urdu column A Critical Review of Azhar Sajjad's Short Story

اظہر سجاد صاحب کے افسانوی مجموعے تیسری دیوار پر تبصرہ۔ : عبدالحفیظ شاہد واہ کینٹ
کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں لکھنا، انہیں پڑھنے سے زیادہ مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ ان پر کہنے کو کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے اندر اتنے وسیع خیالات اور موضوعات سمیٹے ہوتی ہیں کہ آدمی سوچتا رہ جاتا ہے کہ بات کہاں سے شروع کرے۔ اظہر سجاد صاحب کا افسانوی مجموعہ تیسری دیوار بھی میرے لیے ایسی ہی کتاب ثابت ہوا۔ یہ افسانوی مجموعہ پڑھتے ہوئے بار بار محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے کہانیاں نہیں لکھیں بلکہ انسانی باطن کی ان گلیوں میں چراغ رکھ دیے ہیں جہاں عام طور پر روشنی کم پہنچتی ہے۔
اردو افسانے کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہر دور میں ایسے افسانہ نگار سامنے آئے جنہوں نے اپنے عہد کی آواز کو لفظوں میں ڈھالا۔ کسی نے سماج کے دکھ بیان کیے، کسی نے انسان کی نفسیات کو موضوع بنایا، کسی نے محبت اور ہجرت کو اپنی کہانیوں کا مرکز بنایا اور کسی نے علامتوں کے ذریعے ان سچائیوں کو بیان کیا جنہیں براہِ راست کہنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے تخلیق کار ہمیشہ تعداد میں کم رہے مگر ان کے فن کی بازگشت دیر تک سنائی دیتی رہی۔ اظہر سجاد صاحب بھی انہی لکھنے والوں میں دکھائی دیتے ہیں جن کے لیے افسانہ انسان کے اندر برپا ہونے والی خاموش کشمکش کا نام ہے۔
اظہر سجاد صاحب کا نام گزشتہ کئی برسوں سے ادبی حلقوں میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کی ادبی شناخت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ افسانہ ان کا محبوب میدان ہے اور یہی میدان ان کی تخلیقی شخصیت کو سب سے زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ وہ زندگی کو سطح پر نہیں دیکھتے بلکہ اس کے اندر اتر کر اس کی پوشیدہ لہروں کو محسوس کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں کرداروں سے زیادہ ان کی کیفیات بولتی ہیں، واقعات سے زیادہ ان کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور مکالموں سے زیادہ منظر کشی اثر چھوڑتی ہے۔
تیسری دیوار ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے لیکن پڑھتے ہوئے کہیں محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کسی نووارد قلم کار کی کتاب ہے۔ اس میں ایک پختہ تخلیق کار کی سنجیدگی بھی ہے، مطالعے کی وسعت بھی، مشاہدے کی گہرائی بھی شامل ہے۔ کتاب ہاتھ میں آتے ہی سب سے پہلے اس کا عنوان اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تیسری دیوار گویا ایک سوال بھی ہے اور ایک استعارہ بھی۔ ہر قاری اس عنوان سے اپنا الگ مفہوم اخذ کر سکتا ہے۔ کسی کے لیے یہ انسان اور حقیقت کے درمیان حائل پردہ ہے، کسی کے لیے شعور اور لاشعور کے بیچ کھڑی دیوار اور کسی کے لیے وہ خاموش فاصلہ جو انسان اپنی ذات اور اپنی روح کے درمیان خود تعمیر کر لیتا ہے۔
اس مجموعے کی ایک دل کش خوبی اس کے افسانوں کے عنوانات ہیں۔ بہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں جن کی فہرستِ مضامین ہی قاری کو رک کر دیکھنے پر مجبور کر دے۔ لوحِ شب، مجاور، بھڑ، کھوے پل کا آدمی، دیوار کیا گری، تیسری دیوار، زنبیل، ٹھیکرے، پسِ اشک، النداء الا الخیر، تتلی پر پھیلائے، تاوان، شور، خالی، کنچے، خواب کہانی، منکر، نام گم ہو جائے گا، مورت، لکیریں بولتی ہیں اور الف سے اماں۔ یہ صرف عنوانات نہیں ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے لفظوں سے ترتیب دیا گیا ایک خوش رنگ گلدستہ ہوں۔ ہر عنوان اپنے اندر ایک الگ کیفیت سمیٹے ہوئے ہے۔ کہیں اداسی کا رنگ ہے، کہیں بچپن کی خوشبو، کہیں روحانی سرگوشی، کہیں وقت کی دھول، کہیں خواب کی چبھن اور کہیں زندگی کی تلخ حقیقت شامل ہے۔
