نقد ونظر بر نظم “اللہ مغفرت کرے”۔۔۔یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!شاعر۔۔۔کامران مغل
“اللہ مغفرت کرے”
احساس کی خوشبو
بکھرے ذروں میں رچی بسی ہوئی ہے
جہاں مجو میاں کی ہنسی
سیتا کے بن باس کی طرح
خاموش جلا وطنی میں بدل گئی ہے
مرتی ہوئی کہانی
مانگی ہوئی عورت کے ہاتھوں میں ہے
جو اپنی آنکھوں میں
رانی کے ہیرا موتی ڈھونڈتی ہے
مگر
رشتوں کی دہلیز پر
سانس توڑ دیتی ہے
خود آزاری نے
خود غرضی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے
اور
نل بائی ماؤتھ خاموشی سے
چوتھی عورت کی چیخ پی جاتا ہے
زخمی پھول
خالی گلدان سے سوال کرتے ہیں کہ
سجو کی واپسی کب ہوگی؟
یا
پیڑ سے بچھڑی شاخ
ہمیشہ کے لیے سوکھ جائے گی
سنگِ گراں یادوں پر رکھا ہے
درد کی
کلاسیفیکیشن ممکن نہیں
کیونکہ بعد دعا کے معلوم ہو
کہ سب زخم ایک ہی دعا مانگتے ہیں
اللہ مغفرت کرے
ان لفظوں کی
جو کہے بغیر مرگئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامران مغل کی نظم “اللہ مغفرت کرے” جدید اردو نظم کی ان تخلیقات میں شمار کی جا سکتی ہے جو قاری کو محض الفاظ کی سطح پر نہیں بلکہ احساس، علامت اور باطنی کرب کی دنیا میں لے جاتی ہیں۔ یہ نظم بظاہر مختلف تصویروں، کرداروں اور استعاروں پر مشتمل محسوس ہوتی ہے لیکن اس کا مرکزی موضوع انسان کے اندر مرتے ہوئے احساسات، ٹوٹتے رشتوں، عورت کے المیے، سماجی بے حسی اور ان کہی اذیتوں کا اظہار ہے۔ شاعر نے کسی ایک واقعے یا کردار کی داستان بیان کرنے کے بجائے زندگی کے منتشر دکھوں کو علامتی انداز میں یکجا کر دیا ہے جس سے نظم ایک وسیع انسانی تجربے کی نمائندہ بن جاتی ہے۔
نظم کا آغاز ہی ایک نہایت مؤثر اور منفرد تصویر سے ہوتا ہے:
“احساس کی خوشبو
بکھرے ذروں میں رچی بسی ہوئی ہے”
یہاں “احساس کی خوشبو” ایک ایسا استعارہ ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانیت اور محبت کے آثار مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ زندگی کے منتشر اور بکھرے ہوئے لمحوں میں اب بھی موجود ہیں۔ شاعر محسوس کراتا ہے کہ اگرچہ زمانہ بے حسی کا شکار ہے مگر احساس کی رمق ابھی باقی ہے۔
اس کے بعد شاعر “جہاں مجو میاں کی ہنسی، سیتا کے بن باس کی طرح خاموش جلا وطنی میں بدل گئی ہے” کہہ کر دو مختلف تہذیبی اور سماجی حوالوں کو ایک ساتھ استعمال کرتا ہے۔ “سیتا کا بن باس” صبر، جدائی اور ناانصافی کی علامت ہے جبکہ “ہنسی” خوشی اور زندگی کی علامت ہے۔ شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ معاشرے سے مسکراہٹ اور بے ساختگی اس طرح رخصت ہو گئی ہے جیسے کسی کو خاموشی سے جلا وطن کر دیا گیا ہو۔ یہ تشبیہ نظم کی فکری گہرائی کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
نظم کا دوسرا حصہ عورت کے وجود اور اس کے مقدر کے گرد گھومتا ہے۔
“مرتی ہوئی کہانی
مانگی ہوئی عورت کے ہاتھوں میں ہے”
یہاں “مانگی ہوئی عورت” محض ایک فرد نہیں بلکہ ان تمام عورتوں کی نمائندہ ہے جن کی اپنی شناخت، اپنی خواہش اور اپنی آزادی دوسروں کی مرضی کے تابع کر دی جاتی ہے۔ شاعر دکھاتا ہے کہ وہ عورت خواب تو دیکھتی ہے، اپنی آنکھوں میں “رانی کے ہیرا موتی” تلاش کرتی ہے مگر حقیقت میں رشتوں کی دہلیز ہی پر اس کی سانس ٹوٹ جاتی ہے۔ اس منظر میں عورت کے خوابوں اور معاشرتی حقیقت کے درمیان موجود خوفناک فاصلے کو نہایت سادگی مگر شدت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
نظم کا اگلا حصہ انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو سامنے لاتا ہے۔
“خود آزاری نے
خود غرضی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے”
