معافی اور انتقام کے درمیان انسانی نفسیات(ایک باریک فرق مگر گہرے اثرات). سیدہ تسکین بخت
انسانی وجود محض گوشت پوست کا پیکر نہیں، بلکہ احساس، حافظے، خواہش، انا، ضمیر اور اختیار کی ایک پیچیدہ کائنات ہے۔ اسی کائنات میں بعض زخم جسم پر نہیں، شعور پر لگتے ہیں؛ اور بعض اذیتیں وقت گزرنے کے باوجود اپنی تازگی نہیں کھوتیں۔ جب انسان کو کسی دوسرے کے ہاتھ سے دکھ، ناانصافی یا تحقیر پہنچتی ہے تو اس کے اندر دو متضاد راستے جنم لیتے ہیں: ایک معافی کا اور دوسرا انتقام کا۔ بظاہر دونوں راستے کسی نہ کسی صورت میں دکھ کا جواب ہیں، مگر انسانی نفسیات پر ان کے اثرات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔
انتقام دراصل زخمی انا کی وہ خواہش ہے جو اپنے دکھ کا ازالہ دوسرے کو دکھ دے کر کرنا چاہتی ہے۔ انسان کے باطن میں ایک خاموش منطق پیدا ہوتی ہے کہ جس اذیت سے میں گزرا ہوں، دوسرا بھی اس کا تجربہ کرے؛ گویا دوسرے کو تکلیف پہنچا کر اپنے زخم کی تلافی ممکن ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انتقام بسا اوقات انصاف کا لباس پہن لیتا ہے، حالاں کہ انصاف اور انتقام کے درمیان ایک باریک مگر بنیادی امتیاز موجود ہے۔ انصاف حق کی بحالی چاہتا ہے، انتقام دل کی آگ بجھانے کے لیے دوسرے کو جلانا چاہتا ہے۔
انتقام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے ماضی کے ساتھ باندھ دیتا ہے۔ جس شخص نے ہمیں تکلیف دی ہوتی ہے، وہ ہماری زندگی سے نکل بھی جائے تو انتقام کی خواہش اسے ہمارے ذہن میں زندہ رکھتی ہے۔ ہم بظاہر اس سے دور ہوتے ہیں، مگر باطن میں اسی کے گرد گردش کرتے رہتے ہیں۔ یوں مظلوم، ظالم کے فعل کا قیدی بن جاتا ہے۔ انتقام لینے کے بعد وقتی طور پر ایک عجیب سا اطمینان ضرور محسوس ہو سکتا ہے، لیکن یہ اطمینان اکثر دیرپا نہیں ہوتا؛ کیونکہ غصے کی آگ بجھنے کے بعد ضمیر، اخلاق اور عقل انسان سے نئے سوالات کرنے لگتے ہیں۔ کیا میں واقعی آزاد ہوا یا میں نے اپنے آپ کو اسی شخص کے کردار کا حصہ بنا لیا جس سے مجھے نفرت تھی؟
اس کے برعکس معافی انسانی نفسیات میں کمزوری نہیں بلکہ ضبطِ نفس کی ایک بلند ترین صورت ہے۔ معاف کرنا یہ نہیں کہ ظلم کو درست مان لیا جائے، نہ یہ کہ اپنے زخم کی حقیقت سے انکار کر دیا جائے۔ معافی دراصل یہ فیصلہ ہے کہ میں اپنے ماضی کو اپنے مستقبل کا مالک نہیں بننے دوں گا۔ انسان جب معاف کرتا ہے تو وہ دوسرے کو نہیں، سب سے پہلے اپنے آپ کو آزاد کرتا ہے۔ وہ اپنے ذہن سے نفرت کا وہ بوجھ اتار دیتا ہے جو مسلسل ذہنی انتشار، غصے اور اضطراب کو جنم دیتا رہتا ہے۔
معافی کا ایک نہایت گہرا نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو واقعے اور اپنی ذات کے درمیان فاصلہ قائم کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ جو شخص ہر زخم کو اپنی شناخت بنا لیتا ہے، وہ ہمیشہ ماضی میں زندہ رہتا ہے؛ لیکن جو شخص زخم کو تجربہ سمجھ کر آگے بڑھتا ہے، وہ اپنے وجود کو ایک نئے امکان میں تبدیل کر لیتا ہے۔ معافی اسی تبدیلی کا نام ہے۔ یہ بھول جانا نہیں، بلکہ یاد رکھتے ہوئے بھی نفرت سے آزاد ہو جانا ہے۔
تاہم معافی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر ظلم کو خاموشی سے قبول کر لیا جائے۔ ایک صحت مند معاشرہ معافی کے ساتھ احتساب کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔ مجرم کو اس کے فعل کا ذمہ دار ٹھہرانا اور دل میں انتقام کی آگ نہ پالنا، دونوں بیک وقت ممکن ہیں۔ یہی اخلاقی بلوغت ہے کہ انسان حق کے لیے کھڑا ہو، مگر اپنے باطن کو کینہ پروری کا مسکن نہ بننے دے۔
انتقام صرف فرد کو متاثر نہیں کرتا؛ اس کے اثرات پورے معاشرے تک پھیلتے ہیں۔ جب بدلے کا اصول اجتماعی رویہ بن جائے تو ظلم کا جواب ظلم، تحقیر کا جواب تحقیر اور تشدد کا جواب تشدد بن جاتا ہے۔ یوں ایک واقعہ کئی نسلوں تک منتقل ہونے والی دشمنی میں بدل سکتا ہے۔ خاندان، معاشرے اور قومیں اسی ذہنی میراث کے باعث کبھی کبھی ایسے تنازعات میں مبتلا رہتی ہیں جن کی اصل وجہ مدتوں پہلے مٹ چکی ہوتی ہے، مگر انتقام کی یاد باقی رہتی ہے۔
معافی اس سلسلے کو توڑنے کی قوت رکھتی ہے۔ وہ انتقام کے تسلسل کے مقابل ایک اخلاقی انقطاع پیدا کرتی ہے۔ جہاں انتقام کہتا ہے کہ “تم نے میرے ساتھ جو کیا، میں بھی وہی تمہارے ساتھ کروں گا”، وہاں معافی کہتی ہے کہ “تمہارے عمل نے مجھے زخمی کیا، مگر میں اپنے کردار کا فیصلہ تمہارے عمل سے نہیں ہونے دوں گا۔”
آخرکار معافی اور انتقام کے درمیان اصل کشمکش دوسرے انسان سے زیادہ ہمارے اپنے باطن میں ہوتی ہے۔ انتقام ہمیں چند لمحوں کے لیے فاتح بنا سکتا ہے، مگر معافی ہمیں اپنے نفس پر فتح عطا کرتی ہے۔ انتقام دوسروں کو سزا دینے کی خواہش ہے، جبکہ معافی اپنے اندر سے نفرت کی سلطنت ختم کرنے کا نام ہے۔ شاید اسی لیے حقیقی سکون اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان بدلہ لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود بدلے کو اپنی زندگی کا مقصد نہ بنائے۔
کیونکہ بعض جنگیں دشمن کو شکست دینے سے نہیں، اپنے اندر کے انتقام کو شکست دینے سے ختم ہوتی ہیں؛ اور بعض زخم وقت نہیں بھرتا، انسان خود اپنے شعور کی بلندی سے انہیں بے معنی کر دیتا ہے۔
گلگت بلتستان میں غیر قانونی مائننگ اور عوامی حقوق . جی ایم ایڈووکیٹ
Human Psychology Between Forgiveness and Revenge




