column in urdu 0

فلسطین ملبے تلے دفن خواب ، اور انسانیت سے سوال. بتول فاطمہ
فلسطین کے ملبے میں صرف اینٹیں نہیں دبیں، وہاں بچوں کے خواب، ماؤں کی دعائیں، باپوں کی امیدیں اور بیٹیوں کے مستقبل بھی دفن ہو رہے ہیں۔ ایک صحافی کیمرہ اٹھائے کھڑا ہے۔ اس کے سامنے ایک بچہ ملبے کے پاس بیٹھا اپنے گھر والوں کو تلاش کر رہا ہے۔ وہ شاید ابھی اتنا بڑا بھی نہیں کہ دنیا کے فیصلوں کو سمجھ سکے، مگر اتنا ضرور سمجھتا ہے کہ اس کا گھر اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ کہیں ایک ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے، کہیں ایک باپ اپنے خاندان کے لیے پانی تلاش کر رہا ہے، کہیں ایک زخمی بچہ دوا کا منتظر ہے، اور کہیں ایک بیٹی دنیا سے صرف اتنا کہہ رہی ہے: “ہمیں بھول مت جانا۔” مگر فلسطین کی داستان صرف آج کے ملبے تک محدود نہیں۔ حالیہ دنوں میں غزہ نے ایک ایسا منظر بھی دیکھا جس نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینا چاہیے تھا۔ 4 اگست 2026 کو غزہ سٹی میں 112 فلسطینیوں کی اجتماعی تدفین ہوئی، جن کی باقیات تقریباً تین سال تک ملبے تلے دبی رہی تھیں۔ ان میں 40 سے زائد بچے بھی شامل تھے۔ یہ لوگ نومبر 2023 میں تباہ ہونے والی رہائشی عمارتوں کے ملبے سے حال ہی میں نکالے گئے تھے۔ ایک ہی خاندان کے درجنوں افراد، عورتیں، بچے، بزرگ سب ایک ساتھ موت کی نذر ہوئے، اور پھر برسوں بعد ان کے جنازے ایک ساتھ اٹھے۔ کتنی عجیب اور تکلیف دہ بات ہے کہ جن لوگوں کو ایک دن اپنے پیاروں کو دفن کرنا تھا، وہ برسوں تک ملبے کے نیچے اپنے عزیزوں کی باقیات ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ اور یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں۔ غزہ میں ایسے کتنے ہی لوگ ہیں جن کے پیارے اب بھی ملبے کے نیچے ہیں، جن کے نام پکارنے والا شاید کوئی باقی نہیں رہا، جن کے گھروں کا نشان تک مٹ چکا ہے۔ ایک طرف جنازوں کی قطاریں ہیں، دوسری طرف وہ بچے ہیں جو بھوک، پیاس اور خوف کے درمیان بڑے ہو رہے ہیں۔ کوئی بچہ اپنے گھر کی تصویر سنبھالے بیٹھا ہے، کوئی اپنی ماں سے لپٹا ہوا ہے، کوئی اپنے باپ کو ڈھونڈ رہا ہے، اور کوئی شاید یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کے کھیلنے کی جگہ اب ملبے کا ڈھیر کیوں بن گئی ہے۔ کہیں ایک ماں اپنے بچے کے لیے روٹی کا ٹکڑا تلاش کرتی ہے، کہیں ایک باپ پانی کی ایک بوتل کے لیے گھنٹوں انتظار کرتا ہے، کہیں ایک ڈاکٹر محدود وسائل میں زخمیوں کا علاج کر رہا ہے، اور کہیں ایک صحافی دنیا کو وہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے جسے دیکھنا شاید بہت سے لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دیکھ لینا کافی ہے؟ کیا چند لمحوں کے لیے آنکھوں میں آنسو آ جانا کافی ہے؟ کیا ایک پوسٹ شیئر کر دینا ہماری ذمہ داری پوری کر دیتا ہے؟ ہم میں سے بہت سے لوگ سوچتے ہیں: ہم فلسطین سے دور ہیں، ہم وہاں پہنچ نہیں سکتے، ہم کسی زخمی بچے کو اپنی گود میں نہیں اٹھا سکتے، ہم کسی ملبے سے کسی ماں کو اس کا بچہ واپس نہیں لا سکتے۔ یہ سب درست ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ ہم اپنی استطاعت کے مطابق مستند امدادی اداروں کے ذریعے عطیہ دے سکتے ہیں۔ خوراک، صاف پانی، طبی امداد، پناہ اور بنیادی ضروریات فراہم کرنے والی قابلِ اعتماد تنظیموں تک اپنا حصہ پہنچا سکتے ہیں۔ ہم غیرمصدقہ تصاویر اور افواہوں کے بجائے معتبر معلومات شیئر کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کو بتا سکتے ہیں کہ فلسطین کے بچوں کا دکھ صرف ایک خبر نہیں، ایک انسانی المیہ ہے۔ مدد ہمیشہ بڑی رقم کا نام نہیں۔ کبھی کسی کا دیا ہوا تھوڑا سا حصہ کسی بچے کے لیے ایک وقت کا کھانا بن جاتا ہے، کسی زخمی کے لیے دوا، کسی خاندان کے لیے پانی اور کسی بے گھر انسان کے لیے ضروری سامان۔ ہم ہر ملبہ نہیں اٹھا سکتے، مگر ایک زندگی کا بوجھ ہلکا کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ہم ہر بچے کو اس کا گھر واپس نہیں دے سکتے، مگر کسی بچے تک خوراک اور دوا ضرور پہنچا سکتے ہیں۔ ہم ہر ماں کا غم ختم نہیں کر سکتے، مگر اس کے لیے مدد کا ہاتھ ضرور بڑھا سکتے ہیں۔ ہم ہر جنازے کو روک نہیں سکتے، مگر زندہ انسانوں کی زندگی بچانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ فلسطین کے بچے ہماری صرف آنکھوں کے آنسو نہیں مانگ رہے، وہ ہماری انسانیت کا عملی ثبوت مانگ رہے ہیں۔ ان 112 جنازوں کی قطاروں کو یاد رکھیے۔ ان بچوں کے چہروں کو یاد رکھیے۔ ان ماؤں کی دعاؤں کو یاد رکھیے جو اپنے بچوں کے لیے صرف زندگی مانگ رہی ہیں۔ اور اس بیٹی کے پیغام کو یاد رکھیے جو دنیا سے کہتی ہے: “ہمیں بھول مت جانا۔” کیونکہ شاید سب سے بڑا ظلم صرف یہ نہیں کہ انسان مر جائے؛ ایک ظلم یہ بھی ہے کہ دنیا اس کے مرنے کے بعد اسے بھول جائے۔ تو آئیے، صرف افسوس نہ کریں۔ اپنی استطاعت کے مطابق مدد کریں، اپنی آواز کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں، مستند ذرائع سے معلومات لیں اور جہاں ممکن ہو انسانوں تک انسانیت پہنچائیں۔ کیونکہ ہم ہر گھر نہیں بچا سکتے، ہر زخمی کو شفا نہیں دے سکتے، ہر بچے کو اس کا کھلونا واپس نہیں دے سکتے، ہر ماں کو اس کا بیٹا واپس نہیں لا سکتےمگر ہم بے حسی کو اپنا مقدر بنانے سے انکار ضرور کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھی تاریخ ہم سے یہ نہیں پوچھتی کہ ہم نے کتنا محسوس کیا تھا۔ اغیرت یہ پوچھتی ہے: جب تمہارے سامنے انسانیت پکار رہی تھی، جب ملبے کے نیچے بچے دبے تھے، جب ماؤں کی دعائیں آسمان کی طرف اٹھ رہی تھیں، جب جنازے ایک ساتھ اٹھ رہے تھے، تب تم نے کیا کیا؟

column in urdu

50% LikesVS
50% Dislikes

فلسطین ملبے تلے دفن خواب ، اور انسانیت سے سوال. بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں