“ایک سپلی اور ایک زندگی ختم؟” محمد دلاور بلتستانی
خبر پڑھی تو دل بیٹھ گیا۔ جوئریہ ریاضی میں سپلی آنے پر دریائے مظفر گڑھ میں کود گئی۔ ایک سرخ دائرہ, ایک لفظ SUPPLY اور اس کے پیچھے ایک بیٹی کی ٹوٹی ہوئی امیدیں۔ ایک پل اور گہرا پانی بس، کہانی ختم۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایک سپلی اتنی بڑی تھی کہ زندگی ختم کر دی جائے؟ یا ہم نے اپنی سوچ، اپنے رویے اور اپنے نظام کو اتنا چھوٹا کر دیا ہے کہ بچے کو زندگی اس سے بھی چھوٹی لگنے لگی؟ ہم نے تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے۔ اسکول داخلہ لیتے وقت 100% رزلٹ کا بورڈ لگاتے ہیں۔ والدین پڑوسیوں کے بچوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ رشتہ دار رزلٹ والے دن فون کر کے پوچھتے ہیں کتنے نمبر آئے؟ بچہ 80 لے آئے تو صرف 80؟ 90 لے آئے تو ٹاپ کیوں نہیں کیا؟ اور اگر 33 سے کم آ جائے تو گھر کا ماحول جنازے جیسا ہو جاتا ہے۔
جوئریہ نے شاید یہی سب سوچا ہوگا۔ اسے لگا ہوگا کہ اب گھر میں کیا منہ دکھاؤں گی؟ لوگ کیا کہیں گے؟ ابا کیا بولیں گے؟ اماں کا سر کیسے جھکے گا؟ اس ایک خوف نے اس سے اس کا حوصلہ چھین لیا۔
ہم نے بچوں کو یہ نہیں سمجھایا کہ SUPPLY کا مطلب ناکام نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ہے دوبارہ کوشش کرو۔ دنیا میں کوئی بھی بڑا آدمی پہلی کوشش میں کامیاب نہیں ہوا۔ ایڈیسن نے 1000 بار بلب بنانے میں ناکامی کے بعد کامیابی پائی۔
لیکن ہم اپنے بچے کو ایک بار گرنے پر اٹھنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ محبت کے نام پر ہم بچوں پر توقعات کا پہاڑ رکھ دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمیں ڈاکٹر چاہیے یا بیٹا؟ انجینئر چاہیے یا بیٹی؟ کلاس میں فیل بچے کو سب کے سامنے شرمندہ کیا جاتا ہے۔ اس کی عزت نفس ختم کر دی جاتی ہے۔ کوئی کونسلر نہیں، کوئی رہنمائی نہیں۔
فلاں کے بیٹے کا رزلٹ دیکھو جیسے جملے زہر سے کم نہیں ہوتے۔ جوئریہ واپس نہیں آئے گی لیکن باقی ہزاروں جوئریہ بچائی جا سکتی ہیں۔ رزلٹ والے دن بچے کو گلے لگائیں۔ پوچھیں کوئی بات نہیں بیٹا، بتاؤ کہاں مشکل آئی؟
یاد رکھیں، آپ کا بچہ آپ کی عزت نہیں ہے۔ آپ کا بچہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
خدارا نمبروں کی دوڑ میں انسانیت مت بھولیں۔ ایک بچے کو فیل کرنا آسان ہے، اسے سنبھالنا مشکل ہے۔
ہر اسکول میں کونسلنگ کا نظام ہو۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ ناکامی زندگی کا حصہ ہے۔ جوئریہ کی تصویر میں پیچھے ایک پل ہے۔ کاش وہ اس پل سے گزر کر گھر چلی جاتی۔ کاش کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ہوتا۔ کاش اسے کسی نے کہا ہوتا بیٹا ایک پرچہ تم سے بڑا نہیں ہے۔ میں باپ نہیں ہوں، استاد نہیں ہوں، لیکن ایک انسان ضرور ہوں۔ اور ایک انسان ہونے کے ناطے یہی کہوں گا کہ خدا کے لیے بچوں پر رحم کریں۔ انہیں نمبروں کے ترازو میں مت تولیں۔ انہیں جینے دیں کیونکہ کوئی بھی سپلی، کوئی بھی ڈگری، دنیا کی کسی بھی کامیابی سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ اور وہ قیمتی چیز ہے آپ کے گھر کا چراغ۔ اللہ جوئریہ کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ہدایت دے آمین ثم آمین
نکاح مشکل، زنا آسان کیوں؟ بتول فاطمہ
One Supplement Exam, One Life Lost