یہ شعر انسانی رویوں پر گہرا تبصرہ ہے۔ شاعر کا اشارہ اس طرف ہے کہ بہت سے لوگ بظاہر خود غرض دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے اندر مسلسل خود آزاری، محرومی اور نفسیاتی زخم موجود ہوتے ہیں۔ گویا انسان کا ظاہر اور باطن ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور معاشرہ صرف ظاہری رویے کو دیکھ کر فیصلے کر لیتا ہے۔
اسی تسلسل میں شاعر “چوتھی عورت کی چیخ” کا ذکر کرتا ہے، جو نظم کا سب سے پراسرار اور علامتی استعارہ ہے۔ “چوتھی عورت” کسی ایک عورت کا نام نہیں بلکہ ان تمام آوازوں کی علامت ہے جو کبھی سنائی نہیں دیتیں، جو ظلم سہتی ہیں مگر ان کی فریاد خاموشی نگل جاتی ہے۔ شاعر نے “خاموشی” کو ایک جیتے جاگتے کردار کی صورت میں پیش کیا ہے جو چیخوں کو پی جاتی ہے۔ اس منظر میں معاشرتی بے حسی انتہائی درجے پر دکھائی دیتی ہے۔
نظم کے اگلے حصے میں شاعر امید اور محرومی کے امتزاج کو سامنے لاتا ہے۔
“زخمی پھول
خالی گلدان سے سوال کرتے ہیں”
پھول حسن، محبت اور زندگی کی علامت ہیں جبکہ خالی گلدان ویرانی، جدائی اور انتظار کی علامت بن جاتا ہے۔ “سجو کی واپسی” دراصل کسی ایسے وجود، محبت یا خوشی کی واپسی کا استعارہ معلوم ہوتی ہے جو زندگی سے جدا ہو چکی ہے۔ بعد ازاں “پیڑ سے بچھڑی شاخ” کا ذکر یہ احساس مزید گہرا کر دیتا ہے کہ بعض جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے بعد واپسی ممکن نہیں رہتی۔
نظم کے آخری حصے میں شاعر فلسفیانہ انداز اختیار کرتا ہے۔
“سنگِ گراں یادوں پر رکھا ہے
درد کی کلاسیفیکیشن ممکن نہیں”
یہاں شاعر اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ دکھوں کو خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ہر انسان کا دکھ اپنی جگہ مکمل اور حقیقی ہوتا ہے۔ “کلاسیفیکیشن” جیسے جدید لفظ کا استعمال اس نظم میں ایک دلچسپ فنی تجربہ ہے کیونکہ شاعر روایتی شعری زبان کے ساتھ عصری علمی اصطلاح کو اس طرح جوڑتا ہے کہ معنی میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔
نظم کا اختتام پوری تخلیق کا سب سے مؤثر حصہ ہے:
“اللہ مغفرت کرے
ان لفظوں کی
جو کہے بغیر مر گئے”
یہ تین مصرعے پوری نظم کا نچوڑ ہیں۔ شاعر صرف انسانوں کی نہیں بلکہ ان احساسات، اعترافات، محبتوں، معافیوں اور سچائیوں کی مغفرت کی دعا کرتا ہے جو کبھی زبان تک نہ آ سکے۔ زندگی میں بہت سے رشتے اس لیے ٹوٹ جاتے ہیں کہ لوگ اپنے دل کی بات وقت پر نہیں کہہ پاتے۔ یہی ان کہے لفظ اس نظم کا سب سے بڑا المیہ بن جاتے ہیں۔
فنی اعتبار سے نظم آزاد نظم کی عمدہ مثال ہے۔ اس میں علامت، استعارہ، تشبیہ، پیکر تراشی اور بین المتونی حوالوں کا نہایت متوازن استعمال ہوا ہے۔ شاعر نے براہِ راست وعظ یا جذباتی نعرہ لگانے کے بجائے تصویروں اور علامتوں کے ذریعے اپنے احساسات منتقل کیے ہیں، جس سے قاری کو معنی دریافت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی خصوصیت اس نظم کو محض جذباتی اظہار کے بجائے ایک فکری اور ادبی تخلیق بناتی ہے۔
مجموعی طور پر “اللہ مغفرت کرے” ایک ایسی نظم ہے جو قاری کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس میں عورت کا دکھ بھی ہے، انسان کی تنہائی بھی، رشتوں کی شکستگی بھی، خاموشی کا جبر بھی اور ان لفظوں کا ماتم بھی جو کبھی ادا نہ ہو سکے۔ نظم کی اصل قوت اس کی علامتی زبان، تہہ دار معنی اور دیرپا اثر میں پوشیدہ ہے۔ یہی اوصاف اسے جدید اردو نظم کی قابلِ قدر تخلیقات میں نمایاں مقام عطا کرتے ہیں اور یہی شاعر کا امتیازِ خاص ہے جو انھیں دیگر معاصرین سے الگ کرتا ہے۔




