھی پڑھ لیتا تو یہ نوبت نہ آتی۔ یہ عالمِ برزخ ہے، یوں سمجھ لے کہ چھوٹی جنت اور دوزخ ۔ تم روزِ محشر تک یہاں رہو گے اور اپنے اعمال کی سزا و جزا کاٹتے رہو گے۔” میں نے بڑی ہمت کر کے ایک اور سوال کیا: “قیامت کے لیے ابھی کتنا وقت باقی ہے؟” اب کی بار اس نے مارا تو نہیں، لیکن غصے میں کہا: “ہوں گے کوئی تین چار ارب سال ” میری تو حالت ہی غیر ہو گئی۔ میں تو سوچنے لگ گیا کہ اب تین چار ارب سال ہم یہاں کیا کریں گے؟ جہاں نہ دوبارہ موت آ سکتی ہے اور نہ ہی زندگی کو کھل کر جیا جا سکتا ہے۔ لیکن عالمِ برزخ میں تمام مخلوقات کو دو بڑے گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک وہ گروہ جو سن 2000 سے پہلے پیدا ہوئے تھے، اور دوسرا وہ گروہ جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ جو لوگ سن 2000 سے پہلے پیدا ہوئے تھے، ان پر سختیاں نسبتاً کم تھیں؛ یوں سمجھ لیں کہ وہ کافی آرام کی زندگی گزار رہے تھے۔ کسی کے لیے جنت سے پھل فروٹ اور مچھلیاں آ رہی تھیں تو کسی کو پکے پکائے کھانے مل رہے تھے۔ البتہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن پر بہت سختیاں تھیں، یہ وہ لوگ تھے جو قتل غارت ، زنا اور شراب نوشی جیسے سنگین کیسز میں پھنسے ہوئے تھے۔ باقی تقریباً آرام سے بیٹھے عبادات میں مشغول تھے۔ دوسرا گروہ “جین زی” (Gen Z) کا جو 2000 ہے بعد پیدا ہوئے تھے۔ توبہ ! ان میں سے ہر ایک عجیب و غریب اور ہولناک عذاب میں مبتلا تھا۔ ان کے ایک پورے گروہ کو الٹا لٹکا کر نیچے آگ جلائی گئی تھی، اور جہنمی کتے ان کا گوشت نوچ نوچ کر کھا رہے تھے۔ ان میں سے کچھ لڑکیوں کو کھولتے ہوئے آگ کے پانی میں نہلایا جا رہا تھا اور ان پر جہنمی سانپ چھوڑے گئے تھے۔ کچھ لوگوں کے ہاتھوں کے ناخن پلاس سے کھینچ کر نکالے جا رہے تھے اور یہ خوف ناک ازیت تھی ۔۔ میری خوف سے چیخ نکل گئی۔ میں نے فرشتے کو جھنجوڑ کر پوچھا: ” آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ کون لوگ ہیں جن پر اس قدر شدت اور ظلم ہو رہا ہے؟” فرشتہ اس بار شدید غصے میں آیا اور ایک اور زور دار تھپڑ مجھے رسید کرتے ہوئے بولا: “یہ تمہارے دور کے جاہل لوگ ہیں، جب سے موبائل تم لوگوں کے ہاتھ میں آیا، تم لوگ چھپ چھپ کر گناہ کرنے لگے۔ جھوٹ کا بازار گرم کر دیا۔ راتوں کو نازیبا ویڈیوز دیکھنے لگے۔ لڑکے اور لڑکیاں پوری پوری رات ویڈیو کالز پر ایک دوسرے کو اپنے جسم کی نمائش کرتے رہے۔ اسی موبائل کی وجہ سے تم نے تمام عبادتوں کو ترک کیا، صلہ رحمی کو ختم کیا اور ایک غیر مہذب کلچر کو عام کیا۔ جھوٹی خبریں پھیلائیں، اور تم لوگوں نے اسلام کا وہ ستیاناس کیا جو تم سے پہلے کسی امت نے نہیں کیا تھا۔ ” تم لوگوں نے مجلسوں، محفلوں اور تمام اہم مذہبی رسومات کو ایک فیشن بنا دیا، گالم گلوچ عام کر دی، فرقہ واریت کو فروغ دیا اور امتِ محمدی کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دئے ۔ موبائل اور انٹرنیٹ خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت تھی، لیکن تم ‘جین زی’ والوں نے اس کا پورا پورا غلط فائدہ اٹھایا۔ اب تم لوگوں کی بخشش ناممکن نظر آتی ہے۔” جب میرا ہر اثر و رسوخ ختم ہو گیا، تو میں روتا ہوا اس خوفناک فرشتے کے پاؤں میں گر گیا اور منتیں کرنے لگا کہ کم از کم خدا کے حضور میری سفارش ہی کر دے۔ وہ مسکرایا اور بولا: ” تم تو وہ گناہگار ہو جس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی۔ تم ایک بہترین لکھاری تھے، کم از کم لوگوں کو اپنے قلم کے ذریعے اس انجام سے آگاہ تو کرتے، لیکن تم نے وہ بھی نہیں کیا۔ اب تم بھی اسی دوزخ کی آگ میں جلو۔”

14 اگست کا جھنڈا. ثمرین بی بی

جشن کس کی آزادی کا؟؟؟ سلیم بیتاب شگری

Day of Judgment

50% LikesVS
50% Dislikes

روزِ محشر اور میں (افسانہ) تحریر نگار : طہٰ علی تابش بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں