وفاداری کے ٹھیکیدار کون ہیں؟ کرامت علی جعفری
ذرا تعصب کی عینک اتار کر دیکھیے کہ حقیقت کیا ہے اور تعصب کا پردہ کہاں کہاں حائل ہے۔ جب ہم کربلا، عراق، ایران اور دیگر مقدس مقامات پر اپنے وطنِ عزیز پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں تو کسی کو اس میں حب الوطنی کے خلاف کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔ وہاں کے مؤمنین بھی پاکستانی پرچم کو احترام اور خوشی کے ساتھ دیکھتے ہیں، مگر کوئی ہمیں باغیِ وطن، بے وفا یا کافر قرار دینے کی جسارت نہیں کرتا۔
لیکن جب ہم ایرانی شہداء، فلسطین کے مظلوم عوام اور لبنان کے شہداء و مظلومین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں، ان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں اور جلوسوں، مشی اور احتجاجی اجتماعات میں ان کے پرچم لہراتے ہیں تو بعض متعصب عناصر کی زبانیں فوراً وطن دشمنی، بغاوت، بے وفائی حتیٰ کہ کفر جیسے سنگین الزامات تک پہنچ جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہی عمل کے لیے دو مختلف پیمانے کیوں؟ اگر پاکستان کا پرچم بیرونِ ملک لہرانا حب الوطنی کی علامت ہے تو مظلومینِ عالم کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو وطن دشمنی قرار دینے کی منطق کیا ہے؟
درحقیقت مسئلہ پرچم کا نہیں، تعصب کی اس عینک کا ہے جو کچھ لوگوں کی آنکھوں کو حقیقت دیکھنے سے محروم کر دیتی ہے۔ ہمارے نزدیک مظلوم کی حمایت کسی سرحد، قوم، نسل یا جغرافیے کی پابند نہیں۔ جہاں ظلم ہوگا، وہاں آوازِ حق بلند کرنا انسانی، اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔
ہمیں اپنی مملکتِ خداداد پاکستان سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے کسی فرد، گروہ یا جماعت کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ پاکستان ہماری شناخت، ہماری سرزمین اور ہمارا وطن ہے۔ ہماری وفاداری کا ثبوت کسی کے الزامات نہیں بلکہ ہمارا کردار، ہماری تاریخ اور ہمارا عمل ہے۔
ہم اس سرزمین سے وابستہ ہیں، جس کی بنیاد ایک ایسی قیادت نے رکھی جس کے بانی قائدِاعظم محمد علی جناحؒ تھے جو کہ مکتب تشیع سے تعلق رکھنے والے تھے ۔ ہمارے لیے یہ بھی باعثِ فخر ہے کہ ہم مولائے کائنات حضرت علیؑ سے محبت کرنے والے ہیں؛ اور علیؑ سے محبت ہمیں وفا، عدل، شجاعت اور حق گوئی کا درس دیتی ہے۔ ہماری نظر میں محبتِ وطن اور مظلوموں سے ہمدردی ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ دونوں انسانی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا حصہ ہیں۔
ہم نہ اپنی حب الوطنی کی ثبوت کسی متعصب سوچ کے سامنے پیش کرنے کے پابند ہیں اور نہ ہی اپنے ایمان و عقیدے کی سند کسی سے لینے کے محتاج۔ ہمیں یقین ہے کہ وطن سے وفاداری اور مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا ایک دوسرے کے متضاد نہیں؛ بلکہ ایک بااصول انسان بیک وقت اپنے وطن سے وفادار بھی ہوسکتا ہے اور دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے آواز بھی اٹھا سکتا ہے۔
اس لیے بہتر ہوگا کہ دوسروں پر فتوے اور غداری کے الزامات عائد کرنے سے پہلے اپنے دلوں کا جائزہ لیا جائے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی اور مظلوم کی حمایت کو غداری قرار دینا کسی صحت مند معاشرے کی علامت نہیں۔ ہمیں تعصب کی عینک اتار کر حقیقت کو دیکھنا ہوگا، کیونکہ حق کی آواز کو دبایا جاسکتا ہے، مگر اسے ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جاسکتا۔
کرامت علی جعفری حرم حضرت عباس علیہ السلام سے۔
ایک سپلی اور ایک زندگی ختم؟” محمد دلاور بلتستانی
Guardians of Loyalty




