جادو ٹونا: خوف، فریب اور حقیقت. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
انسان کی فطرت میں نامعلوم سے خوف بھی ہے اور اس کے پیچھے کسی معنی کی تلاش بھی۔ جب زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جس کی وجہ فوراً سمجھ میں نہیں آتی تو ذہن بے اختیار کسی سبب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ بیماری کیوں آئی؟ کاروبار اچانک کیوں بند ہو گیا؟ گھر میں بے سکونی کیوں بڑھ گئی؟ رشتوں میں محبت کی جگہ تلخی کیوں آگئی؟ اولاد کے معاملات کیوں بگڑنے لگے؟ ایسے سوالات کا جواب اگر فوری طور پر نہ ملے تو انسان اکثر کسی پوشیدہ طاقت، نظرِ بد یا جادو ٹونے کو وجہ سمجھنے لگتا ہے۔
یہ انسانی نفسیات کا ایک قدیم رویہ ہے۔ نامعلوم کو نام دے دینے سے خوف کچھ کم محسوس ہوتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہر مشکل، ہر ناکامی اور ہر اتفاق کو جادو ٹونے سے جوڑ دیا جائے۔ پھر انسان مسئلے کی اصل وجہ تلاش کرنے کے بجائے ایک ایسے دشمن کی تلاش میں نکل پڑتا ہے جو دکھائی نہیں دیتا مگر جس کا وجود اس کے ذہن میں پوری طرح حقیقت بن چکا ہوتا ہے۔
جادو ٹونے کا تصور دنیا کی قدیم تہذیبوں سے لے کر آج کے جدید معاشرے تک مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی اس حوالے سے کئی روایات، مذہبی تصورات، عوامی قصے اور ثقافتی تصورات پائے جاتے ہیں لیکن ان سب کے درمیان ایک بنیادی فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: کسی عقیدے کا احترام اپنی جگہ۔مگر ہر انسانی مسئلے کی تشریح جادو کے ذریعے کرنا عقل، تحقیق اور ذمہ داری کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
ذرا غور کیجیے، ایک شخص کاروبار میں مسلسل نقصان اٹھاتا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنی کاروباری حکمتِ عملی، مارکیٹ کے حالات، اخراجات اور فیصلوں کا جائزہ لے، کوئی اسے بتا دیتا ہے کہ اس کے کاروبار پر بندش ہے۔ دوسرا شخص طویل عرصے سے ذہنی دباؤ میں ہے مگر اسے سمجھایا جاتا ہے کہ کسی نے اس پر سفلی عمل کرایا ہے۔ ایک گھر میں میاں بیوی کے درمیان اختلافات بڑھتے ہیں تو فوراً کسی دشمن یا رشتہ دار پر شک کیا جانے لگتا ہے۔ یوں ایک حقیقی مسئلے کا راستہ بدل جاتا ہے اور انسان حقیقت کی طرف دیکھنے کے بجائے گمان کے تعاقب میں نکل پڑتا ہے۔
یہیں سے جادو ٹونے کا خوف ایک نفسیاتی اور سماجی مسئلہ کا روپ دھار لیتا ہے۔
خوف کی سب سے بڑی ایمان کی کمزوری ہے۔ خوف ثبوت کا محتاج نہیں ہوتا۔ خوف زدہ ذہن معمولی واقعات کو بھی غیر معمولی معنی دے دیتا ہے۔ گھر میں اچانک کوئی چیز گر جائے تو اسے اشارہ سمجھ لیا جاتا ہے، برا خواب کسی عمل کی علامت بن جاتا ہے، بیماری کو کسی دشمن کی سازش قرار دے دیا جاتا ہے اور اتفاقات ایک مربوط کہانی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ انسان ایک بار کسی خیال کو سچ مان لے تو پھر اسے درست ثابت کرنے والی نشانیاں ہر طرف دکھائی دینے لگتی ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بعض نام نہاد عامل اور جعلی روحانی معالج انسانی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کا طریقۂ کار اکثر بہت سادہ ہوتا ہے: پہلے خوف پیدا کرو، پھر اس خوف کا علاج پیش کرو۔ پریشان شخص کو بتایا جاتا ہے کہ اس پر کسی نے جادو کرایا ہے، گھر میں بندش ہے، کسی قریبی شخص کی نیت خراب ہے یا کوئی سفلی عمل اس کی زندگی کو تباہ کر رہا ہے۔ اس کے بعد علاج کے نام پر رقم، بٹوری جاتی ہے، وقت اور اعتماد حاصل کیا جاتا ہے۔
اس پورے عمل میں سب سے زیادہ نقصان صرف جیب کا نہیں ہوتا، اعتماد کا ہوتا ہے۔
جس شخص کو یقین دلا دیا جائے کہ اس کی تباہی کے پیچھے اس کا کوئی اپنا ہے، وہ اپنے عزیزوں سے بھی بدظن ہو سکتا ہے۔ ساس بہو کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتی ہے، بھائی بھائی پر بدگمان ہو جاتا ہے، میاں بیوی کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں اور بعض اوقات معمولی اختلاف دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا الزام جس کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں، برسوں پرانے تعلق کو لمحوں میں برباد کر سکتا ہے۔
سفلی عملیات کے نام سے وابستہ خوف اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ اس میں راز، تاریکی اور پراسراریت کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ عام آدمی جب ایسی اصطلاحات سنتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ایسی پوشیدہ دنیا کا تصور پیدا ہوتا ہے جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا۔ لاعلمی پھر خوف کو جنم دیتی ہے اور خوف انسان کو ہر اس شخص کے سامنے کمزور کر دیتا ہے جو اعتماد کے ساتھ پراسرار دعوے کرنے کا ہنر جانتا ہو۔
یہاں ہمیں ایک بنیادی سوال ضرور اٹھانا چاہیے: اگر کوئی شخص واقعی ہماری پریشانی کا حل جانتا ہے تو کیا اسے ہمیں خوف زدہ کرنے کی ضرورت ہے؟
صحت مند رہنمائی انسان کو مضبوط بناتی ہے، کمزور نہیں۔ درست مشورہ انسان کو سوال کرنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اس کے برعکس وہ طریقہ جو پہلے خوف پیدا کرے، پھر اسی خوف کے علاج کے نام پر مسلسل پیسے، تعویذ، عملیات یا نئی رسومات کا مطالبہ کرے، اسے تنقیدی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی کے بہت سے مسائل کے اسباب ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے موجود ہوتے ہیں کہ مگر ہم انہیں دیکھنا نہیں چاہتے۔ کاروبار میں نقصان ہو تو غلط منصوبہ بندی تسلیم کرنا مشکل ہے۔ رشتے میں تلخی ہو تو اپنے رویے کا جائزہ لینا آسان نہیں۔ ذہنی پریشانی ہو تو یہ ماننا مشکل لگتا ہے کہ ہمیں جذباتی یا نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔ بیماری ہو تو طبی تشخیص کے بجائے کوئی پراسرار وجہ زیادہ آسان محسوس ہو سکتی ہے۔
انسان کبھی کبھی اپنی غلطی کے مقابلے میں ایک پوشیدہ دشمن کو قبول کرنا زیادہ آسان سمجھتا ہے، کیونکہ پوشیدہ دشمن کے خلاف وہ خود کو بے بس سمجھ سکتا ہے جبکہ اپنی غلطی کے سامنے اسے خود کو بدلنا پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جادو ٹونے کے مسئلے پر محض مذاق اڑانا بھی درست رویہ نہیں۔ جس شخص کے دل میں خوف بیٹھ چکا ہو، اس کے لیے وہ خوف حقیقی ہوتا ہے۔ اسے طعنہ دینے کے بجائے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہر پریشانی کے کئی ممکنہ اسباب ہو سکتے ہیں اور کسی ایک پراسرار وجہ کو حتمی یا سچ مان لینے سے پہلے حقائق دیکھنا ضروری ہے۔
خاص طور پر بیماری کے معاملے میں احتیاط ناگزیر ہے۔ جسمانی علامات کو جادو قرار دے کر علاج میں تاخیر کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح مسلسل خوف، بے چینی، نیند کی خرابی یا غیر معمولی ذہنی دباؤ کو صرف سفلی عمل سمجھ لینا بھی مسئلے کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔ روحانی تسلی اپنی جگہ مگر جسمانی اور ذہنی مسائل کے لیے مناسب طبی مدد سے منہ موڑنا دانش مندی نہیں۔
ہمیں اپنے معاشرے میں ایک ایسی فکری فضا پیدا کرنے کی ضرورت ہے جہاں ایمان اور عقل ایک دوسرے کے مخالف نہ سمجھے جائیں۔ دعا انسان کو حوصلہ دے سکتی ہے، عبادت دل کو سکون دے سکتی ہے اور مذہبی رہنمائی انسان کو اخلاقی قوت فراہم کر سکتی ہے؛ لیکن ان سب کے ساتھ حقیقت پسندانہ سوچ، تحقیق، مشاہدہ اور مناسب عملی اقدام بھی ضروری ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ انسان کو ہر پراسرار بات پر یقین کرنا چاہیے یا ہر روحانی تصور کا مذاق اڑانا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم خوف کے زیرِ اثر فیصلے کر رہے ہیں یا شعور کے ساتھ؟
جادو ٹونے کا سب سے بڑا نقصان شاید وہ چیز نہیں جو اس کے بارے میں کہی جاتی ہے بلکہ وہ خوف ہے جو انسان کے اندر پیدا ہو جاتا ہے۔ جب خوف عقل پر غالب آ جائے تو انسان اپنے ہی سائے سے ڈرنے لگتا ہے۔ اسے ہر ناکامی کے پیچھے سازش، ہر بیماری کے پیچھے عمل اور ہر اختلاف کے پیچھے کسی دشمن کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔
اور جب انسان حقیقت سے زیادہ گمان پر یقین کرنے لگے تو پھر اسے نقصان پہنچانے کے لیے کسی جادو کی ضرورت نہیں رہتی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خوف کو سوال میں، سوال کو تحقیق میں اور تحقیق کو شعوری فیصلے میں تبدیل کریں۔ اگر زندگی میں کوئی مشکل ہے تو پہلے اس کے ظاہری اسباب تلاش کریں، اپنے فیصلوں کا جائزہ لیں، ماہرین سے رجوع کریں اور جہاں ضرورت ہو وہاں طبی یا نفسیاتی مدد حاصل کریں۔ دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے ثبوت مانگیں اور کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں اپنی زندگی نہ دیں جو آپ کی بے بسی کو اپنی طاقت اور آپ کے خوف کو اپنی کمائی بنا لے۔
زندگی میں بہت سے اندھیرے آتے ہیں مگر ہر اندھیرے کے پیچھے جادو نہیں ہوتا۔ بعض اندھیرے ہماری لاعلمی کے ہوتے ہیں، بعض ہماری غلطیوں کے، بعض حالات کے اور بعض ایسے مسائل کے جن کا حل وقت، علم، علاج اور صبر مانگتا ہے۔
شاید اصل روشنی یہی ہے کہ ہم نامعلوم سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ خوف جہاں سوچنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے، وہیں شعور انسان کو اپنے ہی بنائے ہوئے اندھیروں سے باہر نکال لاتا ہے۔
ناول: سنکھنی. مصنفہ: سلمیٰ کشم. تبصرہ نگار: عبدالحفیظ شاہد واہ کینٹ
عنوان: محبت، روزگار اور پیٹ کا آفتاب. سیدہ فضہ بتول
کھیل کے میدان میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
Black Magic Fear Deception




