column in urdu Growing Drug Addiction Among Young People

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا نشے کا رجحان اور ہماری ذمہ داریاں . یاسر دانیال صابری
ہمارے معاشرے میں ایک چیز کو عام زندگی میں شامل کیا گیا ہے جس میں روٹین کے مطابق نستوار اور سگریٹ استعمال کرتے ہیں ،یہ بنیادی چیزیں ہیں جن کو نظر انداز کرنے سے کسی بڑے نشے کی لت میں انسان مبتلا ہو سکتا ہے ۔اسطرح نشہ آور اشیاء کا بڑھتا ہوا استعمال آج ہمارے معاشرے کے لیے ایک سنگین سماجی، تعلیمی اور صحت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس لعنت کی لپیٹ میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی تیزی سے آ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جو نوجوانوں کو نشے کی طرف لے جاتی ہیں؟
اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ سماجی دباؤ (Peer Pressure) ہے۔ نوجوان اکثر ایسے دوستوں اور محفلوں میں شامل ہو جاتے ہیں جہاں سگریٹ، ویپ یا دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال عام ہوتا ہے۔ دوستوں کی باتوں اور مقبول نظر آنے کی خواہش میں وہ بھی اس خطرناک راستے پر چل پڑتے ہیں۔
دوسری اہم وجہ گھر کے ماحول کا اثر ہے۔ اگر خاندان کا کوئی فرد سگریٹ نوشی یا دیگر نشہ آور اشیاء استعمال کرتا ہو تو نوجوان اسے ایک معمول کی بات سمجھنے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ خود بھی اس عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
تعلیمی دباؤ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ امتحانات، اچھے نمبروں کی دوڑ اور مستقبل کی فکر بعض نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ کچھ طلبہ وقتی سکون کے لیے سگریٹ یا دیگر نشہ آور اشیاء کا سہارا لیتے ہیں، مگر یہی وقتی سہارا بعد میں مستقل لت بن جاتا ہے۔
اسی طرح ذہنی صحت کے مسائل، جیسے اضطراب، ڈپریشن، تنہائی اور احساسِ محرومی بھی نوجوانوں کو نشے کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ ایسے نوجوان اکثر اپنی پریشانیوں سے فرار حاصل کرنے کے لیے غلط راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔
نوجوانی کا دور تجسس اور نئی چیزیں آزمانے کا دور ہوتا ہے۔ بعض نوجوان صرف یہ جاننے کے لیے کہ نشہ کیسا محسوس ہوتا ہے، پہلی بار اسے استعمال کرتے ہیں، لیکن یہی ایک تجربہ بعد میں ان کی زندگی کو تباہ کر سکتا ہے۔
میڈیا، فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر بعض اوقات سگریٹ نوشی یا دیگر نشہ آور اشیاء کو ایک فیشن یا جدید طرزِ زندگی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس سے نوجوان متاثر ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض ذرائع ابلاغ میں نشہ آور مصنوعات کی براہِ راست یا بالواسطہ تشہیر بھی اس رجحان کو بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہے۔
والدین کی عدم توجہ، گھر میں مناسب نگرانی کا فقدان، آسانی سے جیب خرچ کا مل جانا، غربت، بے روزگاری، معاشرتی مسائل، صحت مند تفریحی سرگرمیوں کی کمی، کھیلوں سے دوری اور مثبت مصروفیات کا نہ ہونا بھی نوجوانوں کو غلط صحبت اور نشے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، علماء، میڈیا، سماجی تنظیموں اور حکومت سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں نشے کے نقصانات سے متعلق آگاہی پروگرام، کونسلنگ، کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کا فروغ، والدین کی مؤثر نگرانی اور نوجوانوں کے لیے صحت مند ماحول کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اگر آج ہم نے اپنی نوجوان نسل کو اس خطرناک لعنت سے محفوظ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں ہمیں ایک صحت مند، باصلاحیت اور ذمہ دار نسل کے بجائے نشے، مایوسی اور سماجی مسائل میں الجھی ہوئی نسل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو محفوظ مستقبل فراہم کرے، کیونکہ یہی نوجوان ہمارے ملک کا حقیقی سرمایہ اور روشن مستقبل ہیں
حکومت پاکستان کو چاہیے ایسے اڈوں کو ختم کریں جہاں نشہ آور چیزیں چرس وغیرہ بکتی ہو افسوس ہمارے ادارے کہاں سو گئے ہیں ۔متعلقہ ادارے کی خاموش افسوس ناک ہے۔۔
قوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم (UNODC) اور حکومتِ پاکستان کے قومی سروے میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں 15 سے 64 سال کی عمر کے تقریباً 5.8 فیصد افراد، یعنی تقریباً 67 لاکھ لوگ، کسی نہ کسی قسم کی منشیات استعمال کرتے تھے، جبکہ ان میں سے تقریباً 43 لاکھ افراد ایسے تھے جنہیں علاج کی ضرورت تھی۔
اسطرح ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025 کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں تقریباً 31 کروڑ 60 لاکھ (316 ملین) افراد، یعنی 15 سے 64 سال کی عالمی آبادی کا تقریباً 6 فیصد، کسی نہ کسی قسم کی غیر قانونی منشیات استعمال کر رہے تھے۔ ان میں سے تقریباً 6 کروڑ 40 لاکھ (64 ملین) افراد منشیات کی لت (Drug Use Disorder) کا شکار تھے۔
اس کے بعد جاری ہونے والی ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2026 میں بتایا گیا کہ 2024 کے دوران منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 33 کروڑ 10 لاکھ (331 ملین) ہو گئی، جو دنیا کی 15 سے 64 سال کی آبادی کا تقریباً 6.2 فیصد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اب تک کی بلند ترین سطح ہے اور خاص طور پر مصنوعی (Synthetic) منشیات کے پھیلاؤ نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پوری دنیا سمیت پاکستان میں یہ نشہ اضافہ ہوا ہے لیکن کم نہیں ہوا ہے اسطرح گلگت بلتستان سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں سگریٹ اور نسوار تو عام زندگی کا حصہ ہے لیکن ان کے ساتھ چرس جیسی نشہ آور چیزیں بھی استعمال کرتے ہیں۔بہت سے لوگ نشے کی حالت میں گاڑیاں وغیرہ چلاتے اور حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہ محلہ وائز ایک مہم شروع کریں سگریٹ کو مٹاؤ معاشرہ بچاؤ تحریک کا آغاز کریں ۔اے سی اور ڈی سی کو بھی ایسے اقدامات کا بھرپور ساتھ دینا چاہے جوانوں تبدیلی ہم سے آتی ہے ۔وسلام

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu Growing Drug Addiction Among Young People

50% LikesVS
50% Dislikes

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا نشے کا رجحان اور ہماری ذمہ داریاں . یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں