14 August 1948 Independence Day of Baltistan 0

14 آگست 1948 یوم آزادی بلتستان ۔ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی ۔
جی آپ نے عنوان میں ٹھیک پڑھا ہے ۔ پاکستان کی یوم آزادی کے ٹھیک ایک سال بعد بلتستان آزاد ہوئے۔ یہ ایک ایسی تلخ تاریخ ہیں جسے آج تک بلتستان کے نوجوان نا آشنا رہے۔ اس بات میں کوئی بعید نہیں کہ 01 نومبر 1947 کو گلگت ریجن آزاد ہوئی لیکن سچ کہوں تو اس وقت بلتستان آج بھی ڈوگرہ فوج کے مسلط غلامی میں پس رہا تھا۔ لوگ اپنی مدد آپ ڈوگرہوں اور سکھوں سے لڑ رہے تھے۔ پھر جا کر پورے ایک سال بعد ٹھیک 14 آگست 1948 کو بلتستان آزاد ہوئے ۔

آئیں ہم آپ کو پوری کہانی سنائیں گے ۔

یقیناً یہ محض اکیس اگست کی ڈوبتی شام یا چالیس کی دہائی کی سرد راتوں کا قصہ نہیں، یہ اُس وادیِ پرنور کا وہ ازلی سچ ہے جو ہمالیہ کے بلند و بالا سینے پر خونِ شہیداں سے لکھا گیا۔ بلتستان۔ جس کی چٹانوں میں ابدی شجاعت کی گونج ہے اور جس کے دریاؤں میں آزادی کا شور موجزن ہے اُس نے غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر جو تاریخ رقم کی، وہ محض حوادث کا مجموعہ نہیں بلکہ روح کو تڑپا دینے والا اک معرکہِ عشق و آزادی ہے۔ فروری 1948ء کی بات ہے، جب برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں کی اوٹ سے آزادی کے متوالے اٹھے۔ گلگت کی فضاؤں میں ڈوگرہ راج کی ذلت آمیز شکست کا پرچم پہلے ہی سرنگوں ہو چکا تھا، لیکن بلتستان کی سرزمین ابھی تک راجہ ہری سنگھ کے سفاک ڈوگرہ لشکر کے پنجۂ غصب میں سسک رہی تھی۔
وقت نے اک صدا دی، اور اُس صدا پر لبیک کہتے ہوئے گلگت اسکاؤٹس کے غازی اور مقامی غیرت مند مجاہدین جو تاریخ میں ‘آئی بکس فورس’ کے نام سے منور ہیں اپنی جانوں کا نذرانہ ہتھیلیوں پر سجائے اسکردو کی جانب نکل پڑے۔ اُن کا سردار کوئی معمولی ہستی نہ تھا؛ میجر احسان علی خان، کرنل ماتا الملک اور کرنل برہان الدین جیسے سرفروشوں کی قیادت میں وہ جذبہِ حسینؑ سے لبالب لبریز چلے آ رہے تھے۔ مقابل ڈوگرہ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل شیر جنگ تھاپا تھا، جو اپنے لشکرِ گرانبار کے ساتھ اسکردو کے قدرتی اور سحر انگیز، مگر ابدی عبرت کدہ بنے ‘کھرپوچو قلعے’ کی سنگلاخ بلندیوں پر محصور ہو چکا تھا۔
چھ طویل، روح فرسا اور جان لیوا مہینے! وہ چھ مہینے جن میں قدرت نے مجاہدینِ بلتستان کی پامردی کا امتحانات لیا۔ ننگے پاؤں، جلی ہوئی چھالوں، اور برفانی ہواؤں کی زہریلی سنسناہٹ کے باوجود، ہمارے غازیوں کی نگاہیں کھرپوچو کی بلندی پر جمے ڈوگرہ پرچم پر گڑی ہوئی تھیں۔ وہ قلعہ جسے صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، اُس کے گردِ پیش آزادی کے پروانوں کا گھیرا تنگی سے تنگی تر ہوتا گیا۔ بالآخر 13 اور 14 اگست 1948ء کی درمیانی شب آئی۔ وہ شب جو بلتستان کی قسمت کا آخری فیصلہ سنانے والی تھی۔ قلعے کے اندر بارود ختم ہو چکا تھا، ڈوگرہ سپاہیوں کی ہمت ٹوٹ چکی تھی اور شیر جنگ تھاپا کا غرور برف کی طرح پگھل چکا تھا۔ 14 اگست کی پہلی کرن ابھی کھرپوچو کے متکبرانہ ماتھے پر پڑی ہی تھی کہ ڈوگرہ فوج نے اپنے ہتھیار غازیان اسلام کے قدموں میں ڈال دیے۔ صدیوں کا تاریک ڈوگرہ راج زمین بوس ہو گیا اور کھرپوچو کی عظیم بلندی پر سبز ہلالی پرچم لہرایا، وہی پرچم جس کے سائے تلے بلتستان کے غیرت مند عوام نے بغیر کسی سیاسی سودے بازی یا دنیاوی لالچ کے، پاکستان کی پاک سرزمین سے اپنے ابدی عشق و التحاق کا پیوند جوڑا۔

حوالہ جات!!

یہ وہ تاریخ ہے جسے نامور مؤرخ پروفیسر ڈاکٹر احمد حسن دانی نے اپنی تصنیف ‘ہسٹری آف ناردرن ایریازل آف پاکستان’ میں سونے کے حروف سے درج کیا، اور جسے ملا یوسف صراف نے ‘کشمیرس فائٹ فار فریڈم’ کے صفحات پر سرفروشی کا استعارہ بنا کر پیش کیا۔ حتیٰ کہ خود بھارتی ملٹری تاریخ دانوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ 14 اگست 1948ء کو اسکردو کی چٹانوں نے شیر جنگ تھاپا کے ذلت آمیز سرینڈر کا منظر دیکھا۔ پس، 14 اگست صرف اک سنہ یا دن نہیں، بلتستان کی مٹی کا اپنے وطن پاکستان سے وہ عزمِ عشق ہے جو نہ کبھی پرانا ہوگا، نہ کبھی مٹے گا۔

14 آگست 1948 یوم آزادی بلتستان ۔
14 آگست 1947 یوم آزادی پاکستان

گلگت بلتستان زندہ باد ، پاکستان پائندہ باد

میں کس چیز کی آزادی مناؤں؟ بتول فاطمہ

سلیم بھائی کی سالگرہ (10 اگست) کے موقع پر خصوصی پر خصوصی تحریر. ڈاکٹر نبیل احمد نبیللاہور، پاکستان

14 اگست کا جھنڈا. ثمرین بی بی

14 August 1948 Independence Day of Baltistan

50% LikesVS
50% Dislikes

14 آگست 1948 یوم آزادی بلتستان ۔ طہٰ علی تابشٓ بلتستانی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں