کھیل کے میدان میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
کسی بھی قوم کی پہچان صرف اس کی معیشت، سیاست یا دفاع سے نہیں ہوتی بلکہ کھیل بھی قومی شناخت کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں۔ کھیل کے میدان میں کامیابی قوموں کے حوصلے بلند کرتی ہے، نوجوانوں کو مثبت سمت دیتی ہے اور دنیا کے سامنے ملک کا خوب صورت تعارف پیش کرتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ بھی کھیلوں کی شاندار کامیابیوں سے خالی نہیں۔ کرکٹ میں عالمی اعزازات، ہاکی میں اولمپک اور عالمی سطح کی فتوحات، اسکواش میں طویل حکمرانی، اسنوکر، کبڈی، کشتی اور دیگر کھیلوں میں نمایاں کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی سرزمین ٹیلنٹ سے مالا مال ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر آج کھیل کے میدان میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان نے کھیلوں کی دنیا میں ایک قابلِ ذکر مقام حاصل کیا تھا۔ ہاکی کبھی ہماری قومی شناخت سمجھی جاتی تھی۔ اسکواش میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے برسوں عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا۔ کرکٹ میں بھی پاکستان نے کئی یادگار کامیابیاں حاصل کیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے بہت سے کھیلوں میں اپنی برتری برقرار نہیں رکھی۔ بنیادی ڈھانچے کی کمزوری، مناسب تربیت کا فقدان، میرٹ پر سمجھوتہ، کھیلوں کے اداروں میں انتظامی مسائل اور مستقل منصوبہ بندی کی کمی نے ہمارے کھیل کو نقصان پہنچایا۔
پاکستان میں کھیلوں کے ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ گلی، محلے اور اسکول کے میدانوں میں روزانہ ایسے بچے کھیلتے نظر آتے ہیں جن میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان بچوں کی صلاحیت کو دریافت کرنے اور اسے عالمی معیار کی تربیت میں تبدیل کرنے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ ایک غریب گھرانے کا باصلاحیت بچہ اگر کھیل میں آگے بڑھنا چاہے تو اسے اکثر وسائل، کوچنگ، سفری اخراجات، کٹس اور مناسب میدان کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں بے شمار صلاحیتیں ابتدائی مرحلے ہی میں دم توڑ دیتی ہیں۔
اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں کھیل کو محض تفریح نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے باقاعدہ صنعت اور قومی پالیسی کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اسکول کی سطح سے کھلاڑیوں کی شناخت کی جاتی ہے، انہیں جدید تربیت دی جاتی ہے، غذائیت اور فٹنس کا خیال رکھا جاتا ہے اور ان کی کارکردگی کو سائنسی بنیادوں پر جانچا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اگر اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے کھیلوں کو مضبوط کر دیا جائے تو ایک وسیع ٹیلنٹ پول سامنے آ سکتا ہے۔
کرکٹ کی بات کی جائے تو یہ پاکستان کا سب سے مقبول کھیل ہے۔ پاکستانی عوام کرکٹ سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ ایک میچ کی جیت پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑا دیتی ہے اور شکست کئی دنوں تک موضوعِ بحث بنی رہتی ہے۔ کرکٹ نے پاکستان کو عالمی سطح پر کئی یادگار لمحے دیے ہیں، لیکن صرف کرکٹ پر انحصار کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ اگر ہم کھیلوں میں حقیقی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں ہاکی، اسکواش، ایتھلیٹکس، تیراکی، باکسنگ، کشتی، کبڈی، بیڈمنٹن، جیولین تھرو اور دیگر کھیلوں پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
خاص طور پر ایتھلیٹکس اور اولمپک کھیلوں میں ہماری کارکردگی اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اپنی پالیسی پر سنجیدگی سے غور کریں۔ دنیا میں کھیلوں کی بڑی طاقتیں صرف ایک کھیل کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہوتیں۔ وہ مختلف کھیلوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں اور برسوں کی منصوبہ بندی کے ذریعے عالمی سطح کے کھلاڑی پیدا کرتی ہیں۔ پاکستان کو بھی فوری نتائج کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی اپنانا ہوگی۔
کھیلوں کی ترقی میں حکومت کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے لیکن سارا بوجھ حکومت پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ نجی شعبہ، تعلیمی ادارے، میڈیا اور کھیلوں کی فیڈریشنز بھی برابر کی ذمہ دار ہیں۔ کارپوریٹ ادارے اگر کھیلوں کی سرپرستی کریں تو کھلاڑیوں کو مالی تحفظ مل سکتا ہے۔ اسکول اور جامعات باقاعدہ کھیلوں کے مقابلے منعقد کریں تو نوجوانوں کو مواقع مل سکتے ہیں۔ میڈیا اگر صرف بڑے کرکٹ مقابلوں کے بجائے دوسرے کھیلوں اور کھلاڑیوں کو بھی مناسب کوریج دے تو کھیلوں کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ میرٹ کا ہے۔ کھیل میں سفارش اور اقربا پروری کسی بھی ملک کے ٹیلنٹ کو تباہ کر سکتی ہے۔ قومی ٹیم میں جگہ اس کھلاڑی کو ملنی چاہیے جو واقعی بہتر کارکردگی دکھائے۔ انتخاب کا نظام شفاف، قابلِ احتساب اور اعداد و شمار پر مبنی ہونا چاہیے۔ کسی بھی کھلاڑی کے لیے نام، تعلقات یا سفارش کے بجائے کارکردگی اس کی پہچان بننی چاہیے۔
خواتین کے کھیل بھی ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ پاکستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن کھیلوں میں خواتین کی شرکت اب بھی اپنی حقیقی صلاحیت کے مقابلے میں محدود ہے۔ اگر محفوظ سہولیات، مناسب تربیت، حوصلہ افزائی اور برابر مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستانی خواتین عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں۔ کھیل صرف مردوں کا میدان نہیں، خواتین کو برابر کے مواقع دینا معاشرتی اور قومی ترقی دونوں کے لیے ضروری ہے۔
کھیلوں کی ترقی کا تعلق صرف میڈلز اور ٹرافیوں سے بھی نہیں۔ کھیل نوجوانوں کو نظم و ضبط، برداشت، ٹیم ورک، قیادت اور شکست کو قبول کرنے کا حوصلہ سکھاتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں جہاں نوجوان مختلف ذہنی اور سماجی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں، کھیل انہیں صحت مند سرگرمی اور مثبت مقصد فراہم کرتے ہیں۔ کھیلوں کے میدان آباد ہوں تو معاشرے میں کئی منفی سرگرمیوں کے لیے جگہ خود بخود کم ہو جاتی ہے۔
تو پھر سوال وہیں کھڑا ہے: کھیل کے میدان میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم صلاحیت کے اعتبار سے بہت آگے، لیکن نظام اور منصوبہ بندی کے اعتبار سے ابھی بہت پیچھے ہیں۔ ہمارے پاس باصلاحیت نوجوان ہیں، کھیل سے محبت کرنے والی قوم ہے اور ماضی کی شاندار روایات بھی موجود ہیں، کمی اگر ہے تو مستقل مزاجی، ادارہ جاتی اصلاح اور طویل مدتی حکمتِ عملی کی۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کھیلوں کو صرف جیت اور ہار کے دن یاد کرنا ہے یا انہیں قومی ترقی کا مستقل حصہ بنانا ہے۔ اگر اسکول سے قومی سطح تک ایک مضبوط نظام قائم کیا جائے، میرٹ کو یقینی بنایا جائے، جدید کوچنگ اور سہولیات فراہم کی جائیں اور کھلاڑیوں کو معاشی و ادارہ جاتی تحفظ دیا جائے تو پاکستان دوبارہ کھیلوں کی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتا ہے۔
قومیں صرف خواب دیکھنے سے کامیاب نہیں ہوتیں، خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے منصوبہ بندی، وسائل اور مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ پاکستان کے پاس ٹیلنٹ بھی ہے، جذبہ بھی اور کھیلوں کی شاندار تاریخ بھی۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان تینوں کو ایک مضبوط نظام میں جوڑ دیں۔ شاید پھر آنے والے برسوں میں یہ سوال نہ پوچھنا پڑے کہ کھیل کے میدان میں پاکستان کہاں کھڑا ہے، بلکہ دنیا خود پوچھے کہ پاکستان اتنی تیزی سے آگے کیسے نکل گیا۔
فلسطین ملبے تلے دفن خواب ، اور انسانیت سے سوال. بتول فاطمہ
شگر ، کڑوس تھنگ پر تجاوزات کے خلاف عدالتی حکم، متعلقہ افسران کو نوٹس جاری، انتظامیہ عمل درامد میں ناکام
Pakistan Stand in the Sporting Arena




