عابدِ بیمار یا عابدِ مجاہد. سید مظاہر حسین کاظمی
تاریخِ اسلام میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت کو صرف ایک واقعے یا ایک پہلو تک محدود کر دیا گیا، حالانکہ ان کی پوری زندگی علم، تقویٰ، قربانی، صبر اور جہاد سے عبارت تھی حضرت امام زین العابدینؑ، امام حسینؑ کے فرزند اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کے چوتھے امام، بھی انہی عظیم ہستیوں میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے عوامی سطح پر آپؑ کی شخصیت کو زیادہ تر “عابدِ بیمار” کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے، جبکہ اگر آپؑ کی پوری حیاتِ مبارکہ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ آپؑ کی اصل شناخت بیماری نہیں بلکہ عبادت، علم، استقامت اور باطل کے خلاف مسلسل جدوجہد ہے۔ اس لیے یہ سوال نہایت اہم ہے کہ امام زین العابدینؑ کو “عابدِ بیمار” کہا جائے یا “عابدِ مجاہد واقعۂ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ باب ہے جس نے حق اور باطل کے درمیان ہمیشہ کے لیے ایک واضح لکیر کھینچ دی۔امام حسینؑ نے اپنے بہتر جانثاروں کے ساتھ ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔ اسی قافلے میں امام زین العابدینؑ بھی موجود تھے، مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت آپؑ شدید علالت میں مبتلا تھے۔ یہی بیماری سبب بنی کہ آپؑ میدانِ جنگ میں شریک نہ ہوئے۔ یہ بیماری چند دنوں کی تھی، لیکن اسی مختصر علالت نے امامت کے سلسلے کو محفوظ رکھا تاکہ کربلا کے بعد حق کا پیغام دنیا تک پہنچ سکے۔یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اگر امام زین العابدینؑ بھی میدانِ کربلا میں شہید ہو جاتے تو اہلِ بیتؑ کی امامت کا سلسلہ منقطع ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو زندہ رکھا تاکہ کربلا کا پیغام محفوظ رہے، یزید کے ظلم کا چہرہ بے نقاب ہو اور آنے والی نسلوں تک امام حسینؑ کی قربانی کا مقصد صحیح صورت میں منتقل ہو۔کربلا کے بعد امام زین العابدینؑ کی زندگی کا ہر لمحہ ایک عظیم جہاد تھا۔ یہ جہاد تلوار کا نہیں بلکہ کردار، علم، دعا، صبر اور حکمت کا جہاد تھا۔ کوفہ کے بازار ہوں یا شام کا دربار، ہر جگہ آپؑ نے نہایت جرات کے ساتھ حق کا پرچم بلند رکھا۔ اسیری کی حالت میں بھی آپؑ نے کبھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔یزید کے دربار میں جب اہلِ بیتؑ کو قیدی بنا کر پیش کیا گیا تو امام زین العابدینؑ نے ایسا خطبہ ارشاد فرمایا جس نے دربار کا ماحول بدل دیا۔ آپؑ نے اپنے نسب، اہلِ بیتؑ کے مقام اور یزید کے ظلم کو اس انداز میں بیان کیا کہ لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ یہ خطبہ تاریخ کا ایک عظیم سیاسی، فکری اور انقلابی اعلان تھا۔ ایک بیمار نوجوان کی زبان سے ادا ہونے والے یہ الفاظ دراصل ظلم کے ایوانوں کے خلاف اعلانِ بغاوت تھے۔مدینہ واپسی کے بعد آپؑ نے محسوس کیا کہ امت صرف سیاسی ظلم ہی کا شکار نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور روحانی زوال کا بھی شکار ہو چکی ہے۔ چنانچہ آپؑ نے اصلاحِ امت کا ایک منفرد راستہ اختیار کیا۔ آپؑ نے دعاؤں کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو خدا کی طرف متوجہ کیا، عبادت کے ذریعے انسان کو بندگی کا شعور دیا اور اخلاق کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کی۔آپؑ کی شہرۂ آفاق کتاب صحیفۂ سجادیہ کو “آلِ محمدؐ کی زبور” کہا جاتا ہے۔ یہ صرف دعاؤں کا مجموعہ نہیں بلکہ توحید، نبوت، اخلاق، عدل، معاشرت، تربیت اور انسانی زندگی کے ہر پہلو پر مشتمل ایک عظیم علمی سرمایہ ہے۔ اسی طرح رسالۃ الحقوق انسانی حقوق کا ایسا جامع منشور ہے جس میں انسان کے اپنے نفس، والدین، اولاد، پڑوسی، استاد، شاگرد، حکمران، رعایا اور حتیٰ کہ دشمن تک کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ آج جب دنیا انسانی حقوق کے چارٹر پر فخر کرتی ہے، امام زین العابدینؑ نے چودہ صدیاں پہلے اس کا عملی نمونہ پیش کر دیا تھا۔امام زین العابدینؑ کی عبادت بھی بے مثال تھی۔ آپؑ راتوں کو قیام فرماتے، دن میں روزے رکھتے، یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی خاموشی سے مدد کرتے۔ مدینہ کے بہت سے غریب خاندانوں کو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ رات کی تاریکی میں ان کے دروازوں پر آٹا اور کھجور رکھنے والا کون ہے۔ جب امامؑ کی شہادت ہوئی تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ برسوں سے ان کی کفالت کرنے والی ذات امام زین العابدینؑ کی تھی۔ یہی حقیقی عبادت اور حقیقی جہاد ہے کہ انسان اپنی ذات سے بڑھ کر معاشرے کی فکر کرے۔آپؑ نے غلاموں کو خرید کر تعلیم دی، ان کی تربیت کی اور پھر انہیں آزاد کر دیا۔ اس عمل کے ذریعے آپؑ نے اسلامی معاشرے میں انسانی مساوات، عزتِ نفس اور آزادی کا عملی درس دیا۔ آپؑ نے ظلم، جبر، طبقاتی تقسیم اور اخلاقی انحطاط کے خلاف خاموش مگر انتہائی مؤثر انقلاب برپا کیا۔اگر جہاد کا مطلب صرف تلوار اٹھانا ہوتا تو امام زین العابدینؑ کو شاید مجاہد نہ کہا جاتا، لیکن اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ حق کے لیے ہر جائز میدان میں جدوجہد کرنا جہاد ہے۔ کبھی میدانِ جنگ میں تلوار اٹھانا جہاد ہوتا ہے، کبھی قلم کے ذریعے باطل کو شکست دینا جہاد ہوتا ہے، کبھی دعا کے ذریعے ایمان کو زندہ رکھنا جہاد ہوتا ہے اور کبھی صبر کے ذریعے ظلم کو شکست دینا جہاد ہوتا ہے۔ امام زین العابدینؑ نے ان تمام میدانوں میں کامیابی حاصل کی۔یہ بھی افسوس ناک حقیقت ہے کہ بعض اوقات ہم امامؑ کی شخصیت کو صرف بیماری تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ بیماری آپؑ کی مجبوری تھی، شناخت نہیں۔ اگر کسی شخصیت کی پوری زندگی میں صرف چند دن کی بیماری کو اس کی پہچان بنا دیا جائے تو یہ اس کی عظمت کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ امام زین العابدینؑ کی اصل پہچان ان کے القابات زین العابدین، سید الساجدین اور سجاد ہیں، جو ان کی عبادت، تقویٰ اور خدا سے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ان کی پوری عملی زندگی انہیں ایک عظیم مجاہد، معلم، مصلح اور رہبر ثابت کرتی ہے۔آج کے دور میں بھی ہمیں امام زین العابدینؑ کی زندگی سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر معاشرے میں ظلم ہو تو خاموش رہنے کے بجائے حکمت کے ساتھ حق کی آواز بلند کی جائے۔ اگر اخلاقی زوال ہو تو کردار سے اس کا مقابلہ کیا جائے۔ اگر دین پر حملے ہوں تو علم اور دلیل کے ذریعے اس کا دفاع کیا جائے۔ اگر محروم طبقہ مشکلات میں ہو تو اس کی خدمت کی جائے۔ یہی امام سجادؑ کا پیغام ہے، یہی ان کا جہاد ہے اور یہی ان کی حقیقی شناخت ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت امام زین العابدینؑ کو صرف “عابدِ بیمار” کہنا ان کی عظیم شخصیت کا مکمل تعارف نہیں۔ آپؑ یقیناً کربلا میں چند دن بیمار رہے، مگر اس کے بعد پوری زندگی اسلام، انسانیت اور حق کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ اسی لیے زیادہ درست، جامع اور منصفانہ تعبیر یہ ہے کہ آپؑ “عابدِ مجاہد” تھے؛ ایسے مجاہد جنہوں نے تلوار کے بغیر ایک عظیم انقلاب برپا کیا، جنہوں نے دعا کو ہتھیار، صبر کو قوت، علم کو روشنی اور کردار کو اپنی فتح بنایا۔سلام ہو اس عابدِ مجاہد پر، جس نے سجدوں میں انقلاب پیدا کیا، دعاؤں میں امت کی تربیت کی، صبر سے ظلم کو شکست دی اور کربلا کے پیغام کو رہتی دنیا تک زندہ کر دیا۔
column in urdu Sick Devotee or the Devoted Warrior




