column in urdu nahid-akhtar-timeless-story-silence

ناہید اختر: خاموشی میں لپٹی ہوئی ایک لازوال داستان.سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
کچھ آوازیں صرف سنی نہیں جاتیں، وقت کی دیواروں پر ثبت ہو جاتی ہیں۔ برسوں بعد بھی جب وہ کہیں سنائی دیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی اچانک پیچھے مڑ گئی ہو۔ ریڈیو کے سنہری دن، بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی وژن، شام کے پروگرام، گھر کے ڈرائنگ روم میں بچھی دری، چائے کی پیالی، اور پورے خاندان کا ایک اسکرین کے گرد جمع ہو جانا… ٹیلی وژن کی تاریخ میں کئی روشن نام ہیں، مگر چند فنکار ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف کامیاب نہیں بلکہ ایک عہد کی علامت کہا جاتا ہے۔ ناہید اختر انہی میں سے ایک ہیں۔ ان کا ذکر کیے بغیر نہ پی ٹی وی کی موسیقی ہوگا کہ یہی آواز آنے والے برسوں میں لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن جائے گی۔ پھر وقت نے رنگ بدلے، ٹیلی وژن رنگین ہوا، اور اسی اسکرین پر نقرئی ساڑھی میں تمام یادوں کے پس منظر میں اگر کوئی آواز مسلسل سنائی دیتی ہے تو وہ ناہید اختر کی ہے۔

پاکستان ٹیلی وژن کی تاریخ میں کئی روشن نام ہیں، مگر چند فنکار ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف کامیاب نہیں بلکہ ایک عہد کی علامت کہا جاتا ہے۔ ناہید اختر انہی میں سے ایک ہیں۔ ان کا ذکر کیے بغیر نہ پی ٹی وی کی موسیقی مکمل ہوتی ہے، نہ پاکستانی فلمی گائیکی کی تاریخ۔

ملتان کی ایک دبلی پتلی، شرمیلی سی لڑکی جب پہلی مرتبہ بلیک اینڈ وائٹ اسکرین پر پنجابی گیت “مینوں سوڈا واٹر لے دے وے” گاتی نظر آئی تو شاید کسی نے اندازہ نہیں کیا ہوگا کہ یہی آواز آنے والے برسوں میں لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن جائے گی۔ پھر وقت نے رنگ بدلے، ٹیلی وژن رنگین ہوا، اور اسی اسکرین پر نقرئی ساڑھی میں ملبوس ناہید اختر نے جب “چھاپ تلک سب چھین لی” گایا تو محسوس ہوا کہ ایک فنکار اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔

1970 سے 1986 تک کا زمانہ ناہید اختر کی آواز کے نام رہا۔ ان برسوں میں شاید ہی کوئی ایسا موسیقی کا شائق ہو جس نے انہیں نہ سنا ہو۔ ان کے چاہنے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے، کیونکہ ان کی آواز میں صرف مٹھاس نہیں تھی، زندگی تھی۔ ایک عجیب سی کھنک، ایک بے ساختہ شوخی اور ایک ایسی تازگی جو گیت ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک سماعت میں باقی رہتی تھی۔

بعض آوازیں صرف مخصوص صنف کے لیے موزوں ہوتی ہیں، لیکن ناہید اختر ان خوش نصیب فنکاروں میں تھیں جنہوں نے ہر رنگ کو اپنی شناخت بنا لیا۔ پنجابی لوک گیت ہوں، فلمی نغمے، غیر فلمی گیت، غزلیں، قومی نغمے یا صوفیانہ کلام، ہر جگہ ان کا لہجہ الگ اور منفرد دکھائی دیتا ہے۔

ابنِ انشا کی نظم “آتی ہے پون، جاتی ہے پون” سنیں تو واقعی ہوا کی مہک محسوس ہونے لگتی ہے۔ “گجرے مہکے بالوں میں” میں نوجوان دل کی شرارت بولتی ہے، جبکہ ادا جعفری کی “دو نین کنول” میں ایسا سکون اور ایسی لطافت ہے کہ الفاظ خوابوں میں ڈھلتے محسوس ہوتے ہیں۔ یہی ایک بڑے فنکار کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ اپنی آواز کو ہر کیفیت کا لباس پہنا دے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عوام نے انہیں پہلے ٹیلی وژن پر دیکھا، لیکن ان کا اصل آغاز فلمی دنیا سے ہوا تھا۔ فلم شمع کے لیے ریکارڈ کیے گئے ابتدائی گیت سن کر یقین نہیں آتا کہ یہ ایک نوآموز گلوکارہ کی آواز ہے۔ اس کے بعد تو کامیابیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا۔ “تجھے پیار کرتے کرتے میری عمر بیت جائے”، “گرم گلابی شام ہے”، “بجلی بھری ہے مرے انگ انگ میں”، “یہ دنیا رہے نہ رہے مرے ہمدم” اور درجنوں دوسرے نغمے آج بھی اسی تازگی کے ساتھ زندہ ہیں۔

میری نسل شاید خوش قسمت تھی کہ اس نے یہ گیت ریڈیو پر بار بار سنے۔ اس زمانے میں موسیقی صرف کانوں تک نہیں بلکہ گھروں کی فضا میں گھل جاتی تھی۔ بعض نغمے اتنی مرتبہ سنے کہ آج بھی بے اختیار لبوں پر آ جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے اچھی موسیقی کبھی پرانی نہیں ہوتی، صرف سننے والے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔

غزل گائیکی میں بھی ناہید اختر نے کسی کا سایہ قبول نہیں کیا۔ اس دور میں نور جہاں، فریدہ خانم، نیرہ نور، مہناز اور دوسری بڑی آوازیں موجود تھیں، مگر ناہید اختر نے اپنی الگ راہ بنائی۔ غالب ہوں یا منیر نیازی، شان الحق حقی ہوں یا دوسرے شعرا، انہوں نے ہر شاعر کے احساس کو اپنی مخصوص آواز میں نئی زندگی دی۔

پھر صوفیانہ کلام آیا، اور “چھاپ تلک سب چھین لی” ان کی شناخت بن گیا۔ اس کلام کو بعد میں کئی آوازوں نے گایا، مگر جب بھی اس کا ذکر ہوتا ہے، ذہن سب سے پہلے ناہید اختر ہی کی طرف جاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ بعض فنکار کسی تخلیق کو صرف گاتے نہیں، اس میں ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔

ان کی شخصیت بھی ان کی آواز کی طرح بے حد سادہ تھی۔ نہ غیر ضروری نمائش، نہ شہرت کا شور۔ ہمیشہ نفیس مگر سادہ ساڑھی، کانوں میں چمکتے ہوئے آویزے اور چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ۔ وہ اس نسل کی فنکارہ تھیں جو اپنی پہچان فن سے بناتی تھی، تشہیر سے نہیں۔

پھر اچانک ایک دن سب کچھ خاموش ہو گیا۔ 1986 میں ناہید اختر نے گلوکاری چھوڑ دی۔ اس فیصلے نے مداحوں کو حیران کیا، افواہوں کو جنم دیا، مگر انہوں نے کبھی صفائی دینا ضروری نہیں سمجھا۔ کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے آصف علی پوتا سے شادی کر لی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے جس وقار سے اپنی گھریلو زندگی کو ترجیح دی، وہ بھی ان کی شخصیت کا اتنا ہی خوبصورت پہلو ہے جتنا ان کا فن۔

شوبز کی دنیا میں تعلقات اکثر خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں، لیکن ناہید اختر نے اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ خبروں سے دور رکھا۔ انہوں نے اپنی شہرت کو گھر کی دہلیز سے باہر ہی چھوڑ دیا۔ شاید اسی لیے ان کی خاموشی بھی لوگوں کے لیے ہمیشہ ایک معمہ بنی رہی۔

برسوں بعد جب وہ لکس اسٹائل ایوارڈز میں نظر آئیں تو پورا ہال احترام میں کھڑا ہو گیا۔ اس لمحے احساس ہوا کہ اصل اعزاز ایوارڈ نہیں بلکہ وہ محبت ہے جو ایک فنکار اپنے سامعین کے دلوں میں چھوڑ جاتا ہے۔ اس روز اسٹیج پر ناہید اختر موجود تھیں، مگر درحقیقت وہاں ایک پورا سنہرا عہد کھڑا تھا۔

آج موسیقی کے انداز بدل چکے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے آوازوں کو بے شمار سہولتیں دے دی ہیں، مگر وہ تاثیر، وہ معصومیت اور وہ سچائی کم کم سنائی دیتی ہے جو ناہید اختر کی آواز میں تھی۔ انہوں نے تقریباً چھ سو اردو اور پنجابی نغمے گائے، بے شمار اعزازات حاصل کیے، لیکن ان کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ ہے کہ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ان کی آواز سن کر دل میں ایک انجانی سی خوشی اتر آتی ہے۔

کچھ لوگ شہرت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، کچھ شہرت کو بدل دیتے ہیں۔ ناہید اختر نے ان دونوں راستوں میں سے کوئی راستہ اختیار نہیں کیا۔ وہ خاموشی سے آئیں، اپنے فن سے ایک پورا عہد روشن کیا، اور پھر اسی خاموشی سے پس منظر میں چلی گئیں۔ مگر ان کی آواز آج بھی ہمارے اجتماعی حافظے میں ویسے ہی زندہ ہے جیسے کسی پرانی الماری میں محفوظ خوشبو، جو ہر بار دروازہ کھلنے پر ماضی کو حال بنا دیتی ہے۔

شاید اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ ناہید اختر صرف ایک گلوکارہ نہیں، پاکستانی موسیقی کی وہ بازگشت ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود مدھم نہیں پڑی۔

column in urdu nahid-akhtar-timeless-story-silence

50% LikesVS
50% Dislikes

ناہید اختر: خاموشی میں لپٹی ہوئی ایک لازوال داستان.سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں