14 اگست کا جھنڈا. ثمرین بی بی
بچپن میں جب 14 اگست آتا تھا تو ایک عجیب خوشی ہوتی تھی کیونکہ اس دن ہم آزادی کی جو خوشی ہوتی تھی وہ ہم محسوس کرتے ہیں ہم اتنے خوش ہوتے تھے ہم پورے گھر کو جھنڈیوں سے سجاتے تھے 14 اگست کے دن دادا ابو کے چہرے پر بہت خوشی ہوتی تھی ہم بہت چھوٹے ہوتے تھے دادا ابو ہمیں جھنڈے کی اہمیت بتاتے تھے دادا ابو کہتے تھے یہ جھنڈا صرف ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہے یہ ہمارے بزرگوں کے خون کی علامت ہے آج مجھے دادا ابو کی ساری باتیں یاد آتی ہیں آج بھی میں جہاں بھی اپنے جھنڈے کو لہراتا دیکھتی ہوں تو دل میں ایک عجیب خوشی آتی ہے شاہد وہ خوشی میں بیان نا کر سکو کیونکہ باز الفاظ کہے نہیں جاتے صرف محسوس کیے جاتے ہیں بس دل سے آواز نکلتی ہے پاکستان ذندہ باد میری نانی اماں نے اپنی آنکھوں سے پاکستان بنتے دیکھا آج بھی نانی اماں نے پرانا صندوق جوڑ کے رکھا ہوا اس میں بہت سی یادیں ہیں ماموں کے خط ہیں مجھے بچپن میں بہت حیرت ہوتی تھی کے اماں نے ابھی تک جوڑ کر رکھی ہوئی میں نانی اماں سے پوچھتی تھی مگر اماں مسکرا دیتی مگر آج مجھے پتہ لگا ہے کے وہ تو نانی اماں کا پاکستان تھا جو انھوں نے جوڑ کے رکھا ہوا تھا ۔ ہمارے بزرگوں نے بہت قربانیوں سے یہ وطن حاصل کیا ان کی آنکھوں میں اس وقت ایک ہی خواب ہو گا ایسا ملک کا خواب جہاں اذان آزاد ہو جہاں ہمارا اپنا جھنڈا ہو ۔ وقت بہت تیزی سے گزر گیا نئی نسل آ گئی بہت کچھ تبدیل ہو گیا لیکن نانی اماں کا صندوق آج بھی وہیں ہے نانی اماں آج بھی چیزیں نکال کر رو دیتی ہیں میں کہتی ہوں نانی اماں آپ کیوں روتی ہیں اماں کہتی ہیں ہم نے اتنی بڑی قربانی دے کہ ہمیں آزادی ملے تم لوگ اسے صرف 14 اگست کا جھنڈا نہ سمجھو آج میں جب 14 اگست کو اپنے گھر کو سجاتی ہوں تو مجھے وہ نانی اماں کا صندوق یاد آتا ہے وہ خون وہ قربانیاں یاد آتی ہیں آج اگر ہم پر ذرا سی مشکل آتی ہے تو ہم کہتے ہیں کاش ہماری ذندگی بھی آسان ہوتی ہماری ذندگی بہت انمول ہے ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیں وہ پیارا وطن جہاں ہم آذادی سے اپنا جھنڈا لہرا سکتے ہیں آذادی سے عبادت کر سکتے ہیں
آج میں ہر جگہ یہ جملہ پڑھتی ہوں کیا ہم آزاد ہیں؟
ہم تو واقعی ہی ایک آزاد ملک میں سانس لے رہے وہ ملک جو ہمارا اپنا ہے ،جہاں ہمارا اپنا نام ہے , اپنی اذان ہے پھر لوگ یہ کیوں کہتے کیا ہم آزاد ہیں ؟ مجھے لگتا ہے ہمیں سیاسی آزادی تو مل گئی جہاں ہمارے اوپر کوئی انگریز حکمران نہیں لیکن ہمیں معاشی ، ذہنی اور سماجی آذادی نہیں ملی مہنگائی ، قرضے ، نوکری کی فکر انصاف کا نا ملنا ، سچ بولنے کا ڈر شاید اس لیے لوگ کہتے ہیں کیا ہم آزاد ہیں؟
ہم آج جب اپنا جھنڈا دیکھتے ہیں تو اس کی قیمت نہیں سمجھتے کس طرح ہمارے بزرگوں نے آزادی حاصل کی ہم نے صرف کتابوں میں پڑھا اس لیے شاید ہم پر کبھی مشکل آتی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کیا ہم آزاد ہیں کاش ذندگی آسان ہوتی ۔
جب تک ہمارے ملک میں تعلیم،صحت،انصاف پورا نہیں ہو گا لوگ سوال کرتے رہیں گے لیکن الحمد اللہ ہم آزاد ہیں لیکن ہم نے مزید آزاد ہونا ہے اپنی سوچ کو بڑا کر کے اپنے عمل کو خوبصورت بنا کر تو آذادی کا مطلب صرف جھنڈا لہرانا نہیں خود کو اس آذادی کے لائق بنانا ہے ۔
یا اللّٰہ پاک ہمارے ملک کو ہمیشہ سلامت رکھنا اور ہمیں بھی اپنے ملک کے لیے کچھ کرنے کے قابل بنانا آمین
از قلم: ثمرین بی بی
جشن کس کی آزادی کا؟؟؟ سلیم بیتاب شگری
پردیس میں رہنے والے سلیم انکل کے آج (10 اگست) بہت خاص دن یوم ولادت کے نام پر. تمنا ظفر
تانا زِندگی بتول فاطمہ
.
August 14 Flag




