اولڈ ہومز: اخلاقی و اسلامی اقدار کا زوال. سیدہ تسکین بخت
کسی معاشرے کی تہذیبی رفعت کا اندازہ اس کی بلند عمارتوں اور جدید آسائشوں سے نہیں، بلکہ اس امر سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے ضعیف، محتاج اور بے بس افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ جس معاشرے میں والدین، جنہوں نے اپنی جوانی اولاد کی پرورش پر نچھاور کر دی، بڑھاپے میں اپنی ہی اولاد کے لیے بوجھ بن جائیں، وہاں ترقی کے تمام دعوے محض ظاہری ملمع کاری ہیں۔ اولڈ ہومز کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے اسی اخلاقی انحطاط کی ایک تشویش ناک علامت ہے۔
اولڈ ہوم کا تصور بنیادی طور پر مغربی معاشرتی ساخت سے ابھرا، جہاں انفرادی زندگی، جداگانہ رہائش اور کمزور خاندانی روابط نے بزرگوں کے لیے الگ اداروں کی ضرورت پیدا کی۔ بعض حالات میں ایسے مراکز بے سہارا اور لاوارث افراد کے لیے ناگزیر سہارا بھی ہیں، لیکن ہمارے لیے المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس تصور کو اپنی تہذیبی اور دینی اساس پر پرکھے بغیر قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔
پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے؛ اس کی نظریاتی اساس اسلام ہے، اور اسلام کا خاندانی نظام والدین کو محض خاندان کا ایک حصہ نہیں بلکہ احترام، خدمت اور حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیتا ہے۔ قرآنِ حکیم کا حکم ہے: “”وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا” والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔ پھر ان کے بڑھاپے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں “اُف” تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزت و تکریم کے ساتھ گفتگو کرو۔
یہ تعلیم محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ اسلامی معاشرت کا بنیادی اصول ہے۔ اس کے مقابلے میں کسی صاحبِ اولاد، صاحبِ استطاعت والد یا والدہ کو محض اپنی آسائش، مصروفیت، عیش کوشی یا بیرونِ ملک سکونت کی خاطر اولڈ ہوم کے سپرد کر دینا ایک ایسا اخلاقی افلاس ہے جسے کسی مہذب نام سے مستور نہیں کیا جا سکتا۔
جس ماں نے ہماری بے خوابی میں راتیں کاٹیں، جس باپ نے ہماری ضرورتوں کے لیے اپنی خواہشیں قربان کیں، انہیں بڑھاپے میں تنہائی کے حوالے کر کے ہم کس منہ سے اپنی تہذیب اور اخلاق کا دعویٰ کرتے ہیں؟ والدین کو سہولتیں فراہم کر دینا کافی نہیں؛ انہیں محبت، قربت، احترام اور اپنائیت بھی درکار ہے۔ انسان کو صرف روٹی نہیں، رشتہ بھی زندہ رکھتا ہے۔
خاندانی نظام کی اصل قوت بھی یہی ہے کہ نسلیں ایک دوسرے سے جڑی رہیں۔ والدین اولاد کو صرف پرورش نہیں دیتے؛ وہ اسے تہذیب، تمدن، معاشرت، اقدار، تجربہ اور رشتوں کا شعور منتقل کرتے ہیں۔ جب بزرگ گھر سے رخصت کر دیے جاتے ہیں تو صرف دو افراد الگ نہیں ہوتے، خاندان کی اخلاقی یادداشت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے سامنے اپنے ہی والدین کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں، دراصل انہیں اپنے مستقبل کا آئینہ دکھا رہے ہوتے ہیں۔ جو بوئیں گے، وہی کاٹیں گے۔ آج اگر ہم اپنے والدین کو اولڈ ہوم کی دہلیز پر چھوڑ آئیں گے تو کل ہماری اولاد بھی ہماری ضرورت کے وقت یہی منطق ہمارے سامنے رکھ سکتی ہے۔ بچے ہماری تقریریں نہیں، ہمارے کردار پڑھتے ہیں۔
لہٰذا مسئلہ اولڈ ہوم کی عمارت نہیں، وہ ذہنیت ہے جو والدین کو ذمہ داری کے بجائے زحمت سمجھتی ہے۔ بے وارث، لاچار اور حقیقی طور پر بے سہارا بزرگوں کے لیے ایسے مراکز یقیناً رحمت اور سماجی ضرورت ہو سکتے ہیں؛ لیکن زندہ وارث رکھنے والے والدین کو محض اپنی عیاشی اور آزادی کی خاطر وہاں چھوڑ آنا معاشرتی بے حسی، اخلاقی دیوالیہ پن اور اسلامی اقدار سے انحراف ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کے لیے کیسی میراث چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کل ہماری اولاد ہمارے بڑھاپے میں ہمارا سہارا بنے تو آج ہمیں اپنے والدین کا سہارا بننا ہوگا۔ کیونکہ خاندان صرف خون کا رشتہ نہیں؛ یہ ذمہ داری، وفا، قربانی اور نسل در نسل منتقل ہونے والی اخلاقی امانت ہے۔
والدین کو گھر سے نکال کر ہم صرف ایک بوڑھے انسان کو تنہا نہیں کرتے؛ ہم اپنی تہذیب کی ایک اینٹ گراتے، اپنی اخلاقی بنیاد کو کھوکھلا کرتے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔ جس معاشرے میں والدین کے لیے گھر تنگ اور اولڈ ہوم کشادہ ہو جائیں، وہاں مسئلہ صرف بزرگوں کا نہیں رہتا پوری تہذیب اپنے زوال کی دہلیز پر کھڑی ہوتی ہے۔
مہنگائی ایک دلدل. بتول فاطمہ
Old Age Homes




