ایک درخت، ہزار نعمتیں. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
فطرت کے وسیع دفتر میں بعض کردار ایسے ہیں جو کبھی زبان نہیں کھولتے مگر ان کی خاموشی پوری کائنات سے زیادہ بلیغ ہوتی ہے۔ درخت بھی انہی خاموش کرداروں میں شامل ہیں۔ وہ نہ اپنے احسان جتاتے ہیں، نہ اپنے زخم دکھاتے ہیں۔ دھوپ ان کے حصے میں آتی ہے اور سایہ دوسروں کے نصیب میں۔ پتھر ان پر برسائے جاتے ہیں اور جواب میں وہ پھل عطا کرتے ہیں۔ یہی وہ کردار ہے جسے قدرت نے ایثار، صبر اور فیاضی کی زندہ تمثیل بنا دیا ہے۔
حضرت علیؓ کا ایک قول منسوب ہے کہ “درخت اپنی پہچان اپنے پھل سے کراتا ہے۔” یہی اصول انسان پر بھی صادق آتا ہے۔ جو وجود دوسروں کو فائدہ پہنچائے، وہی اپنی زندگی کا مقصد پورا کرتا ہے۔ درخت اس حقیقت کا سب سے خوب صورت استعارہ ہیں۔ وہ زمین کے سینے پر کھڑے رہ کر ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ عظمت لینے میں نہیں، دینے میں ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا شخص آم کا پودا لگا رہا تھا۔ کسی نے طنز کیا: “بابا! اس درخت کا پھل تو آپ شاید کبھی نہ کھا سکیں۔” بوڑھا مسکرایا اور بولا: “جن درختوں کے پھل میں نے عمر بھر کھائے، وہ بھی تو میرے بزرگوں نے لگائے تھے۔ اب میری باری ہے کہ آنے والوں کے لیے کچھ چھوڑ جاؤں۔” اس مختصر مکالمے میں پوری تہذیب کا فلسفہ پوشیدہ ہے۔ مہذب قومیں اپنی سہولت سے زیادہ آنے والی نسلوں کی ضرورت کا سوچتی ہیں جبکہ زوال پذیر معاشرے حال کی آسائش کے لیے مستقبل کو قربان کر دیتے ہیں۔
آج دنیا ماحولیاتی تبدیلی کے جس بحران سے گزر رہی ہے، وہ کسی ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ امتحان ہے۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، بے ترتیب بارشیں، شدید سیلاب، طویل خشک سالی، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، فضائی آلودگی اور زرعی نظام کی تباہی ہمیں متنبہ کر رہی ہے کہ انسان نے فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا شروع کر دی ہے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے زمین کے قدرتی توازن کو کمزور کر دیا ہے، اور اب فطرت اپنے بگڑے ہوئے نظام کا حساب مانگ رہی ہے۔
درخت صرف آکسیجن پیدا کرنے والی قدرتی مشینیں نہیں بلکہ زندگی کے محافظ ہیں۔ وہ کاربن جذب کرتے ہیں، فضا کو صاف کرتے ہیں، بارش کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں، زیرِ زمین پانی کو محفوظ بناتے ہیں، مٹی کے کٹاؤ کو روکتے ہیں اور بے شمار جانداروں کو پناہ دیتے ہیں۔ ایک تنا محض لکڑی نہیں، ایک شاخ صرف پتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام کا حصہ ہے۔ جب ایک درخت گرتا ہے تو صرف ایک تنے کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ ایک ننھی دنیا اجڑ جاتی ہے۔
اسلام نے بھی شجر کاری کو محض سماجی خدمت نہیں بلکہ عبادت کا درجہ دیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر قیامت قائم ہونے لگے اور کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور اسے لگانے کا موقع مل جائے، تو وہ اسے لگا دے۔ اس تعلیم میں امید، تعمیر اور خیرخواہی کا ایسا پیغام پوشیدہ ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اسلام انسان کو صرف حال کا نہیں بلکہ مستقبل کا معمار بھی بناتا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں شجر کاری اکثر تصویری مہمات تک محدود ہو جاتی ہے۔ پودے لگانے کی تقریبات تو منعقد ہوتی ہیں مگر چند ہفتوں بعد وہی پودے پانی، دیکھ بھال اور حفاظت کے بغیر سوکھ جاتے ہیں۔ دراصل شجر کاری کا اصل نام پودا لگانا نہیں بلکہ اسے درخت بنانا ہے۔ ایک پودا زمین میں گاڑ دینا آسان ہے لیکن اسے سالہا سال سنبھالنا احساسِ ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔
ترقی یافتہ معاشروں نے اپنے شہروں کو صرف کنکریٹ سے نہیں بلکہ سبزے سے بھی آباد کیا ہے۔ وہاں درخت شہری منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اکثر سڑکوں کی توسیع، عمارتوں کی تعمیر یا وقتی مفادات کی خاطر برسوں پرانے درخت کاٹ دیے جاتے ہیں۔ یہ رویہ دراصل اپنی ہی آنے والی نسلوں سے ان کا حق چھیننے کے مترادف ہے۔
درخت انسان کے بہترین معلم بھی ہیں۔ وہ جڑوں سے وابستگی سکھاتے ہیں، شاخوں سے بلندی کا حوصلہ دیتے ہیں، پھلوں سے سخاوت کا درس دیتے ہیں اور خزاں کے موسم میں یہ سبق دیتے ہیں کہ ہر زوال کے بعد ایک نئی بہار ضرور آتی ہے۔ شاید اسی لیے بڑے ادیبوں اور شاعروں نے درخت کو زندگی، امید، وفاداری اور بقا کی علامت قرار دیا ہے۔
آج ضرورت صرف سرکاری مہمات کی نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی ہے۔ ہر گھر، ہر تعلیمی ادارہ، ہر مسجد، ہر دفتر اور ہر کھیت میں ایک درخت لگانے کا عزم پیدا کرنا ہوگا۔ والدین اگر اپنے بچوں کی سالگرہ پر ایک پودا لگائیں، اساتذہ اگر ہر طالب علم کو ایک درخت کی ذمہ داری دیں اور معاشرہ اگر درخت کاٹنے کو اتنا ہی معیوب سمجھے جتنا کسی نعمت کو ضائع کرنا، تو یقیناً آنے والی نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی۔
یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ زمین ہمیں ہمارے آباؤ اجداد کی میراث کے طور پر نہیں ملی بلکہ یہ ہماری آئندہ نسلوں کی امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت کا سب سے خوب صورت، آسان اور مؤثر طریقہ ایک درخت لگانا اور اس کی نگہداشت کرنا ہے کیونکہ ایک درخت صرف ایک درخت نہیں ہوتا، وہ سانسوں کا محافظ، موسموں کا امین، پرندوں کا آشیانہ، زمین کا زیور اور انسانیت کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کہنا محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ “ایک درخت، ہزار نعمتیں۔”
14 آگست 1948 یوم آزادی بلتستان ۔ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی ۔
One Tree, A Thousand Blessings




