Marriage Difficult While Adultery Is Easy 0

نکاح مشکل، زنا آسان کیوں؟ بتول فاطمہ
ہماری نوجوان نسل آج ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں نکاح ایک فطری اور پاکیزہ ضرورت کے بجائے ایک ایسا امتحان بنا دیا گیا ہے جسے پاس کرنے کے لیے دولت، مکان، گاڑی، جہیز، ذات، برادری اور معاشرتی معیار کی لمبی فہرست پوری کرنا پڑتی ہے۔ لڑکی کی عمر بڑھ رہی ہے، لڑکا جوانی کی دہلیز پار کر رہا ہے، مگر والدین اور معاشرہ اب بھی کہتا ہے: ’’ابھی وقت نہیں آیا۔‘‘ سوال یہ ہے کہ آخر وہ وقت کب آئے گا؟
اللہ تعالیٰ نے نکاح کو سکون کا ذریعہ قرار دیا۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔‘‘ (الروم: 21)
یہاں نکاح کو بوجھ نہیں، سکون، محبت اور رحمت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی نکاح کو آسان رکھنے کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو، اسے نکاح کر لینا چاہیے۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
پھر ہم نے نکاح کو اتنا مشکل کیوں بنا دیا؟
ہم نے ایک طرف نوجوانوں کے سامنے حلال راستے پر بے شمار شرطیں رکھ دیں اور دوسری طرف موبائل، سوشل میڈیا، فحاشی اور بے حیائی کے دروازے ہر وقت کھلے چھوڑ دیے۔ نتیجہ یہ ہے کہ خواہشات، تنہائی اور جذباتی دباؤ سے نبرد آزما نوجوانوں کے لیے آزمائشیں بڑھ رہی ہیں۔ بعض نوجوان گناہ کی طرف پھسل جاتے ہیں، اور معاشرے میں زنا اور ناجائز تعلقات کے بڑھتے رجحان کو صرف نوجوانوں کی اخلاقی خرابی کہہ کر ہم اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتے۔
نکاح میں غیر ضروری تاخیر ذہنی دباؤ، تنہائی، احساسِ محرومی اور بعض افراد میں جذباتی بے چینی کو بڑھا سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈپریشن، انزائٹی یا جسمانی و ہارمونل مسائل کی واحد وجہ نکاح نہ ہونا نہیں؛ ان کے کئی طبی، نفسیاتی اور سماجی اسباب ہوتے ہیں۔
اصل سوال نوجوان سے نہیں، پہلے بڑوں سے ہے۔
کیا نکاح کو واقعی مشکل نہیں بنایا ہے؟
جہیز ختم کریں۔ غیر ضروری رسمیں ختم کریں۔ ذات برادری اور دولت کی نمائش ختم کریں۔ شادی کو مقابلہ نہ بنائیں۔ والدین اپنے بچوں کی عمر، جذبات اور ذمہ داری کی صلاحیت کو سمجھیں۔ نوجوانوں کو بھی دین، کردار، روزگار اور ذمہ داری کے لیے تیار کیا جائے۔
ہمیں زنا کو روکنا ہے تو صرف تقریریں نہیں کرنی ہوں گی؛ حلال راستہ بھی آسان کرنا ہوگا۔
نکاح کو محل، لاکھوں روپے اور نمود و نمائش کی ضرورت نہیں۔ دو بالغ انسانوں کی رضامندی، ذمہ داری، کردار اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا عزم کافی بنیاد ہے۔
جس معاشرے میں نکاح آسان ہوگا، وہاں حرام کے راستے بند کرنے کی کوشش بھی زیادہ مؤثر ہوگی۔
اب فیصلہ آپکو کرنا ہے:
اپنی اولاد کے لیے نکاح آسان کریں گے یا گناہ کی آزمائشیں؟
ہمیں زنا کو روکنا ہے تو صرف تقریریں نہیں کرنی ہوں گی؛ نکاح کا راستہ بھی آسان کرنا ہوگا۔ پاکستان میں ایسی مؤثر قانون سازی اور قومی پالیسی ہونی چاہیے جو نوجوانوں کے لیے بروقت اور آسان نکاح کی حوصلہ افزائی کرے۔ حکومت اور معاشرہ ایسا نظام بنائیں کہ لڑکی کے لیے تقریباً 22 سال اور لڑکے کے لیے 23 سال کی عمر کے آس پاس نکاح کو ایک مناسب ہدف سمجھتے ہوئے، تعلیم، رضامندی، ذہنی پختگی اور بنیادی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نکاح کی راہ میں غیر ضروری رکاوٹیں ختم کی جائیں۔ جہیز، فضول رسمیں، غیر ضروری اخراجات اور معاشرتی مطالبات کم کیے جائیں۔ نکاح کو مشکل ترین بنا کر ہم نوجوانوں کو آزمائش میں نہ ڈالیں؛ حلال راستہ آسان کریں تاکہ حرام کے دروازے بند کرنے کی کوشش مؤثر ہو۔

Marriage Difficult While Adultery Is Easy

100% LikesVS
0% Dislikes

نکاح مشکل، زنا آسان کیوں؟ بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں