جشن کس کی آزادی کا؟؟؟ سلیم بیتاب شگری
ہر سال 14 اگست آتا ہےگھروں گلیوں بازاروں میں جھنڈیاں لگتی ہیں۔۔۔ ہر جگہ ترانے بجتے ہیں۔
اسلام آباد سے سکردو تک تقریریں ہوتی ہیں کہ ہم آزاد ہیں۔۔ٹی وی پر وہی نعرہ پاکستان زندہ باد اور
ہفتوں تک ٹی وی چینلز ٹرانسمیشن کرتے ہیں ۔
مگر گلگت بلتستان میں بیٹھ کر یہ سوال دل کو چیرتا ہے ہم کس چیز کا جشن منائیں؟؟؟ کس کے ساتھ مناۓ؟؟
ہم نے یکم نومبر 1947 کو خود جنگ لڑ کر ڈوگرہ راج سے آزادی لی۔ ہمارے بزرگوں نے اپنی بندوقوں اور روایتی انداز میں جنگ لڑ کر کارگل تک آزاد کرایا اور بغیر کسی شرط کے پاکستان سے الحاق کیا۔
ہم نے کہا ہم پاکستانی ہیں۔۔۔
لیکن پاکستان آج77 سال بعد بھی گلگت بلتستان کو اپناحصہ ماننے سے انکار کر رہا ہے ۔
اس دور میں جب
ہمارا شناختی کارڈ پاکستانی
پاسپورٹ پاکستانی
فوج میں شہادت پاکستانی مگر آئین پاکستان میں ہمارا نام تک نہیں۔۔ ہم نہ صوبہ ہیں۔ ۔۔۔نہ آزاد کشمیر جیسی حیثیت۔
ہم ایک آرڈر ۔ GB Order 2018 کے تحت چلنے والی کالونی ہیں۔۔
دنیا کا خزانہ ہمارے پہاڑوں میں ہے دیامر بھاشا ڈیم کے لیے ہماری زمینیں گئیں۔۔ بجلی پورے پاکستان کے لیے مگر گلگت میں آج بھی 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ۔۔سی پیک ہمارے قراقرم ہائی وے سے گزرتا ہے مگر اس کے ثمرات کا ہمیں پتہ تک نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معدنیات کے لیے لیز اسلام آباد میں بیٹھا بیوروکریٹ دیتا ہے۔۔۔۔۔
ہم آج بھی سبسڈی والی گندم کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔۔۔۔
جب گندم کی قیمت بڑھتی ہے تو پورا گلگت بلتستان بند ہو جاتا ہے۔ کیا یہ ہے آزاد قوم کی نشانی؟؟؟ کہ 77 سال بعد بھی ہم آٹے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
اسکول کے بچے کو جھنڈی دے کر کہیں ۔۔۔نعرہ لگاؤ
وہ لگا دے گا۔۔ کیونکہ اس کے دل میں پاکستان ہے۔ لیکن جب وہ بچہ بڑا ہو کر یونیورسٹی سے ڈگری لے کر نوکری کے لیے دھکے کھاتا ہے جب اسے پتہ چلتا ہے کہ CSS میں اس کا کوٹہ نہیں، قومی اسمبلی میں اس کی نمائندگی نہیں۔۔۔۔ تو وہی بچہ پوچھتا ہے۔۔۔ میری آزادی کہاں ہے؟
ہم پاکستان مخالف نہیں ہیں۔۔۔۔ گلگت بلتستان کا بچہ بچہ پاکستان سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔ اسی لیے تو ہم سوال کرتے ہیں۔۔۔۔۔محبت میں ہی گلہ ہوتا ہے اگر ہم پاکستانی نہ ہوتے تو سوال ہی کیوں کرتے؟؟؟
جشن آزادی منانا برا نہیں۔۔۔
لیکن جشن سے پہلے آزادی کا احساس دلانا ضروری ہے۔۔۔۔ ہمیں جھنڈیوں سے زیادہ حقوق چاہئیں ہمیں نغموں سے زیادہ آئینی شناخت چاہیے ہمیں تقریروں سے زیادہ اس بات کا جواب چاہیے کہ آخر ہم ہیں کیا؟؟؟؟
جب تک گلگت بلتستان کے شہری کو برابر کا پاکستانی نہیں مانا جاتا، اس وقت تک 14 اگست ہمارے لیے ایک رسمی دن ہے۔۔۔ دل کا جشن نہیں۔.
دل کا جشن اس دن منے گا جس دن اسلام آباد کی پارلیمنٹ میں گلگت بلتستان کا منتخب نمائندہ کھڑا ہو کر بولے گا میں پاکستان کا شہری ہوں اور آئین اس کی تصدیق کرے گا۔.
اس سے پہلے تک – ہم جھنڈا تو لہرائیں گے، لیکن دل میں ایک سوال کے ساتھ۔۔۔
Freedom Are We Celebrating




