توقعات کا جال. سیدہ فضہ بتول
کبھی اپنے ہاتھ کی ہتھیلی میں پانی روکنے کی کوشش کی ہے؟ جتنا آپ انگلیوں کو زور سے بھیچتے ہیں پانی اتنی ہی تیزی سے انگلیوں کے درمیان سے نکل جاتا ہے اور آخر میں ہاتھ صرف خالی اور نم رہ جاتے ہیں۔ انسانوں سے وابستہ کی گئی ہماری “توقعات” بھی بالکل اسی پانی کی طرح ہیں۔ ہم تعلقات کو اتنی سختی سے پکڑنا چاہتے ہیں کہ سامنے والے سے اس کی انسانیت اس کی خامیاں اور اس کی حدود چھین لیتے ہیں اور پھر جب وہ پانی کی طرح بہہ نکلتا ہے تو ہم خالی ہاتھوں کو دیکھ کر روتے ہیں۔
ہم زندگی بھر لوگوں سے نہیں بلکہ ان کے بارے میں بنائے گئے اپنے خوابوں سے محبت کرتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر جب ہم کسی کو اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں، تو خاموشی سے ایک ان دیکھا معاہدہ بھی کر لیتے ہیں کہ “یہ شخص مجھے کبھی مایوس نہیں کرے گا، یہ میری خاموشی بھی سمجھے گا اور میری مرضی کے مطابق ڈھلے گا۔” لیکن جب وہ شخص اپنی خامیوں اپنی تھکن یا اپنی ذاتی جنگوں کے ساتھ سامنے آتا ہے تو وہ معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے۔ تکلیف اس انسان کے رویے سے اتنی نہیں ہوتی جتنی اس مان کے ٹوٹنے سے ہوتی ہے جو ہم نے خود ہی تراشا تھا۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کا اپنا ایک گہرا اندرونی زخم ہے اس کا اپنا ایک باطنی خلا ہے جو انسان خود اپنے اندر کا خالی پن بھرنے میں ناکام ہو وہ آپ کی روح کے سوراخ کیسے بھر سکتا ہے؟
جب تک ہم بندوں کے سامنے اپنی کاسہٴ چشم پھیلاتے رہیں گے ہمیں صرف بے اعتباری اور مایوسی ہی ملے گی لیکن جب انسان کا دل بندوں کی اس بے وفائی اور خامیوں سے مسلسل زخمی ہوتا ہے تو اچانک اس کے اندر ایک بیداری جنم لیتی ہے اسے احساس ہوتا ہے کہ مخلوق تو خود فقیر ہے اور فقیر کے در سے شہنشاہی کا ملنا ممکن نہیں۔
بندوں کا رویہ اور توقعات کا ٹوٹنا دراصل اللہ کا وہ پیار بھرا تھپڑ ہے جو وہ اپنے بندے کے منہ پر مار کر اسے جگاتا ہے تاکہ وہ ٹوٹے ہوئے بتوں کا طواف چھوڑ کر اس ذات کی طرف لوٹ آئے جو نہ کبھی بدلتی ہے نہ تھکتی ہے اور نہ ہی کبھی دل توڑتی ہے
جب انسان دنیاوی امیدوں کے اس جال کو کاٹ کر اپنے تمام دکھ اپنی ساری خامیاں اور اپنا تنہا دل اپنے رب کے سامنے رکھ دیتا ہے تو باطن کے سارے زخم بھرنے لگتے ہیں اور روح کے صحرا میں جیسے پہلی بارش ہوتی ہے…
تب انسان کا دل تڑپ کر نہیں بلکہ ایک معصوم سے اطمینان کے ساتھ مسکرا کر کہتا ہے:
اے اداس روح مسکراؤ، تمہارا رب تم سے بہت محبت کرتا ہے۔
نکاح مشکل، زنا آسان کیوں؟ بتول فاطمہ
آزادی کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہم پاکستانی عوام آزاد ہیں؟ شبیر حسین کمال</a>
معافی اور انتقام کے درمیان انسانی نفسیات(ایک باریک فرق مگر گہرے اثرات). سیدہ تسکین بخت
گلگت بلتستان میں غیر قانونی مائننگ اور عوامی حقوق . جی ایم ایڈووکیٹ
Hope and Disappointment