عنوانات کی یہی خوبصورتی کتاب کے اندر بھی قائم رہتی ہے۔ ایک افسانہ ختم ہوتا ہے تو دوسرا اپنے مختلف رنگ کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس تنوع کے باوجود پورا مجموعہ ایک وحدت کا احساس دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے مختلف سمتوں سے بہنے والی ندیاں آخرکار ایک ہی سمندر میں جا کر مل رہی ہوں۔
اظہر سجاد صاحب کے افسانوں کی سب سے نمایاں خوبی ان کا اسلوب ہے۔ ان کی نثر میں بے جا آرائش نہیں، مگر حسن بھرپور ہے۔ وہ مشکل لفظوں کے سہارے قاری کو مرعوب کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ عام لفظوں سے غیر معمولی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں۔ ان کے جملے آہستہ آہستہ اثر کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر قاری ایک لمحے کے لیے رک جاتا ہے، پھر دوبارہ وہی جملہ پڑھتا ہے اور اس کے معنی کی نئی پرت اس کے سامنے کھل جاتی ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو اچھے ادب کو عام تحریر سے ممتاز کرتا ہے۔
ان کے ہاں علامت محض ادبی صنعت نہیں بلکہ اظہار کا فطری وسیلہ ہے۔ وہ قاری کو کسی خاص نتیجے تک پہنچانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ وہ صرف منظر بناتے ہیں، کردار تخلیق کرتے ہیں، کیفیت پیدا کرتے ہیں اور پھر خاموشی سے ایک طرف ہٹ جاتے ہیں۔ باقی سفر قاری خود طے کرتا ہے۔ یہی اعتماد بڑے افسانہ نگاروں کی پہچان ہوتا ہے۔
ہر اچھا افسانوی مجموعہ اپنے زمانے کی صرف گواہی نہیں دیتا، وہ اپنے قاری کے اندر بھی ایک نئی دنیا آباد کر جاتا ہے۔ تیسری دیوار بھی ایسی ہی کتاب ہے۔ اس کا مطالعہ ختم ہونے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ کچھ کہانیاں ابھی باقی ہیں، کچھ سوال ابھی تشنۂ جواب ہیں اور کچھ منظر ابھی تک ذہن کی دیواروں پر ثبت ہیں۔ اظہر سجاد صاحب نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ افسانے کو محض قصہ گوئی کا وسیلہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے انسان کی باطنی دنیا تک پہنچنے کا ایک معتبر راستہ مانتے ہیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تیسری دیوار اردو افسانے کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک یادگار مطالعہ ثابت ہوگی، اور اس کے صفحات سے اٹھنے والی فکر کی روشنی دیر تک ادب سے محبت رکھنے والوں کے ذہنوں کو منور کرتی رہے گی۔
افسانہ نگار کا ذہن زرخیز مٹی کی مانند ہوتا ہے۔ جب اس میں مطالعے کا بیج بویا جائے تو خیالوں کی نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔ پھر انہی بے شمار خیالوں میں سے ایک ایسا خیال منتخب کرنا پڑتا ہے جس میں کہانی بننے کی صلاحیت موجود ہو۔ اس خیال کو مکمل افسانے کی صورت دینے کے لیے گہرے مشاہدے، وسیع مطالعے، زندگی کے تلخ و شیریں تجربات اور فنی ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو اظہر سجاد صاحب کے افسانوں میں موجود ہیں۔ ان کے ہاں خیال محض خیال نہیں رہتا، بلکہ کردار، منظر اور احساس کی صورت اختیار کر کے قاری کے دل و دماغ میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔
تیسری دیوار اچھی کتب پڑھنے والوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔
دعا ہے کہ اظہر سجاد صاحب کا یہ تخلیقی سفر اسی خلوص اور انہماک کے ساتھ آگے بڑھتا رہے اور وہ اردو افسانے کو اسی طرح یادگار تخلیقات سے مالا مال کرتے رہیں۔ اللہ رب العزت انہیں مزید تخلیقی توانائی، عزت، قبولیت اور کامیابیوں سے نوازے۔ آمین۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

urdu column A Critical Review of Azhar Sajjad’s Short Story

50% LikesVS
50% Dislikes

اظہر سجاد صاحب کے افسانوی مجموعے تیسری دیوار پر تبصرہ۔ : عبدالحفیظ شاہد واہ کینٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں