ناول: سنکھنی. مصنفہ: سلمیٰ کشم. تبصرہ نگار: عبدالحفیظ شاہد واہ کینٹ
اچھے ناول کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے قاری خود کو ناول کا کردار محسوس کرے۔ناول کے کردار اپنی عادتوں، خوشیوں، کمزوریوں اور دکھوں کے ساتھ جیتے جاگتے انسان محسوس ہوں۔ قاری ان کی خوشی میں خوش ہو، ان کی پریشانی میں بے چین ہو اور ان کے بچھڑنے پر واقعی اداس ہو جائے۔ کہانی میں ربط ہو، واقعات دلچسپ ہوں، مکالمے قدرتی ہوں اور زبان میں بناوٹ کا شائبہ تک نہ ہو ۔ کتاب مکمل ہونے کے بعد بہت دیر تک پڑھنے والے کے ذہن میں محفوظ رہے۔
پاکستان کی آزادی اور تقسیمِ ہند کے پس منظر میں لکھے گئے ناولوں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ان میں ہمیں صرف تاریخ کے واقعات نہیں ملتے بلکہ اس تاریخ کو بنانے والے انسان نظر آتے ہیں۔ ہجرت کی تکلیف، بچھڑنے والوں کا دکھ، اجڑتے ہوئے گھر، خوف اور بے یقینی، اپنوں سے جدائی اور ایک نئے وطن کی امید، یہ سب جب کرداروں کی صورت سامنے آتا ہے تو تقسیم سے تشکیل تک دی جانے والی ساری قربانیوں کا احساس ہوتا ہے۔ ایسے ناول ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ آزادی صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں تھی، اس کے پیچھے بے شمار لوگوں کی قربانیاں، جدائیاں اور ان کہی داستانیں بھی تھیں۔
تقسیمِ ہند بھی ایسا ہی ایک زخم ہے جو نقشے پر کھینچی گئی ایک لکیر سے کہیں بڑا تھا۔ اس لکیر کے دونوں طرف کتنے گھر اجڑے، کتنے آنگن ویران ہوئے، کتنے رشتے راستوں میں بچھڑ گئے اور کتنی عورتیں اپنے اندر ایسے دکھ لیے آگے بڑھیں جنہیں لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ سلمیٰ کشم کا ناول ’’سنکھنی‘‘ اسی دکھ بھرے سفر کا احوال ہے۔یہ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں، بلکہ اس عہد کی ان بے شمار عورتوں کی روداد ہے جنہوں نے تاریخ کے ایک ہنگامہ خیز موڑ پر اپنے گھر، اپنی شناخت اور اپنی یادوں کو بچانے کی جدوجہد کی۔
ادب کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ گزرے ہوئے زمانوں کی ایسی آوازیں محفوظ کر دے جو وقت کے شور میں کہیں دب گئی تھیں۔ تاریخ ہمیں واقعات بتاتی ہے، تاریخ کی کتابیں ہمیں سنین اور اعداد و شمار ذہن نشین کرواتی ہیں مگر ادب ان واقعات کے اندر دھڑکتے دل والے انسان کو ہمارے سامنے لے آتا ہے۔ تقسیمِ ہند بھی ہماری تاریخ کا ایسا ہی واقعہ ہے جسے صرف سیاسی فیصلوں، سرحدوں اور ہجرت کے اعداد سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے پیچھے لاکھوں گھروں کی ویرانی، بچھڑتے رشتے، چھوٹتے آنگن، خوف زدہ چہرے اور ایسی یادیں ہیں جن سے کئی نسلیں آج بھی پوری طرح آزاد نہیں ہو سکیں۔ سلمیٰ کشم کا ناول سنکھنی اسی انسانی دکھ کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہے۔
سلمیٰ کشم نے اپنے ناول کے لیے 1947 کا وہ زمانہ منتخب کیا ہے جسے برصغیر کا کوئی حساس دل آسانی سے بھلا نہیں سکتا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس کے نتیجے میں عام انسان نے بہت کچھ کھویا۔ لوگ اپنے گھروں سے نکلے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ واپسی کبھی ممکن ہوگی بھی یا نہیں۔ کسی کے لیے ایک بستی صرف ایک بستی نہیں ہوتی، وہاں اس کے بچپن کی یادیں، بزرگوں کی دعائیں، رشتوں کی یادیں اور زندگی کے بے شمار چھوٹے چھوٹے قصے موجود ہوتے ہیں۔ گھر چھوٹ جائے تو صرف مکان نہیں چھوٹتا بلکہ انسان اپنے اندر کا ایک حصہ بھی وہیں چھوڑ آتا ہے۔
سنکھنی کو پڑھتے ہوئے یہی احساس بار بار سامنے آتا ہے کہ تقسیم کی اصل کہانی سرحد کے دونوں طرف رہنے والے عام لوگوں کی کہانی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے سیاست کے فیصلے نہیں کیے تھے مگر ان فیصلوں کا سب سے بھاری بوجھ انہی کے حصے میں آیا۔ ناول کی خوبی یہ ہے کہ مصنفہ نے اس بڑے تاریخی سانحے کو کسی خشک تاریخی واقعات کی طرح پیش کرنے کے بجائے انسانی زندگی کے قریب لا کر دیکھا ہے۔
ناول کی مرکزی شخصیت سنکھنی ایک عورت ہے، مگر اسے صرف ایک کردار سمجھ کر پڑھنا شاید اس ناول کے اصل دکھ تک پہنچنے کے لیے کافی نہ ہو۔ اس کے وجود میں اس دور کی بہت سی عورتوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ وہ عورتیں جن کے لیے تقسیم کا مطلب صرف گھر بدلنا نہیں تھا۔ ان کے لیے عزت، شناخت، خاندان، تحفظ اور اپنے وجود کو بچائے رکھنے کا سوال بھی ساتھ کھڑا تھا۔ جنگیں اور فسادات جب معاشروں کو توڑتے ہیں تو عورت سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔ اس حقیقت کو ہماری تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے، مگر تاریخ کی کتابوں میں ان عورتوں کی آواز اکثر خاموش کروادی جاتی ہیں۔
مجھے اس ناول میں سب سے زیادہ قابلِ توجہ بات یہی لگی کہ مصنفہ نے عورت کو صرف رونے، سہنے اور حالات کے رحم و کرم پر رہنے والی مخلوق بنا کر پیش نہیں کیا۔ اس کے اندر خوف بھی ہے، بے بسی بھی، لیکن زندگی سے جڑے رہنے کی خواہش بھی ہے۔ حالات انسان کو توڑتے ضرور ہیں مگر ہر انسان یکساں طور پر شکست نہیں کھاتا۔ بعض لوگ اپنے بکھرے ہوئے وجود سے دوبارہ زندگی کا کوئی راستہ نکال لیتے ہیں۔ سنکھنی کا کردار اسی انسانی جدوجہد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
تقسیم کے موضوع پر لکھتے ہوئے ایک خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ تحریر جذباتی نعرے میں بدل جائے یا کسی ایک طبقے کے دکھ کو دوسرے کے دکھ پر ترجیح دینے لگے۔ اس نوع کےموضوعات میں ذرا سی بے احتیاطی بھی کہانی کو انسانی سطح سے اٹھا کر الزام تراشی کے واقعات کا تسلسل بنادیتی ہے لیکن
اس ناول کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ جب ایک ماں اپنے گھر سے جدا ہوتی ہے، جب کسی کے سامنے برسوں سے قاٸم آسودہ زندگی اچانک اجڑ جاتی ہے، جب انسان اپنے ہی ماضی کو پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہوتا ہے تو اس درد کی کوئی مذہبی، سیاسی یا جغرافیائی حد نہیں رہتی۔
ناول کے صفحات میں ایک پورا تہذیبی منظر بھی سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔ وہ معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کو صرف پڑوسی نہیں بلکہ اپنے روزمرہ کے رشتوں کا حصہ سمجھتے تھے۔ محلے، گلیاں، گھر، میل جول، رسم و رواج اور مشترکہ زندگی کا وہ رنگ جسے تقسیم نے ایک ہی جھٹکے میں بدل دیا۔ یہ پہلو ناول کو صرف ایک فرد کی کہانی نہیں رہنے دیتا۔ سنکھنی کے ذریعے ایک ایسے معاشرے کی تصویر سامنے آتی ہے جو وقت کے ایک بڑے حادثے سے گزر رہا ہے۔
سلمیٰ کشم کہانی کو بیان کرنے کے لیے غیر ضروری مشکل الفاظ کا سہارا نہیں لیتیں ان کا بیان نسبتاً سادہ اور رواں ہے کیونکہ جب موضوع خود اتنا مشکل ہو تو ہر جملے کو ثقیل اور فلسفیانہ بنانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ بعض اوقات ایک سیدھی سی بات زیادہ دیر تک دل میں رہتی ہے۔
ناول کی منظر نگاری بھی اس کے ماحول کو قائم رکھنے میں مدد گار ہے۔ اجڑے ہوئے گھر، ہجرت کا خوف، بچھڑنے کا دکھ اور آنے والے کل کی بے یقینی کرداروں کی نفسیات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ لوگ ہجرت کر گئے، ناول ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ جب گھر سے نکلے ہوں گے تو ان کے دل پر کیا گزری ہوگی۔
’’سنکھنی‘‘ کا ایک اہم پہلو اس کا نسائی شعور ہے۔ تقسیم کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لیکن عورت کے تجربے کو سمجھنے کے لیے ابھی بھی بہت کچھ لکھا جانا باقی ہے۔ عورت کے لیے گھر محض چار دیواری نہیں ہوتا۔ اس کے اندر اس کی شناخت، یادیں اور رشتے جڑے ہوتے ہیں۔ جب وہ گھر چھوٹتا ہے تو اس کے ساتھ بہت کچھ اور بھی چھوٹ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسے ہنگامہ خیز حالات میں عورت کے جسم اور عزت کو بھی جنگ اور دشمنی کا میدان بنا دیا جاتا ہے۔ ’’سنکھنی‘‘ اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یوں تقسیم کے ایک ایسے پہلو کو سامنے لاتی ہے جس پر بات کرتے ہوئے آج بھی ہمارے معاشرے میں جھجھک محسوس کی جاتی ہے۔
ایک اور بات جو ’’سنکھنی‘‘ کے بعد دیر تک ذہن میں رہتی ہے، وہ شناخت کا سوال ہے۔ آخر انسان کی شناخت کیا ہے؟ اس کا گھر؟ اس کی زمین؟ اس کے رشتے؟ اس کی زبان؟ یا اس کی یادیں؟ اگر انسان سے یہ سب کچھ چھین لیا جائے تو وہ اپنے آپ کو کہاں تلاش کرے گا؟ ہجرت کرنے والا شخص نئی زمین پر پہنچ تو جاتا ہےمگر کیا اس کا ماضی بھی وہیں پہنچ جاتا ہے؟ شاید نہیں۔ ماضی انسان کے ساتھ چلتا رہتا ہے، کبھی یاد بن کر، کبھی خواب بن کر اور کبھی ایک ایسے دکھ کی صورت میں جس کا نام بھی نہیں رکھا جا سکتا۔
اسی لیے ’’سنکھنی‘‘ کو صرف تقسیمِ ہند کے پس منظر میں لکھی گئی کہانی کہنا اس کے دائرے کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ دراصل انسان کے اپنے وجود کو بچانے کی کہانی بھی ہے۔ حالات جب انسان سے اس کا اختیار چھین لیتے ہیں تو وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں زندگی کی کوئی امید تلاش کرتا ہے۔ یہی امید اسے زندہ رکھتی ہے۔
سلمیٰ کشم نے اس ناول میں ایک ایسے موضوع کو چناہے جس کے ساتھ ہماری اجتماعی یادداشت آج بھی جذباتی طور پر جڑی ہوئی ہے۔ تقسیم کو گزرے کئی دہائیاں بیت چکی ہیں مگر اس کے قصے آج بھی گھروں میں سنائے جاتے ہیں۔ کسی کے دادا کی ہجرت کی کہانی، کسی دادی کے گھر کا ذکر، کسی پرانے شہر کا نام اور کسی گم شدہ رشتے کی یاد آج بھی ہمارے بزرگوں کی گفتگو میں زندہ ہے۔ شاید یہی کسی تاریخی واقعے کی سب سے بڑی گواہی ہوتی ہے کہ وقت اسے پرانا کر دے مگر لوگوں کے دل اسے بھولنے پر آمادہ نہ ہوں۔
’’سنکھنی‘‘ پڑھتے ہوئے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کو صرف فاتحین، حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل تاریخ ان لوگوں کے دلوں میں بھی لکھی ہوتی ہے جنہوں نے خاموشی سے سب کچھ سہا ہوتا ہے۔ وہ عورت جو اپنے گھر کی دہلیز سے آخری بار مڑ کر دیکھتی ہے، وہ بچہ جو اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے کسی اجنبی راستے پر چل پڑتا ہے، وہ بوڑھا جو اپنی مٹی چھوڑنے پر مجبور ہوتا ہے، ان سب کی کہانیاں بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ادب انہی چھوٹی دکھائی دینے والی کہانیوں کو بڑی انسانی معنویت عطا کرتا ہے۔
میری نظر میں ’’سنکھنی‘‘ کی اصل خوبی یہی ہے کہ یہ قاری کو صرف 1947 کے بارے میں سوچنے پر مجبور نہیں کرتی بلکہ انسان کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ نفرت جب اجتماعی صورت اختیار کر لے تو سب سے پہلے کون زخمی ہوتا ہے؟ جواب شاید بہت سادہ ہے کہ عام انسان۔
سلمیٰ کشم نے اپنے ناول کے ذریعے ماضی کے ایک دردناک باب کو ایک عورت کی زندگی کے مختلف زاویوں میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ کہیں یہ آئینہ دھندلا ہے، کہیں اس میں آنسوؤں کی نمی ہے اور کہیں زندگی کی وہ ہلکی سی روشنی بھی دکھائی دیتی ہے جو بڑے سے بڑے اندھیرے میں انسان کو مکمل طور پر ٹوٹنے نہیں دیتی۔
’’سنکھنی‘‘ ختم کرنے کے بعد قاری کے ذہن میں شاید سب سے زیادہ یہی خیال رہ جاتا ہے کہ سرحدیں نقشے پر کھینچی جاتی ہیں، مگر ان کے اثرات انسانوں کے دلوں پر اترتے ہیں۔ نقشے بدلنے میں ایک لمحہ لگتا ہے لیکن بچھڑے ہوئے گھروں اور رشتوں کی یاد نسلوں تک چلتی ہے۔ اسی لیے تقسیم ہمارے لیے صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، ایک زندہ انسانی تجربہ ہے۔
سلمیٰ کشم نے اس تجربے کو ایک عورت کے دکھ، اس کی بے یقینی اور اس کی جدوجہد کے ذریعے بیان کیا ہے۔ وہاں نہ اعداد باقی رہتے ہیں، نہ سرحدوں کی لکیریں، نہ بڑے بڑے سیاسی فیصلے، صرف ایک انسان رہ جاتا ہےجسے اپنے گھر، اپنی شناخت اور اپنی یادوں کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔
اور شاید اچھے ناول کی یہی پہچان ہے کہ کتاب بند کرنے کے بعد کہانی ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ دیر تک ہمارے اندر چلتی رہتی ہے، کچھ سوال چھوڑ جاتی ہے اور ہمیں اپنے ماضی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ ’’سنکھنی‘‘ بھی ایسی ہی کتاب ہے۔ یہ تقسیم کے زخموں کو کریدنے کے لیے نہیں بلکہ ان زخموں کے اندر چھپی انسانی داستان کو سننے کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہی احساس اسے قابلِ توجہ بناتا ہے اور یہی اسے سلمیٰ کشم کے تخلیقی سفر میں ایک اہم کاوش قرار دینے کے لیے کافی ہے۔
سلمیٰ کشم صاحبہ آپ نے یہ ناول لکھ کر ایک تاریخ رقم کر دی ہے اور بلا شبہ تاریخ میں آپ کا نام سنہری الفاظ میں محفوظ رہے گا ۔آپ کے قلم کی زرخیزی کے لیے لاکھوں دعائیں۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے ،شاداب رہیں۔ زندگی اور توانائی سے بھرپور رہیں۔
Novel Sankhini




