Freedom Really Mean 0

آزادی کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہم پاکستانی عوام آزاد ہیں؟ شبیر حسین کمال
آزادی ایک ایسا لفظ ہے جسے سن کر انسان کے دل میں خوشی، امید اور وقار کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آزادی کا اصل مطلب کیا ہے؟ کیا صرف یہ کافی ہے کہ کسی ملک پر کسی دوسری قوم کی حکومت نہ ہو؟ یا حقیقی آزادی اس سے کہیں زیادہ وسیع تصور ہے؟
آزادی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے بنیادی فیصلے عزت، انصاف اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے خود کر سکے۔اسے اپنی رائے کے اظہار، تعلیم، روزگار، عبادت اور بنیادی حقوق حاصل ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ آزادی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر شہری قانون کی نظر میں برابر ہو اور کسی طاقتور شخص کو صرف طاقت یا عہدے کی بنیاد پر دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہ ہو۔
پاکستان 14 اگست 1947ء کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ ہمارے بزرگوں نے ایک ایسی ریاست کے قیام کے لیے قربانیاں دیں جہاں مسلمان اپنی تہذیب، مذہبی اقدار اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، بے شمار خاندان بچھڑ گئے اور ہزاروں لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔ اس لیے پاکستان کی آزادی محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک عظیم قربانیوں کی داستان ہے۔
لیکن آج ہمیں اپنے آپ سے ایک اہم سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا پاکستان کی آزادی کا مقصد صرف بیرونی غلامی سے نجات تھا؟
اگر ایک غریب شخص انصاف کے حصول کے لیے سالہا سال دروازے کھٹکھٹاتا رہے، اگر کسی نوجوان کو میرٹ کے باوجود سفارش کے بغیر موقع نہ ملے، اگر ایک عام شہری اپنے بنیادی حقوق کے لیے طاقتور طبقے کے سامنے بے بس ہو، اگر صحافت، اظہارِ رائے اور اختلافِ رائے کے راستے محدود ہو جائیں، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہماری آزادی کس حد تک مکمل ہے؟
حقیقی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص جو چاہے کرتا پھرے۔ آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ اگر ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرنا ہوگا۔ اگر ہم حکمرانوں سے قانون کی پابندی چاہتے ہیں تو ہمیں خود بھی قانون کا احترام کرنا ہوگا۔ اگر ہم انصاف چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے معاملات میں بھی انصاف کو اپنانا ہوگا۔پاکستانی عوام میں آزادی کی خواہش آج بھی زندہ ہے۔ لوگ ایک ایسے پاکستان کے خواہش مند ہیں جہاں غریب اور امیر کے لیے انصاف کا معیار ایک ہو، جہاں نوجوانوں کو میرٹ پر مواقع ملیں، جہاں تعلیم ہر بچے کا حق ہو، جہاں خواتین اور کمزور طبقات کو تحفظ حاصل ہو اور جہاں کسی شہری کو اپنے جائز حق کے لیے ذلت نہ اٹھانی پڑے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آزادی صرف حکومت سے سوال کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے اندر کی غلامی ختم کرنے کا نام بھی ہے۔جہالت، تعصب، نفرت، کرپشن، سفارش، جھوٹ اور شخصیت پرستی بھی ایسی زنجیریں ہیں جو قوموں کو اندر سے کمزور کر دیتی ہیں۔
لہٰذا یہ کہنا درست ہوگا کہ پاکستان ایک آزاد ریاست ہے، لیکن حقیقی اور مکمل آزادی کے ثمرات ہر شہری تک پہنچانا ابھی ایک مسلسل قومی جدوجہد ہے۔ آزادی صرف جشن منانے سے محفوظ نہیں رہتی؛ اسے انصاف، قانون، شعور، دیانت اور ذمہ داری کے ذریعے مضبوط کرنا پڑتا ہے۔
آئیے اس یومِ آزادی پر صرف پرچم لہرانے کے بجائے یہ عہد بھی کریں کہ ہم پاکستان کو ایسا ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں آزادی کے ساتھ انصاف، ترقی کے ساتھ مساوات اور وطن سے محبت کے ساتھ ذمہ داری بھی موجود ہو۔
پاکستان کی آزادی ہماری نعمت بھی ہے اور ہماری ذمہ داری بھی۔

گلگت بلتستان میں غیر قانونی مائننگ اور عوامی حقوق . جی ایم ایڈووکیٹ

ایوانِ اقتدار کا انکسار المزاج درویش، جی ایم سکندرشگری مرحوم: جی ایم سکندرشگری مرحوم کی پہلی برسی پر خصوصی تحریر. حاجی شبیر احمد شگری

Freedom Really Mean

100% LikesVS
0% Dislikes

آزادی کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہم پاکستانی عوام آزاد ہیں؟ شبیر حسین کمال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں