صنف: کالم نگاری عنوان: ہم کہاں جا رہے ہیں؟ زینب عبدالسلام
رات کو جب میں چھت پر لیٹ کر آسمان دیکھتی ہوں تو دل میں ایک ہی سوال بار آتا ہے۔ ہم کہاں جا رہے ہیں؟
یہ سوال صرف میرا نہیں ہے۔ یہ ہم سب لڑکیوں، سب گھروں، پورے معاشرے کا سوال ہے۔ ہر طرف بھاگ دوڑ ہے۔ یونیورسٹی، جاب، گھر، سوشل میڈیا۔ لیکن سکون کہیں نہیں۔
پہلے زمانے میں لوگوں کے پاس وسائل کم تھے، سہولیات کم تھیں، لیکن زندگی کی سمت واضح تھی۔ استاد کا احترام تھا، بڑوں کی بات مانی جاتی تھی، محنت کو عزت ملتی تھی، اور رشتوں میں خلوص تھا۔ آج ہمارے پاس موبائل ہے، انٹرنیٹ ہے، ڈگریاں ہیں، گاڑیاں ہیں، لیکن دل کا سکون نہیں۔ ہمارے پاس معلومات کا سیلاب ہے لیکن حکمت کا ایک قطرہ نہیں۔
میں اور میری سہیلیاں صبح جلدی اٹھ کر کلاس، پھر کوچنگ، پھر گھر آ کر اسائنمنٹ۔ بیگ بھاری ہے، سر پر ٹینشن اور زیادہ۔ ہمیں سکھایا جا رہا ہے کہ 90% نمبر لے کر آؤ۔ لیکن کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ زندگی کیسے جینی ہے۔ ڈگری مکمل کر کے جب ہم جاب ڈھونڈتی ہیں تو جواب ملتا ہے “تجربہ نہیں ہے”۔ تو تجربہ لائیں کہاں سے؟ ہم کتابیں تو رٹ لیتی ہیں، لیکن سوچنا، سوال کرنا، اپنا راستہ خود بنانا… یہ سب پیچھے رہ گیا۔ ہم نے تعلیم کو صرف روزگار کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ کردار، تحقیق، تخلیق سب پیچھے رہ گئے۔
ہمارے ہاتھ میں دنیا ہے۔ ایک کلک پر سب کچھ۔ یہ اچھی بات ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس آزادی کو تماشا بنا دیا ہے۔ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے نوٹیفیکیشن چیک کرتی ہوں۔ کوئی ٹرینڈ، کوئی ویڈیو، کوئی جھگڑا۔ سچ اور جھوٹ میں فرق مٹ گیا۔ ایک کلک پر ٹرینڈ بنتا ہے، دوسرے کلک پر کردار قتل ہو جاتا ہے۔ ہم 15 سیکنڈ کی ریل دیکھ کر فیصلے کر لیتے ہیں۔ گہرائی سے سوچنے کا حوصلہ ہی نہیں رہا۔ ہم دنیا سے تو جڑ گئیں، لیکن اپنی امی سے، اپنی خالہ سے، اپنے پڑوسی سے بات کرنے کا وقت نہیں نکال پاتیں۔
پہلے عید پر پورا محلہ اکٹھا ہوتا تھا۔ اب ہم ایک ہی گھر میں ہوتے ہوئے بھی اپنے کمرے میں ہیڈفون لگا کر بیٹھی ہیں۔ برداشت ختم ہو گئی ہے۔ اختلاف رائے کو دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے۔ تھوڑی سی بات پر لڑائی۔ “میری رائے ہی صحیح ہے”۔ ہم لائکس اور کمنٹس کے لیے خود کو بدل رہی ہیں۔ فلٹر لگا کر تصویر پوسٹ کرتی ہیں، اور پھر خود اسی فلٹر کی قیدی بن جاتی ہیں۔ ہم لائکس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنوں کو کھو رہے ہیں۔
سب سے پہلے ماننا ہوگا کہ ہم غلط سمت جا رہی ہیں۔ ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔ ترقی کا مطلب صرف بڑی بڑی بلڈنگز اور شاپنگ مال نہیں۔ ترقی کا مطلب ہے کہ ایک استانی عزت سے پڑھا سکے، ایک مریض کو ہسپتال میں دوا مل سکے، ایک کسان اپنی فصل کا صحیح ریٹ لے سکے، جب ایک لڑکی رات کو اکیلی گھر جا سکے اور محفوظ محسوس کرے۔
ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف “اچھی نوکری” کا سبق نہیں دینا، “اچھا انسان” بننے کا سبق بھی دینا ہے۔ جس کو پڑھ کر وہ صرف پیسہ نہ کمائے، بلکہ معاشرے میں فرق لائے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ اپنی نئی نسل کو صرف “کماؤ” نہیں سکھانا، “بنو” بھی سکھانا ہے۔ ایسا انسان بنو جس پر قوم کو ناز ہو۔
ہمیں سوشل میڈیا کو چھوڑنا نہیں، اسے سمجھداری سے استعمال کرنا ہے۔ ہر چیز پر رائے دینا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی خاموش رہ کر سننا بھی بہادری ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر قومی مفاد کو آگے رکھنا ہوگا۔ جب تک ہم ذات، زبان، فرقے میں الجھے رہیں گے، قافلہ آگے نہیں بڑھے گا۔
ہم کہاں جا رہے ہیں؟ اس کا جواب مستقبل میں نہیں، آج کے ہمارے فیصلوں میں ہے۔ اس کا جواب کسی وزیر یا کسی لیڈر کے پاس نہیں۔ اس کا جواب میرے، آپ کے، ہم سب کے آج کے فیصلے میں ہے۔
اگر میں آج بھی صرف شکایت کرتی رہی، اور خود کچھ نہ کیا، اور صرف دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتی رہی تو 10 سال بعد بھی یہی سوال پوچھوں گی۔
لیکن اگر میں آج سے اپنی پڑھائی میں ایمانداری لے آؤں، اپنے گھر والوں کا احترام کروں، چھوٹے سے چھوٹے کام کو بھی ذمہ داری سے کروں، اور خود احتسابی شروع کر دوں… تو شاید 10 سال بعد ہم فخر سے کہہ سکیں: “ہاں، ہم بہتری کی طرف جا رہی ہیں”۔
سفر کا تعین منزل سے نہیں، پہلے قدم سے ہوتا ہے۔ اور وہ پہلا قدم آج اٹھانا ہے۔
صنف: مزاح نگاری عنوان: ” نجی اسکول کی استانی” سیدہ ثمرہ فاطمہ
ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز ” علی جعفر
ناہید اختر: خاموشی میں لپٹی ہوئی ایک لازوال داستان.سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
column in urdu Where Are We Going




