خلا میں عسکری برتری کی عالمی دوڑ(خلا میں مدار پر قبضے کی جنگ. سیدہ تسکین بخت
انسان نے صدیوں تک خلا کو حیرت، جستجو اور سائنسی تحقیق کی علامت سمجھا، مگر اکیسویں صدی میں یہی خلا عالمی طاقتوں کی سیاسی، عسکری اور معاشی کشمکش کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ آج بین الاقوامی سیاست میں Space Militarization and the Battle for Orbitیعنی “خلا میں عسکری برتری کی عالمی دوڑ”** ایک نہایت اہم موضوع بن چکا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد خلا اور زمین کے گرد موجود مختلف مداروں (Orbits) کو عسکری، تزویراتی اور دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور ان پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جدید دور میں جو ریاست خلا میں زیادہ مضبوط انفراسٹرکچر، جدید سیٹلائٹ نظام اور مؤثر خلائی ٹیکنالوجی رکھتی ہے، وہ صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست میں بھی زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرتی ہے۔ اسی لیے خلا اب صرف سائنس دانوں کی تجربہ گاہ نہیں بلکہ طاقت، سلامتی اور مستقبل کی معیشت کا اہم ترین میدان بن چکا ہے۔
خلائی دوڑ کا آغاز دوسری جنگِ عظیم کے بعد سرد جنگ کے دور میں ہوا، جب امریکہ اور سوویت یونین ایک دوسرے پر سائنسی اور عسکری برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 4 اکتوبر 1957ء کو سوویت یونین نے دنیا کا پہلا مصنوعی سیارہ Sputnik-1خلا میں بھیجا، جس نے خلائی تحقیق کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس کے جواب میں امریکہ نے اپنے خلائی پروگرام کو وسعت دی، جس کا نقطۂ عروج 1969ء میں Apollo 11 کے ذریعے انسان کا چاند پر قدم رکھنا تھا۔ اگرچہ ان کامیابیوں کو سائنسی ترقی کی علامت قرار دیا گیا، لیکن ان کے پس منظر میں عسکری مفادات بھی موجود تھے، کیونکہ دونوں طاقتیں یہ جان چکی تھیں کہ خلا میں حاصل ہونے والی برتری زمینی جنگوں میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
آج خلا میں موجود ہزاروں سیٹلائٹس صرف ٹیلی ویژن نشریات یا انٹرنیٹ کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ فوجی مواصلات، میزائلوں کی رہنمائی، جاسوسی، موسمی معلومات، سرحدی نگرانی، بحری جہازوں کی رہنمائی اور سائبر دفاع جیسے حساس فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ جدید جنگوں میں اگر کسی ملک کا سیٹلائٹ نظام ناکارہ ہو جائے تو اس کے مواصلاتی رابطے، دفاعی نظام اور انٹیلی جنس صلاحیت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ، چین، روس، بھارت، فرانس، جاپان اور دیگر ممالک اپنے خلائی نظام کو قومی سلامتی کا بنیادی حصہ تصور کرتے ہیں۔
ماہرین اس رجحان کو Silent Militarization of Orbit یعنی “مدار کی خاموش عسکریت کاری”قرار دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے سیٹلائٹس بظاہر سائنسی یا تجارتی مقاصد کے لیے خلا میں بھیجے جاتے ہیں، لیکن ان میں فوجی نگرانی، جاسوسی، میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور حساس معلومات جمع کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔ یہی خاموش عسکریت کاری مستقبل کے ممکنہ تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، کیونکہ ہر نئی خلائی ٹیکنالوجی کے ساتھ دفاعی اور عسکری امکانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
خلا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ایک سبب اس کے معاشی وسائل بھی ہیں۔ آج دنیا کی بڑی نجی کمپنیاں، جن میں SpaceX، Blue Origin اور دیگر ادارے شامل ہیں، چاند اور دوسرے اجرامِ فلکی پر موجود وسائل تک رسائی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ چاند کے قطبی علاقوں میں پانی کی برف موجود ہے، جس سے مستقبل میں ہائیڈروجن اور آکسیجن حاصل کر کے راکٹ ایندھن تیار کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح Helium-3 نامی نایاب عنصر، جسے مستقبل میں نیوکلیائی فیوژن توانائی کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، چاند پر موجود ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کا تجارتی استعمال ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہے۔ اس کے علاوہ نایاب معدنیات (Rare Metals) بھی مستقبل کی خلائی معیشت کے لیے اہم تصور کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلا اب صرف سائنسی نہیں بلکہ Commercial Space اور Strategic Space دونوں حیثیتوں سے اہم بن چکا ہے۔
اگر مستقبل میں کوئی ریاست یا نجی کمپنی ان وسائل پر عملی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرے تو یہ عالمی سیاست میں شدید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر اقوامِ متحدہ کے تحت 1967 کی Outer Space Treaty وجود میں آئی، جو خلائی قانون کی بنیادی دستاویز سمجھی جاتی ہے۔ اس معاہدے کے مطابق خلا، چاند اور دیگر اجرامِ فلکی پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں، اس لیے کوئی بھی ملک ان پر اپنی خودمختاری یا ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس معاہدے نے خلا کو بنیادی طور پر پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر زور دیا، اگرچہ اس میں خلائی وسائل کے تجارتی استعمال کے بارے میں بہت سی قانونی پیچیدگیاں آج بھی موجود ہیں۔
خلائی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ایک اور بڑا مسئلہ Space Debrisیعنی خلائی ملبہ ہے۔ زمین کے گرد ہزاروں غیر فعال سیٹلائٹس، راکٹوں کے ٹکڑے اور دیگر ملبہ انتہائی تیز رفتار سے گردش کر رہے ہیں۔ اگر دو سیٹلائٹس آپس میں ٹکرا جائیں تو ہزاروں نئے ملبے کے ذرات پیدا ہو سکتے ہیں، جو مزید سیٹلائٹس، خلائی اسٹیشنوں اور آئندہ خلائی مشنوں کے لیے شدید خطرہ بن جاتے ہیں۔ ماہرین اسے Physical Danger قرار دیتے ہیں، کیونکہ اگر خلائی ملبے میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو مواصلاتی نظام، GPS، موسم کی پیش گوئی، فضائی سفر، بینکاری، انٹرنیٹ اور عالمی نیویگیشن جیسے بنیادی نظام متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ خلائی ملبہ براہِ راست عام انسانوں کے لیے کم خطرہ بنتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تکنیکی ناکامیاں زمین پر انسانی زندگی، معیشت اور قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اسی لیے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ “Space would remain a shield or become a sword” ، یعنی “خلا یا تو انسانیت کے تحفظ کی ڈھال بنے گا یا پھر جنگ کی تلوار۔”اگر ریاستیں خلائی ٹیکنالوجی کو عالمی تعاون، سائنسی تحقیق اور انسانی فلاح کے لیے استعمال کریں تو خلا پوری دنیا کی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی عسکری غلبے، وسائل پر قبضے اور طاقت کے اظہار کے لیے استعمال ہونے لگی تو مستقبل کی جنگیں زمین کے ساتھ ساتھ خلا میں بھی لڑی جائیں گی۔
آج امریکہ، چین، روس، یورپی ممالک، بھارت اور جاپان خلائی پروگراموں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ امریکہ کی United States Space Force چین کے خلائی پروگرام اور یورپی خلائی ایجنسی کی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ آنے والے عشروں میں خلائی برتری عالمی طاقت کا ایک بنیادی معیار ہوگی۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم مواصلات، جدید سیٹلائٹ نیٹ ورکس اور خودکار خلائی نظام اس مقابلے کو مزید تیز کریں گے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری خلائی قوانین کو مزید مؤثر بنائے، خلائی ملبے کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرے اور خلا کو طاقت کے تصادم کے بجائے بین الاقوامی تعاون کا میدان بنائے۔ بصورتِ دیگر وہ خلا، جسے انسان نے اپنی ترقی کی امید سمجھا تھا، آنے والی نسلوں کے لیے ایک نئے عالمی تنازعے کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
column in urdu Global Race for Military Supremacy in Space




