گلگت بلتستان میں غیر قانونی مائننگ اور عوامی حقوق . جی ایم ایڈووکیٹ
گلگت بلتستان قدرتی وسائل، معدنی دولت اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے پاکستان کے منفرد ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں سونا، تانبا، قیمتی و نیم قیمتی پتھر، ماربل، گرینائٹ اور دیگر معدنی وسائل کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ یہ معدنی ذخائر محض زیرِ زمین موجود دھاتیں، پتھر یا معدنیات نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے معاشی مستقبل، مقامی ترقی، روزگار، خود انحصاری اور پائیدار معاشی استحکام سے براہِ راست وابستہ قومی و عوامی اثاثہ ہیں۔ اسی لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ گلگت بلتستان میں مائننگ ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مائننگ کس قانون، کس نظام، کن شرائط اور کس کے مفاد میں ہونی چاہیے۔ میرا مؤقف واضح ہے کہ ہم مائننگ کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم غیر قانونی، غیر منظم، غیر شفاف، ماحول دشمن اور مقامی آبادی کے حقوق کو نظرانداز کرنے والی مائننگ کے خلاف ہیں۔ گلگت بلتستان میں سائنسی، قانونی، ماحول دوست اور ذمہ دارانہ مائننگ ہونی چاہیے، کیونکہ معدنی وسائل کو معاشی ترقی کے ایک اہم ذریعہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب اس شعبے کے لیے ایک ایسا جدید، جامع اور شفاف قانونی و پالیسی فریم ورک موجود ہو جو گلگت بلتستان کے موجودہ سیاسی، معاشی، ماحولیاتی، سماجی اور آئینی حالات سے ہم آہنگ ہو۔ گلگت بلتستان میں معدنیات کے شعبے سے متعلق موجودہ قانونی و انتظامی نظام میں Mines and Minerals (Development and Regulation) Act, 1948 جیسے قدیم قانونی تصورات اور بعد کے Mineral Concession Rules 2019 شامل ہیں۔ لیکن یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ آج کا گلگت بلتستان سماجی، معاشی، ماحولیاتی اور آئینی اعتبار سے ماضی کے گلگت بلتستان سے بہت مختلف ہے۔ لہٰذا محض پرانے قوانین میں معمولی ترامیم کرکے اس شعبے کے موجودہ اور مستقبل کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے لیے ایک جدید، جامع، شفاف اور مقامی زمینی حقائق سے ہم آہنگ Mines & Minerals قانون اور Policy Framework تشکیل دیا جائے، جس میں صرف معدنی ذخائر اور لیزنگ کا معاملہ ہی نہیں بلکہ زمین کی ملکیت، مقامی آبادی کے حقوق، ماحولیات، پانی کے ذخائر، گلیشیئرز، دریاؤں، جنگلات، چراگاہوں، مقامی روزگار، رائلٹی، سرمایہ کاری، لیزنگ کے طریقہ کار، احتساب، ماحولیاتی بحالی اور عوامی شرکت کو بھی واضح قانونی تحفظ حاصل ہو۔ یہ اصول اپنی جگہ درست ہے کہ معدنی وسائل وسیع تر عوامی یا قومی مفاد سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اس اصول کو اس انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ زیرِ زمین معدنیات کو قومی اثاثہ قرار دے کر زمین کے اوپر موجود مقامی لوگوں کے قانونی، ملکیتی اور مفاداتی حقوق ہی ختم کر دیے جائیں۔ اصل قانونی اور پالیسی سوال یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں معدنی سرگرمی شروع کی جاتی ہے تو وہاں موجود زمین کے قانونی مالکان، مقامی کمیونٹی اور متاثرہ خاندانوں کے حقوق کیا ہوں گے؟ انہیں کیا معاوضہ ملے گا؟ معدنی سرگرمی سے پیدا ہونے والے معاشی فوائد میں ان کا کیا حصہ ہوگا؟ ماحول یا ذریعۂ معاش کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ اور تنازع کی صورت میں متاثرہ شہری کہاں رجوع کرے گا؟ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ معدنیات قومی اثاثہ ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ اس قومی اثاثے سے پیدا ہونے والی معاشی قدر میں مقامی آبادی کا قانونی، منصفانہ اور قابلِ عمل حصہ کیا ہوگا۔ گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کی زمینوں کو محض کسی انتظامی حکم، پالیسی یا سرکاری فیصلے کے ذریعے ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ زمینیں صرف زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ مقامی معاشروں کی تاریخ، شناخت، معاش اور نسل در نسل ملکیتی تعلق کا حصہ ہیں۔ ترقی اور سرمایہ کاری کے نام پر مقامی لوگوں کے قانونی حقوق کو نظرانداز کرنا نہ اچھی گورننس ہے اور نہ ہی پائیدار ترقی کا اصول. قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے میں گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے غیر قانونی مائننگ کے خلاف Zero Tolerance کے اصولی مؤقف کی حمایت کرتا ہوں۔ غیر قانونی مائننگ محض ایک انتظامی خلاف ورزی نہیں بلکہ عوامی وسائل کے غیر قانونی استحصال، ریاستی آمدنی کے نقصان، ماحولیاتی تباہی، پانی کے نظام کو نقصان، دریاؤں اور ندی نالوں کی آلودگی، جنگلات اور چراگاہوں کی تباہی اور مقامی آبادی کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن Zero Tolerance کا اصول تب ہی معتبر ہوگا جب قانون کا اطلاق بلاامتیاز ہو۔ اگر ایک چھوٹا مقامی کان کن قانون کی گرفت میں آتا ہے تو اس غیر قانونی مائننگ آپریشن کے پیچھے موجود بڑے سرمایہ کار، بااثر شخص، سیاسی شخصیت یا سرکاری اہلکار بھی اسی قانون کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں مائننگ گورننس کے سب سے اہم سوال کی طرف متوجہ ہونا ہوگا کہ غیر قانونی مائننگ صرف باہر سے آنے والے افراد کی وجہ سے کیسے جاری رہتی ہے؟ مائننگ مافیا کو اندر سے سہولت کون فراہم کرتا ہے؟ لیز، اجازت ناموں، نقشوں، سروے، معائنوں، مشینری اور نقل و حرکت کے معاملات میں کون سہولت کاری کرتا ہے؟ اگر کوئی غیر قانونی سرگرمی مسلسل جاری رہتی ہے تو اس کے لیے کسی نہ کسی سطح پر غفلت، سہولت کاری، ملی بھگت یا بدعنوانی کا امکان بھی زیرِ بحث آنا چاہیے۔ لہٰذا صرف غیر قانونی مائننگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں۔ محکمہ معدنیات، انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے اندر موجود ان عناصر کا احتساب بھی ضروری ہے جو غیر قانونی مائننگ میں سہولت کاری، غفلت، ملی بھگت یا بدعنوانی کے مرتکب پائے جائیں۔ ایسے اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق فوجداری، محکمانہ اور مالیاتی کارروائی ہونی چاہیے۔ یہی Rule of Law اور حقیقی Zero Tolerance کا تقاضا ہے۔ گلگت بلتستان میں مائننگ کے مستقبل پر بحث کرتے ہوئے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ صرف غیر قانونی کان کنی کو روکنے کا نہیں بلکہ Mining Governance کو درست کرنے کا بھی ہے۔ ایک جدید Mines & Minerals قانون میں یہ لازمی ہونا چاہیے کہ تمام مائننگ لیز اور لائسنس شفاف اور مسابقتی طریقہ کار کے ذریعے جاری ہوں، ہر لیز کا رقبہ، مدت، مالک یا کمپنی، شرائط، فیس اور رائلٹی کی معلومات عوامی ریکارڈ کا حصہ ہوں، لیز جاری کرنے سے قبل زمین کے قانونی مالکان اور مقامی کمیونٹی کے حقوق کا باقاعدہ تعین کیا جائے، بڑے مائننگ منصوبوں کے لیے مؤثر Environmental Impact Assessment اور دیگر متعلقہ ماحولیاتی تقاضے لازمی ہوں، پانی، دریاؤں، ندی نالوں، گلیشیئرز، جنگلات، چراگاہوں اور حساس ماحولیاتی علاقوں کے تحفظ کو بنیادی قانونی شرط بنایا جائے، غیر قانونی مائننگ میں استعمال ہونے والی مشینری اور آلات کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کی جائے، معدنیات سے حاصل ہونے والی رائلٹی، فیس اور دیگر محصولات کا شفاف حساب عوام کے سامنے رکھا جائے، مقامی لوگوں کے لیے روزگار، کاروباری مواقع اور معاشی شراکت کو قانونی پالیسی کا حصہ بنایا جائے، مائننگ کے نتیجے میں متاثر ہونے والی زمین اور ماحول کی Restoration and Rehabilitation کی ذمہ داری متعلقہ مائننگ کمپنی پر عائد کی جائے، مائننگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مناسب حصہ متاثرہ علاقوں کی تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی ضروریات پر خرچ کرنے کے لیے Community Development Fund قائم کیا جائے اور زمین، لیز، معاوضے، ماحول اور رائلٹی سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے ایک آزاد، مؤثر اور قابلِ رسائی فورم قائم کیا جائے۔ معدنی وسائل کے حوالے سے قانون سازی کرتے وقت گلگت بلتستان کی خصوصی آئینی، سیاسی، تاریخی اور سماجی حیثیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ گلگت بلتستان کو محض کسی دوسرے صوبے کا انتظامی ماڈل دے کر اس کے مخصوص حالات سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں قانون سازی کرتے وقت مقامی ملکیتی حقوق، تاریخی روایات، کمیونٹی نظام، جرگہ کی روایات، زمین کے ریکارڈ، مقامی حکومت، عوامی مفادات اور گلگت بلتستان کے موجودہ آئینی انتظام کو پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ ایک کامیاب Mining Policy وہ نہیں ہوگی جو صرف اسلام آباد یا گلگت کے کسی دفتر میں بیٹھ کر تیار کی جائے؛ کامیاب پالیسی وہ ہوگی جس میں مقامی لوگوں کی آواز، تجربہ اور حقوق شامل ہوں۔ معدنی وسائل ایک طویل المدتی قومی و علاقائی معاملہ ہیں۔ ان کے اثرات ایک حکومت یا ایک اسمبلی کی مدت تک محدود نہیں ہوتے۔ آج ایک حکومت پالیسی بنائے اور کل دوسری حکومت اسے تبدیل کر دے تو نہ سرمایہ کار کا اعتماد قائم ہوگا اور نہ ہی عوام کا۔ اس لیے گلگت بلتستان کی Mines & Minerals Policy پر National Consensus کے ساتھ GB-wide Consensus بھی ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، وکلاء، ماہرینِ ارضیات، ماہرینِ ماحولیات، ماہرینِ معیشت، مقامی عمائدین، زمین کے مالکان، مائننگ سیکٹر، سول سوسائٹی اور متعلقہ سرکاری اداروں کو ایک جامع مشاورتی عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔ معدنیات کی پالیسی کسی ایک حکومت، وزیر، افسر یا سرمایہ کار کی پالیسی نہیں ہونی چاہیے؛ یہ گلگت بلتستان کے اجتماعی مستقبل کی پالیسی ہونی چاہیے۔ گلگت بلتستان موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئر پگھلنے، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں معدنی پالیسی کو محض معاشی نقطۂ نظر سے دیکھنا ایک بڑی پالیسی غلطی ہوگی۔ اگر ایک طرف ہم Climate Resilience، محفوظ تعمیرات، صاف پانی، سیوریج، قدرتی آفات سے بچاؤ اور متاثرہ آبادی کی بحالی پر وسائل خرچ کر رہے ہوں اور دوسری طرف ایسی مائننگ کی اجازت دے دیں جو پہاڑوں، دریاؤں، ندی نالوں، جنگلات یا آبی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے تو یہ پالیسی کا واضح تضاد ہوگا۔ اس لیے مستقبل کی Mining Policy میں Climate Resilience، Environmental Protection، Water Security اور Disaster Risk Reduction کو بنیادی اصولوں کے طور پر شامل کرنا ہوگا۔ ترقی وہی پائیدار ترقی ہے جو آج کی معاشی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ آنے والی نسلوں کے حقِ زندگی اور حقِ ماحول کو بھی محفوظ رکھے۔ اگر کسی حالیہ فیصلے، اعلان یا پالیسی کے ذریعے گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کی ملکیتی زمینوں، قانونی حقوق یا معاشی مفادات کو نظرانداز کیا گیا ہے تو ایسے فیصلوں پر سنجیدہ قانونی اور عوامی نظرثانی ضروری ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ مقامی لوگوں کی ملکیتی زمینوں پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی مداخلت، قبضے یا من مانے فیصلے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ہم وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے تمام معاملات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، مقامی آبادی اور قانونی مالکان کو اعتماد میں لیا جائے اور معدنی وسائل سے متعلق کسی بھی بڑے فیصلے کو شفاف قانونی عمل، ماہرین کی رائے اور بامعنی عوامی مشاورت کے بغیر آگے نہ بڑھایا جائے۔ اگر متعلقہ حکام اپنے فیصلوں یا بیانات پر نظرثانی نہیں کرتے تو متاثرہ شہریوں کو اپنے آئینی، قانونی اور جمہوری حقوق استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ ہماری جدوجہد کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، عوامی حقوق، شفاف گورننس اور گلگت بلتستان کے اجتماعی مفاد کے لیے ہے۔ ہم اپنی زمین، اپنے حقوق، اپنے قدرتی وسائل، اپنے ماحول اور اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے ہر جائز، آئینی اور پُرامن راستہ اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے معدنی وسائل ایک بہت بڑا معاشی موقع ہیں، لیکن یہی وسائل اگر غلط حکمتِ عملی، غیر شفاف لیزنگ، سیاسی اثر و رسوخ، ادارہ جاتی ملی بھگت اور ماحولیاتی بے احتیاطی کی نذر ہو جائیں تو یہ ترقی کے بجائے تنازع اور محرومی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اس لیے ہمارا مؤقف نہ مائننگ مخالف ہے اور نہ سرمایہ کاری مخالف۔ ہمارا مؤقف Responsible Mining کے حق میں ہے۔مائننگ ہونی چاہیے، مگر قانون کے تحت۔ سرمایہ کاری ہونی چاہیے، مگر شفاف طریقے سے۔ معدنی وسائل سے فائدہ اٹھایا جائے، مگر مقامی عوام کے حقوق کے ساتھ۔ غیر قانونی مائننگ کے خلاف Zero Tolerance ہو، مگر قانون سب کے لیے برابر ہو۔ مائننگ مافیا کے ساتھ ساتھ ان کے سرکاری سہولت کار بھی جواب دہ ہوں۔ زمین، پانی، جنگلات، چراگاہیں اور ماحول محفوظ ہوں اور آنے والی نسلوں کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، گلگت بلتستان کے معدنی وسائل کے بارے میں قانون اور پالیسی کسی فرد، وزیر، افسر یا عارضی حکومت کی مرضی سے نہیں بلکہ عوامی مفاد، آئینی تقاضوں، شفافیت، ماہرین کی رائے، مقامی حقوق اور قومی و علاقائی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر تشکیل دی جائے۔ گلگت بلتستان کے معدنی وسائل کو عوامی خوشحالی کا ذریعہ بنانا ہے تو ہمیں مائننگ سے پہلے گورننس کو مضبوط کرنا ہوگا. کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں کتنی معدنی دولت موجود ہے اصل سوال یہ ہے کہ اس دولت کا مالک کون سمجھے گا، اس سے فائدہ کس کو پہنچے گا، اس کی قیمت کون ادا کرے گا، اور آنے والی نسلوں کے لیے اس میں سے کیا باقی بچے گا؟ایک ذمہ دار، عوام دوست، شفاف اور پائیدار Mining Policy کا اصل امتحان یہی ہے۔
جی ایم ایڈوکیٹ
اولڈ ہومز: اخلاقی و اسلامی اقدار کا زوال. سیدہ تسکین بخت
Illegal Mining and Public Rights in Gilgit-Baltistan




