بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: مالی امداد یا خواتین کی تذلیل. سید مظاہر حسین کاظمی
پاکستان میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی ایسے مسائل ہیں جنہوں نے لاکھوں خاندانوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کی مالی معاونت کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اسی مقصد کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کا آغاز کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی سہارا فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔اگرچہ اس پروگرام سے لاکھوں خاندان مستفید ہوئے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ اس پر کئی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی مستحق خواتین کی مدد کا مؤثر ذریعہ ہے، یا اس کے نفاذ کے بعض طریقۂ کار خواتین کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں؟بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ایسے بے شمار خاندانوں کو سہارا دیا ہے جن کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل تھا۔ اس مالی امداد سے کئی خواتین نے اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ اخراجات پورے کیے۔ قدرتی آفات، معاشی بحران اور مہنگائی کے دوران بھی یہ پروگرام کئی خاندانوں کے لیے امید کی ایک کرن ثابت ہوا۔دوسری طرف، اس پروگرام سے وابستہ بعض مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔ متعدد مقامات پر خواتین کو طویل قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ شدید گرمی، سردی یا بارش میں کھلے میدانوں میں انتظار کرنا ان کے لیے جسمانی اور ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔ بعض مراکز پر رش، بدنظمی، ناکافی سہولیات اور غیر مناسب رویے کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو امداد حاصل کرنے کے لیے کئی کئی کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا خرچ بعض اوقات ملنے والی رقم کا ایک قابلِ ذکر حصہ کھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض جگہوں پر غیر قانونی کٹوتیوں، ایجنٹ مافیا یا بدانتظامی کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں، جن سے مستحق افراد مزید مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر امداد لینے کا طریقہ کسی خاتون کی عزتِ نفس کو مجروح کرے، تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ کسی بھی فلاحی پروگرام کا مقصد صرف مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ مستحق افراد کی عزت، سہولت اور وقار کا تحفظ بھی ہونا چاہیے۔اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ خود بینظیر انکم سپورٹ پروگرام خواتین کی تذلیل کے لیے بنایا گیا ہے۔ پروگرام کا بنیادی مقصد معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے، البتہ اگر کہیں بدانتظامی، غیر مناسب رویہ یا ناقص انتظامات موجود ہیں تو ان کی اصلاح ضروری ہے۔ مسئلہ اکثر پروگرام کے مقصد سے زیادہ اس کے نفاذ اور انتظامی کمزوریوں میں نظر آتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ادائیگی کا نظام مزید شفاف، آسان اور باوقار بنایا جائے۔ مراکز پر سایہ، بیٹھنے کی مناسب جگہ، پینے کے صاف پانی، خواتین کے لیے الگ سہولیات، بزرگ اور معذور افراد کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔ غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف سخت کارروائی ہو، شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے، اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے محفوظ ذرائع کو فروغ دیا جائے تاکہ خواتین کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مزید برآں، صرف مالی امداد کافی نہیں۔ حکومت کو ہنر مندی، چھوٹے کاروبار، بلاسود یا آسان قرضوں، اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ مستحق خاندان مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ فلاحی ریاست کا مقصد لوگوں کو ہمیشہ امداد پر منحصر رکھنا نہیں بلکہ انہیں خود کفیل بنانا ہوتا ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لاکھوں غریب خاندانوں کے لیے اہم سہارا ہے، لیکن اس کے نفاذ میں موجود خامیوں کو دور کرنا ناگزیر ہے۔ اگر امداد عزت، شفافیت اور آسانی کے ساتھ فراہم کی جائے تو یہ حقیقی معنوں میں معاشرتی تحفظ کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم اگر مستحق خواتین کو گھنٹوں انتظار، غیر مناسب رویوں یا انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو ان مسائل کی اصلاح ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ ایک باوقار فلاحی نظام وہی ہے جو مالی امداد کے ساتھ انسانی وقار، انصاف اور سہولت کو بھی یقینی بنائے۔
column in urdu Benazir Income Support Programme




