عنوان: محبت، روزگار اور پیٹ کا آفتاب. سیدہ فضہ بتول
کسی اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوں تو ڈاکٹر سب سے پہلے اس مریض کی طرف بھاگتا ہے جس کی سانسیں اکھڑ رہی ہوں، نہ کہ اس کی طرف جس کا دل ٹوٹا ہو۔ زندگی کا نظام بھی بالکل اسی ایمرجنسی وارڈ جیسا ہے۔ محبت دل کی بیماری ہو سکتی ہے، مگر روزگار سانس کا مسئلہ ہے—اور جب سانس ہی بند ہونے لگے تو دل کا درد ثانوی بن جاتا ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں دل ٹوٹنے کا شور صرف کمرے کی چار دیواری میں سنائی دیتا ہے، مگر جیب خالی ہونے کا سناٹا پورے شہر میں رسوا کر دیتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ “محبت سب سے بڑا روگ ہے”، لیکن صبح اٹھ کر جب انسان کو اپنی روزمرہ کی ضرورتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو عقل چیخ کر کہتی ہے کہ “نہیں! خالی پیٹ اور خالی جیب اس سے بھی بڑا روگ ہے”۔
تو آخر سچا اور بڑا دکھ کون سا ہے؟ دل کا ٹوٹنا یا روٹی کا نہ ملنا؟
اگر ہم نفسیاتی اور جذباتی لحاظ سے دیکھیں تو محبت کا دکھ انسان کی روح کو اندر سے جلا دیتا ہے۔ جب کوئی شخص، جو آپ کی دنیا کا مرکز تھا، اچانک الگ ہو جائے تو دنیا کا ہر رنگ بے معنی لگتا ہے۔ کھانا زہر اور روشنیاں تاریکی محسوس ہوتی ہیں۔ شاعروں نے داستانیں لکھیں، مجنوں صحراؤں میں بھٹکا اور فرہاد نے نہرِ شیر کھود ڈالی۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ محبت کا دکھ انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ وہ درد ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر انسان کے وجود کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔
لیکن چہرے سے آنسو پونچھ کر ذرا بازار کا رخ کیجیے۔ وہاں آپ کو روزگار کا دکھ ننگے پاؤں اور نڈھال صورتوں میں گھومتا نظر آئے گا۔
روزگار کا دکھ محبت کے دکھ سے اس لیے مختلف اور خوفناک ہے کیونکہ یہ صرف آپ کی ذات تک محدود نہیں رہتا۔ محبت کا دکھ ایک شخص کا ذاتی المیہ ہو سکتا ہے، لیکن روزگار کا نہ ہونا پورے خاندان کا المیہ بن جاتا ہے۔ جب گھر میں بوڑھے باپ کی دوا ختم ہو جائے، چھوٹے بہن بھائیوں کی اسکول کی فیس دینی ہو، اور کچن میں راشن کا آخری ڈبہ بھی خالی ہو جائے تو اس وقت محبت کے سارے فلسفے دھڑام سے نیچے آ گرتے ہیں۔
ایک فرانسیسی مفکر نے سچ کہا تھا کہ “پیٹ کا آفتاب ابھرتا ہے تو محبت کے سارے ستارے غروب ہو جاتے ہیں”۔ جب پیٹ میں بھوک کی آگ جلتی ہے تو خوبصورت سے خوبصورت چہرہ بھی روٹی کے گول پیڑے جیسا نظر آنے لگتا ہے۔ انسان جب تک معاشی طور پر مستحکم نہ ہو، وہ محبت اور تعلقات کو سنبھالنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ اکثر ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں کہ ہزاروں خوبصورت اور سچے تعلقات صرف اس لیے دم توڑ گئے کیونکہ لڑکا “سیٹل” نہیں تھا، یا اس کے پاس اتنی آمدن نہیں تھی کہ وہ ایک نئے رشتے کا بوجھ اٹھا سکتا۔
دراصل محبت اور روزگار میں ایک گہرا منطقی تعلق ہے۔ محبت انسان کی ترجیح ہو سکتی ہے، لیکن روزگار انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اور جب ضرورت اور ترجیح میں ٹکراؤ ہوتا ہے، تو فتح ہمیشہ ضرورت کی ہوتی ہے۔ محبت پھول کی مانند ہے، مگر روزگار وہ زمین اور کھاد ہے جس پر وہ پھول کھلتا ہے۔ اگر زمین ہی بنجر ہو جائے اور پانی نہ ملے تو پھول مرجھا کر جھڑ جاتا ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ محبت کا دکھ سہنا بھی ایک طرح سے تبھی ممکن ہے جب روٹی کا مسئلہ حل ہو۔ جس شخص کو صبح شام یہ فکر ہو کہ رات کا کھانا کہاں سے آئے گا، اس کے پاس اتنا وقت اور سکون ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی یاد میں بیٹھ کر آنسو بہائے یا چاند کو دیکھ کر آہیں بھرے۔ اس کے لیے تو آسمان کا چاند بھی روٹی کا ایک ٹکڑا معلوم ہوتا ہے۔ محبت انسان کو شاعر بناتی ہے، لیکن روزگار انسان کو بالغ اور باسیلیقہ بناتا ہے۔ محبت انسان کو خواب دکھاتی ہے، اور روزگار ان خوابوں کی قیمت وصول کرتا ہے۔
معاشرتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو معاشی بدحالی انسان کی خودداری اور وقار پر سب سے بڑا حملہ کرتی ہے۔ ایک شخص جو اپنے پیاروں کی بنیادی ضرورتیں پوری نہ کر سکے، وہ اندر ہی اندر لمحہ بہ لمحہ مرتا ہے۔ اس کے برعکس محبت کی ناکامی اگرچہ تکلیف دہ ہے، لیکن وہ انسان کے بنیادی انسانی حقوق اور معاشرتی حیثیت کو ختم نہیں کرتی۔ روزگار کا چھن جانا انسان کو دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں خودداری کا قتل ہوتا ہے۔
ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ دونوں دکھ اپنی اپنی جگہ سچے اور جان لیوا ہیں۔ محبت کا دکھ انسان کے اندر کا جلاؤ ہے اور روزگار کا دکھ باہر کی سختی۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ محبت کا دکھ سہنے کے لیے بھی انسان کا زندہ رہنا اور بنیادی ضرورتوں کا پورا ہونا ضروری ہے۔
یہ سچ ہے کہ روزگار کبھی محبت کا بدل نہیں بن سکتا اور نہ ہی پیسہ کسی کو سچی محبت کی ضمانت دے سکتا ہے، لیکن یہ انسان کو اتنی توانائی، سہارا اور خودداری ضرور دیتا ہے کہ وہ زندگی کے کسی بھی طوفان کا مقابلہ کر سکے۔
لہٰذا اگر آپ کی زندگی میں محبت کا دکھ ہے تو اسے ضرور محسوس کیجیے، مگر یہ یاد رکھیے کہ زندگی صرف ایک جذبے کا نام نہیں۔ اور اگر روزگار کا دکھ ہے تو پہلے اس بنیاد کو مضبوط کیجیے، کیونکہ محبت کا زخم انسان کو اندر سے توڑتا ہے لیکن بے روزگاری انسان کی خودداری، عزتِ نفس اور نسلوں کے مستقبل کا سودا کروا دیتی ہے۔
Sun of Love Livelihood




