What Kind of Freedom Should I Celebrate 0

میں کس چیز کی آزادی مناؤں؟ بتول فاطمہ
میں کس چیز کی آزادی مناؤں؟ کیا صرف اس لیے کہ 14 اگستکا دن آ گیا ہے، میں کپڑے پہنوں، باجے بجاؤں، شور مچاؤں اور اسے آزادی کا نام دے دوں؟ نہیں! میرے دل کو یہ سوال مطمئن نہیں کرتا۔ پاکستان ایک ایسی بنیاد پر قائم ہوا تھا جس کے مرکز میں لا إله إلا الله محمد رسول الله ﷺ کا نظریہ تھا۔ یہ سرزمین ہمیں ان لوگوں کی قربانیوں کے بعد ملی جنہوں نے اپنے گھر، مال، پیارے اور جانیں تک قربان کر دیں۔ مگر آج مجھے خود سے پوچھنا ہے: کیا ہم اس عہد کو پورا کر رہے ہیں؟ قرآن ہمارے لیے صرف تلاوت کی کتاب نہیں، زندگی گزارنے کا راستہ بھی ہے۔ تو کیا ہم قرآن میں بیان کیے گئے احکامات پر عمل کرکے اس سرزمین کو پاک رکھ رہے ہیں؟ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ہماری زمین پر زنا ہے، بدکاری ہے، سود خوری ہے، رشوت ہے، حق تلفی ہے، جھوٹ ہے اور نہ جانے کتنے گناہ ہیں۔ ہم ہر روز اپنے اعمال سے اس سرزمین کو داغ دار کر رہے ہیں، جو ہمیں پاک لوگوں کے خون کا صدقہ ملی تھی۔ پھر ہم جشنِ آزادی میں صرف شور کیوں تلاش کرتے ہیں؟ ہم ذہنی طور پر بھی تو آزاد نہیں ہوئے۔ ہماری سوچ، زبان، لباس، رہن سہن اور ترجیحات—ہم نے بہت کچھ دوسروں کی تہذیب سے لے لیا ہے۔ کبھی مغربی تہذیب ہماری سمت طے کرتی ہے اور کبھی ہم ایسی رسومات میں الجھے ہوئے ہیں جن کا ہماری اسلامی شناخت سے کوئی تعلق نہیں۔ 14 اگست آئے گا۔ کہیں رقص ہوگا، کہیں باجے بجیں گے، کہیں سوشل میڈیا ایسے مناظر سے بھر جائے گا جنہیں آزادی کا نام دیا جائے گا۔ مگر میں سوچتی ہوں: کیا بے حیائی آزادی ہے؟ کیا اپنی تہذیب سے دوری آزادی ہے؟ کیا گناہ کو جشن کا لباس پہنا دینا آزادی ہے؟ میرے نزدیک نہیں۔ آزادی یہ ہے کہ ہماری سوچ آزاد ہو۔ ہم اپنی اسلامی شناخت پر شرمندہ نہ ہوں، اپنی تہذیب کو پہچانیں، حلال کمائی کو ترجیح دیں، رشوت سے انکار کریں، سود سے بچیں، حق تلفی نہ کریں، بدکاری سے اپنے معاشرے کو محفوظ رکھیں اور قرآن کو صرف الماری میں نہیں بلکہ اپنی زندگی میں جگہ دیں۔ کیونکہ پاکستان کی آزادی صرف زمین کی آزادی نہیں تھی؛ یہ ایک نظریے کی آزادی تھی۔ اس لیے اس 14 اگست میں شاید میں سب سے پہلے اپنے اندر جھانکوں گی اور خود سے پوچھوں گی: کیا میں واقعی آزاد ہوں؟ اگر میری سوچ دوسروں کی غلام ہے، میرا کردار گناہوں کا قیدی ہے اور میری زندگی قرآن کے راستے سے دور ہے، تو پھر مجھے جشن سے پہلے اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔ مجھے ایسی آزادی چاہیے جس میں پاکستان صرف نقشے پر آزاد نہ ہو، بلکہ اس کے باشندے اپنی سوچ، اپنے کردار اور اپنے عمل میں بھی آزاد ہوں۔

پردیس میں رہنے والے سلیم انکل کے آج (10 اگست) بہت خاص دن یوم ولادت کے نام پر. تمنا ظفر

تانا زِندگی بتول فاطمہ

جنم دن– 10 اگست محترم المقام سر سلیم خان کی نذر ہدیہ عقیدت

What Kind of Freedom Should I Celebrate?

50% LikesVS
50% Dislikes

میں کس چیز کی آزادی مناؤں؟ بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں