سیلاب کی صورتحال اور حفاظتی اقدامات. آمینہ یونس ،بلتستانی
سیلاب ایک قدرتی آفت ہے۔ اس کا آنا یا نہ آنا انسان کے اختیار میں نہیں، البتہ اس سے ہونے والے نقصانات میں انسانی غفلت ضرور شامل ہو سکتی ہے۔ بارش بذات خود آبِ حیات ہے۔ اسی کے باعث فصلیں لہلہاتی ہیں، کھیت آباد ہوتے ہیں اور انسانوں کو رزق میسر آتا ہے۔ صحراؤں، پہاڑوں اور بنجر زمینوں کے لیے بھی بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، کیونکہ بارش سے خشک زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔ جن لوگوں کا گزر بسر مال مویشیوں پر ہے، ان کے لیے بھی بارش بے حد اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ جنگلی گھاس اور چارہ اسی سے اُگتا ہے، جبکہ چرند و پرند بھی اسی نعمت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کے ذخائر بھی بارش ہی سے بھر جاتے ہیں، جس سے انسانوں، جانوروں اور زراعت کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ اس لیے بارش کو اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہی بارش جب معمول سے کہیں زیادہ ہو جائے اور مسلسل برستی رہے تو یہی نعمت زحمت میں بدل جاتی ہے۔ سیلاب کی صورت میں گھر بار، فصلیں، باغات، مال مویشی، سڑکیں، پل، تعلیمی ادارے اور دیگر بنیادی سہولیات شدید متاثر ہوتی ہیں۔ بعض اوقات قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں لوگوں کی زندگی معمول پر آنے میں کئی ماہ بلکہ کئی سال لگ جاتے ہیں۔ حفاظتی اقدامات سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا سارا بوجھ نہ صرف حکومت پر ڈالنا مناسب ہے اور نہ ہی صرف عوام کو قصوروار ٹھہرانا درست ہے۔ اس معاملے میں کہیں ایک فریق اور کہیں دونوں اپنی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ قدرت نے جہاں انسان کو رزق کے ذرائع عطا کیے ہیں، وہیں آبی گزرگاہیں، ندی نالے اور دریا بھی ایک مقصد کے تحت بنائے ہیں۔ اگر ان قدرتی راستوں پر تجاوزات نہ کی جائیں اور انہیں کھلا رکھا جائے تو سیلاب کے پانی کی روانی برقرار رہتی ہے اور نقصان بہت حد تک کم ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض لوگ بغیر تحقیق کے ندی نالوں، دریا کے کناروں یا آبی گزرگاہوں کے قریب گھر تعمیر کر لیتے ہیں یا زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ “ہم نے ہوش سنبھالا ہے، یہاں کبھی پانی نہیں آیا”، حقیقت کو نہیں بدلتا۔ جب غیر معمولی بارش ہوتی ہے تو یہی علاقے سب سے پہلے سیلاب کی زد میں آتے ہیں اور پھر جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے عوام کو بھی چاہیے کہ تعمیرات سے پہلے متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور خطرناک مقامات پر آباد ہونے سے گریز کریں۔ حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر قانونی تجاوزات کا بروقت خاتمہ کرے، آبی گزرگاہوں کی صفائی کو یقینی بنائے، نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنائے اور کمزور بندوں اور حفاظتی دیواروں کی بروقت مرمت کرے۔ جہاں ضرورت ہو وہاں نئے حفاظتی بند، پشتے اور مضبوط پل تعمیر کیے جائیں تاکہ بارش اور سیلاب کی صورت میں نقصانات کم سے کم ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ موسم کی پیش گوئی کے جدید نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ لوگوں کو بروقت آگاہ کیا جا سکے۔ ہنگامی امدادی ٹیمیں، مشینری، کشتیاں، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان پہلے سے تیار رکھا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔ جس طرح پرانے زمانوں میں بادشاہ دشمن کے حملے کے خدشے کے پیشِ نظر قلعوں اور کمزور حصوں کو پہلے سے مضبوط کرتے تھے، اسی طرح حکومت کو بھی ایسے علاقوں کی نشاندہی کرنی چاہیے جہاں ہر سال سیلاب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اور وہاں خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بروقت منصوبہ بندی اور احتیاطی تدابیر سے جانی و مالی نقصان کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ سیلاب سے ہونے والا نقصان صرف متاثرہ خاندان یا علاقے کا نہیں ہوتا بلکہ پورا ملک اس کے اثرات برداشت کرتا ہے۔ حکومت کو بحالی کے لیے بھاری اخراجات کرنے پڑتے ہیں، معیشت متاثر ہوتی ہے اور ترقیاتی منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعد میں امدادی رقوم کا اعلان کرنا اور متاثرین تک امداد پہنچانا یقیناً ضروری ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ پہلے سے منصوبہ بندی کی جائے تاکہ ایسی نوبت ہی نہ آئے۔ آج ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث پل گر رہے ہیں، سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں، زمینیں کٹ رہی ہیں اور گھروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر حکومت اور عوام دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں تجاوزات سے گریز کریں اور پہلے سے جامع لائحۂ عمل تیار رکھیں تو نہ صرف افراتفری سے بچا جا سکتا ہے بلکہ جانی و مالی نقصان بھی بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ احتیاط، منصوبہ بندی اور باہمی تعاون ہی سیلاب جیسے قدرتی خطرات سے محفوظ رہنے کا بہترین راستہ ہے۔
شگر ایبروزی ہائر سیکنڈری اسکول شگر نے میٹرک امتحانات میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی
گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تبدیلی اسباب اثرات اور ممکنہ تدارک . اعجاز شگری
column in urdu Flood Situation and Preventive Safety Measures




